ضیاء مودی (پیدائش: 19 جولائی، 1956ء) ایک بھارتی قانونی مشیر ہے۔ انہیں تجارتی تاسیسات کے انضمام اور حصول، سیکیوریٹیز قانون، نجی حصے داری اور پروجیکٹ کے مالیات پر سند کا درجہ حاصل ہے۔ وہ ایک پارسی خاندان میں سولی سہراب جی کے گھر پیدا ہوئی ہیں۔ وہ بہائیت کی ایک فعال رکن ہیں۔

ضیاء مودی
Zia Mody at WEF.png

معلومات شخصیت
پیدائش 19 جولائی 1956ء (عمر 64 سال)
ممبئی، بھارت
شہریت Flag of India.svg بھارت  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
نسل پارسی
مذہب بہائیت
عملی زندگی
مادر علمی کیمبرج یونیورسٹی
ہارورڈ یونیورسٹی
پیشہ مینیجنگ پارٹنر، اے زیڈ پی اینڈ پارٹنرز

سوانحترميم

مودی کی ابتدائی تعلیم ایلفینسٹون کالج، ممبئی میں ہوئی۔[1] انہوں نے سیلوین کالج، کیمبرج میں قانون کی پڑھائی کی۔ آگے انہوں نے قانون میں ماسٹرز کی ڈگری ہارورڈ لا اسکول سے 1979ء میں حاصل کی۔[2] وہ نیو یارک ریاستی بار امتحان کامیاب کر چکی ہیں اور اُس ریاست میں اٹارنی کے طور پر اہل ہیں۔ وہ بیکر اینڈ میک کینزی کے یہاں 5 سال کام کر چکی ہیں، تاہم شوہر کی درخواست پر بھارت لوٹ آئی ہیں۔[1]

ممبئی میں اپنا پیشہ ورانہ کام انہوں نے 1984ء میں شروع کیا، جب اس نے دو فرموں کا انضمام کرکے اے زیڈ پی اینڈ پارٹنرز کو تشکیل کیا، [1] جو بھارت میں سب سے بڑی لا فرموں میں سے ایک ہے اور جہاں وہ مینیجنگ پارٹنر ہیں۔[3] اس فرم میں مودی کا 40 فی صد قانونی عملہ کام کرتا ہے۔[2] اس کے علاوہ وہ سیکیوریٹیز اینڈ ایکسچینج بورڈ آف انڈیا کی میوچوئل فنڈز پر مجلس قائمہ کی رکن ہیں اور فیڈریشن آف انڈین چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی سرمایہ بازار کمیٹی کی بھی رکن ہیں۔

مذہبی رجحاناتترميم

ایک پارسی گھرانے سے آنے کے باوجود مودی بہائی فرقے کی ایک سرگرم رکن ہیں۔[1][4]

اسکولی تعلیم سے دلچسپیترميم

مودی نیو ایرا ہائی اسکول کے بورڈ کی رکن بھی ہے۔[5]

ازدواجی زندگیترميم

مودی تین بیٹیوں کی ماں ہے اور تجارتی دنیا میں ایک سرکردہ شخصیت جے دیو مودی کی زوجیت میں ہیں۔ وہ ممبئی، بھارت میں رہتی ہیں۔

کامیابیاںترميم

بزنس ٹوڈے نے مودی کو بھارت کی 25 سب سے طاقتور خواتین کی فہرست میں 2011ء سے شامل کیا۔[3][4][6] انہیں فائنانشیل ایکسپریس کی جانب سے سال کی سب سے زیادہ معلومات گیرندہ پیشہ ور (Knowledge Professional of the Year Award) اعزاز سے نوازا۔ دی اکنامک ٹائمز نے انہیں بھارت کی 100 سب سے طاقتور چیف ایگزیکیٹیو آفیسرز میں سے ایک کا اعزاز سے 2004ء اور 2006ء میں نوازا۔

حوالہ جاتترميم

  1. ^ ا ب پ ت Amarnath، Nichinta؛ Ghosh، Debashish (2005)، "A Mind of Intellect"، The Voyage To Excellence: The Ascent of 21 Women Leaders of India Inc، Delhi: Pustak Mahal، ISBN 81-223-0904-6 
  2. ^ ا ب Perkins، Christine (Spring 2006). "Profile: A Passage in India". Harvard Law Bulletin. doi:ڈی او ئي. http://www.law.harvard.edu/alumni/bulletin/2006/spring/cn_02.php۔ اخذ کردہ بتاریخ 26 مئی 2012. 
  3. ^ ا ب Layak، Suman (28 نومبر 2010). "Street legal: Zia Mody". Living Media India Limited. 25 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 26 مئی 2012. 
  4. ^ ا ب "Zia Mody Profile". Profiles. AZB & Partners – Mumbai. اخذ شدہ بتاریخ 27 ستمبر 2010. 
  5. Bodhi Global – Who We Are – Board of Directors آرکائیو شدہ 31 دسمبر 2007 بذریعہ وے بیک مشین
  6. Layak، Suman (18 ستمبر 2011). "Legal titan – Zia Mody". Living Media India Limited. 25 دسمبر 2018 میں [http://businesstoday.intoday.in/story/most-powerful-in-business-2011-zia-mody�/1/18299.html اصل] سے آرکائیو شدہ.