جب کسی دھاتی سطح پر مناسب تعداد (frequency) کی شعاعیں ڈالی جاتی ہیں تو دھات سے برقیہ (electron) خارج ہونے لگتے ہیں۔ دھات پر مناسب روشنی کے پڑنے پر برقیہ کا خارج ہونا اثر ضیائ برق (photoelectric effect) کہلاتا ہے اور خارج ہونے والے برقیہ کے ضیا برقیے (photo electrons) کہلاتے ہیں۔
اثر ضیائ برق کے لیے ضروری ہے کہ روشنی کی تعداد ایک خاص حد سے زیادہ ہو۔ اس حد یا نقطہ آغاز کو آغازی تعداد (threshold frequency) کہتے ہیں۔ مختلف دھاتوں کے لیے آغازی تعداد مختلف ہوتی ہے۔ بیشتر دھاتیں نظر آنے والی روشنی یا بالائے بنفشی (الٹرا وائیلٹ) شعاعوں کے پڑنے پر برقیے خارج کرتی ہیں جبکہ سمصر (caesium) زیریں سرخ (infrared) شعاعوں سے بھی برقیے خارج کر سکتا ہے۔
اگر روشنی کی تعداف آغازی تعداد سے کم ہو تو روشنی خواہ کتنی ہی تیز کیوں نہ ہو کوئی برقیہ خارج نہیں ہوتا۔ اس کے برعکس آغازی تعداد سے زیادہ تعداد رکھنے والی روشنی کی نہایت کمزور شعاع بھی برقیہ خارج کر سکتی ہے یعنی اثر ضیائ برق (photoelectric effect) شروع کر سکتی ہے۔ اور اگر ایسی روشنی کی شدت اور بھی تیز ہو جائے تو خارج ہونے والے برقیہ کی تعداد بھی بڑھ جائے گی ( یعنی کرنٹ بڑھ جائے گا۔)
اگر روشنی کی تعداد آغازی تعداد سے بڑھتی چلی جائے تو خارج ہونے والے برقیہ کی حرکی توانائی بڑھتی چلی جاتی ہے۔ آسان الفاظ میں یوں کہہ سکتے ہیں کہ آغازی تعداد (threshold frequenc ) پر یا اس سے زیادہ تعداد پر اگر روشنی کی شدت بڑھایں تو برق میں اضافہ ہوتا ہے اور اگر روشنی کی تعداد بڑھایں تو خارج شدہ برقیہ کی علتاج (voltage) میں اضافہ ہوتا ہے۔
روشنی پڑنے پر ضیا برقیے کا اخراج فوراً ہوتا ہے۔

اگر روشنی کو صرف ایک موج یا لہر مان لیا جائے تو اثر ضیائ برق (photoelectric effect) کی علمی وضاحت نہیں کی جا سکتی۔
آئین سٹائین کو معلوم تھا کہ جب روشنی کسی ایسے برقی بین (electroscope) پر پڑتی ہے جس پر منفی بار (negative charge) ہو اور اس پر ایک دھاتی پلیٹ رکھی ہوئی ہو تو برقی بین نابار (discharge) ہو جاتا ہے (یعنی اس کی دونوں پتیاں جو بارنے پر جدا ہو گئیں تھیں، وہ دوبارہ مل جاتی ہیں)۔ برقی بین پر اگر جست کا ٹکڑا رکھا ہو تو وہ روشنی پڑنے پر تیزی سے نابار ہوتا ہے، لیکن اگر زاصر (aluminium) یا تانبے کا ٹکڑا رکھا جائے تو وہ آہستہ آہستہ نابار ہوتا ہے۔ اگر برقی بین اور روشنی کے ماخذ کے درمیان ایک شیشے کی چادر رکھ دی جائے (جو بالائے بنفشی شعاعوں کو روک لیتی ہے) تو برقی بین نابار نہیں ہوتا۔ اسی طرح مثبت (positive) طور پر برقایا ہوا برقی بین بھی روشنی پڑنے پر نابار نہیں ہوتا۔ اس سے پتہ چلتا تھا کہ روشنی پڑنے پر جست کے ٹکڑے سے کچھ برقیہ خارج ہو کر ہوا میں چلے جاتے ہیں۔
آئن اسٹائن نے 1905 میں روشنی کو ذرات نوریہ (فوٹون) قرار دیتے ہوئے اس عمل کی کامیاب علمی وضاحت کی اور 1921 میں طبیعیات کا نوبل انعام حاصل کیا۔ روشنی کی ذراتی نوعیت کا سب سے پہلے تذکرہ میکس پلانک نے 1900ء میں کیا تھا۔

عنصر ورک فنکشن (برقی علت میں)[1]
سمصر 1.95
اشنانصر 2.29
صوداصر 2.36
سنگصر 2.9
جست 3.63
زاصر 4.06
سیسہ 4.25
تانبا 4.53
لوہا 4.67

مزید دیکھیےترميم

حوالہ جاتترميم