صعصعہ بن صوحان ایک بڑے خطیب اور کاتب تھا یہ مسلمان تو دور رسالت میں ہوئے مگر محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے ملاقات نہ ہو سکی۔ ان کی ولادت 598ء کو تاروت میں ہوئی۔

صعصعہ بن صوحان
معلومات شخصیت
تاریخ پیدائش سنہ 598  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تاریخ وفات سنہ 666 (67–68 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

سوانحترميم

ابن سعد نے طبقات میں لکھا :”یہ کو فہ میں بہت بڑے خطیب اور مقرر تھے اور علی کے ساتھی تھے۔ یہ صعصعہ اور ان کے بھائی زید اور سیحان جنگ جمل میں علی کے ساتھ تھے سیحان کے ہاتھ میں پہلے لشکر کا علم تھا وہ شہید ہو گئے توان کے بھائی زید نے علم لے لیا اور جب وہ بھی شہید ہو گئے تو صعصعہ نے علم ہاتھوں میں لے لیا۔[1]

بحیثیتِ محدثترميم

صعصعہ بن صوحان نے علی بن ابی طالب اور ابن عباس سے احادیث روایت کی ہیں یہ بڑے معتمد و موثق شخص تھے مگر ان کی حدیثیں کم ہیں۔ صعصعہ بن صوحان کے متعلق جاحظ اپنی کتاب ’’ البیان ‘‘ میں صعصعہ بن صوحان کی خطابت و فصاحت و بلاغت کے بارے میں لکھتا ہے : وَ أَدَلُّ مِن کُلِّ شَیءِِ اِستِنطاقُ عَلِی لَه، سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ علی اس کو خطابت کرنے کا حکم دیتے تھے اور اس کی خطابت کو سنتے تھے[1]

علی کے صحابیترميم

صعصعہ بن صوحان ابو الحسن کے اصحاب میں شامل ہیں۔ انہوں نے ابو الحسن کی تمام جنگوں میں شرکت کی۔[2]وہ ان اولین افراد میں شامل ہیں جنہوں نے امیر المؤمنین ابو الحسن کے ساتھ بیعت کی۔[3]

وفاتترميم

صعصعہ بن صوحان نے 666ء میں کوفہ، عراق میں وفات پائی۔

حوالہ جاتترميم

  1. ^ ا ب طبقات ابن سعد مترجم اردو جلد 3 ص266
  2. ابن اثیر، اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ، ج 3، ص 20۔
  3. یعقوبی ،تاریخ یعقوبی، ج 2، ص 179