پیزوالیکٹرک اثر (piezoelectric effect) سے مراد ایسا مظہر ہے جس میں دباو کی وجہ سے کچھ قلمی اشیاء میں برقی چارج نمودار ہو جاتا ہے۔[1] دباو ختم ہونے پر یہ چارج بھی ختم ہو جاتا ہے۔

پیزوالیکٹرک کرسٹل دبنے سے وولٹیج پیدا ہوتی ہے۔ اس خاکے میں کرسٹل کادبنا کافی بڑھا کر دکھایا گیا ہے۔
پیزوالیکٹرک پلیٹ برقی وولٹیج کو آواز میں تبدیل کر دیتی ہے یعنی اسپیکر کا کام کرتی ہے۔

ایسی اشیاء جن میں پیزوالیکٹرک کا اثر واضح ہوتا ہے ان میں کئی طرح کی قلمیں (crystals)، کچھ سرامک (ceramics) اور حیاتیاتی مادے مثلاً ہڈیاں، ڈی این اے اور پروٹین شامل ہوتے ہیں۔ اگرچہ tourmaline, کوارٹز (quartz), پکھراج (topaz) اور مصری وغیرہ میں پیزوالیکٹریسٹی پائی جاتی ہے مگر کوارٹز اور روشل سالٹ Rochelle salt (sodium potassium tartrate tetrahydrate) میں یہ بڑی نمایاں ہوتی ہے۔
ایسی چیزیں جن میں پیزوالیکٹریسٹی ہوتی ہے ان میں "معکوس پیزوالیکٹرک اثر" بھی پایا جاتا ہے یعنی جب ان چیزوں کو الیکٹرک فیلڈ میں رکھا جاتا ہے تو ان کی جسامت تبدیل ہو جاتی ہے۔ مثلاً جب لیڈ زرکونیٹ ٹائیٹینیٹ (lead zirconate titanate ) کو اتنا دبایا جائے کہ دباو کے رخ پر اس کی لمبائی اعشاریہ ایک فیصد کم ہو جائے تو اس قلم (کرسٹل) پر ایک مخصوص وولٹیج نمودار ہو جاتا ہے۔ دباو ہٹانے پر وولٹیج بھی غائب ہو جاتا ہے۔ اب اگر دباو کی بجائے اسی قلم پر اُتنا ہی وولٹیج لگایا جائے تو بھی اس قلم کی لمبائی اعشاریہ ایک فیصد کم ہو جائے گی۔ معکوس پیزوالیکٹرک اثر کی مدد سے الٹرا ساونڈ لہریں بنائی جاتی ہیں۔
پیزوالیکٹریسٹی دو نو عمر فرانسیسی طبیعیات دانوں نے 1880ء میں دریافت کی تھی۔ ان کے نام Jacques اور Pierre Curie تھے اور یہ بھائی تھے۔ 1995ء میں پیری کیوری اور میڈم میری کیوری کی شادی ہو گئی اور 1903ء میں انھیں ریڈیوایکٹی ویٹی پر مشترکہ نوبل انعام ملا۔

استعمال

ترمیم

سگریٹ جلانے کے لائٹر (lighter) میں ایسا کرسٹل موجود ہوتا ہے جو شرارہ پیدا کر کے شعلہ بنا دیتا ہے۔ باورچی خانے میں گیس لائٹر بھی اسی اصول پر کام کرتے ہیں۔
پیزو الیکٹرک مادے اسپیکر، مائیکروفون، گھڑیاں، گِٹار اور الیکٹرونک اوسی لیٹر بنانے میں بہت استعمال ہوتے ہیں۔
خوردبینوں کی fine tuning میں بھی پیزو الیکٹرک مادوں کا استعمال کیا جاتا ہے۔ اسی طرح پیزو الیکٹرک مادے inkjet پرنٹر میں استعمال ہوتے ہیں۔ الٹراسونک nozzle اور بہت حساس ترازو میں بھی یہ ٹیکنولوجی کام آتی ہے۔
ہر میزائل کی نوک پر پیزو الیکٹرک کرسٹل موجود ہوتا ہے۔ جب میزائل ہدف سے ٹکراتا ہے تو یہ کرسٹل دب کر ٹوٹ جاتا ہے مگر اس دوران لمحہ بھر کے لیے کئی ہزار وولٹ بنتے ہیں جو تاروں کے ذریعے میزائل میں موجود ڈیٹونیٹر میں دھماکا پیدا کرتے ہیں۔

مزید دیکھیے

ترمیم

حوالہ جات

ترمیم
  1. Piezoelectric effect

یوٹیوب کی ویڈیو

ترمیم