شیعہ ذاکر + عالم دین + مفسر قرآن


6 مارچ 1934ء میں حیدر آباد دکن ھندوستان میں ہوئی۔ ابتدائی تعلیم دینی مدرسہ میں حاصل کی جب کہ میٹرک اور انٹر میڈیٹ کا امتحان جامعہ عثمانیہ حیدرآباد دکن سے پاس کیا۔

اوائل عمری میں ہی وہ نواب بہادر یار جنگ کے قافلے میں شریک ہوگئے اور تحریک پاکستان کی جدوجہد میں عملی حصہ لیا۔

سقوط حیدر آباد کے بعدآپ کراچی آگئے۔ 1951ء میں اردو کالج کراچی سے بی اے آنرز کا امتحان پاس کیا۔ زمانہ طالب علمی میں ہی آپ ایک اچھے مقرر اور بہترین مضمون نگار تھے۔ انگریز‘ عربی‘ فارسی پر آپ کو مکمل عبور حاصل تھا۔

فقہ‘ حدیث اور تفسیر پر ان کی علمی دسترس کا اندازہ ریڈیو‘ ٹیلی ویژن کے متعدد مذہبی پروگراموں سے مختلف موضوعات پر تقاریر و خطبات سے لگایا جاسکتا ہے۔ وہ اسلامی نظریاتی کونسل کے رکن بھی رہے۔

علامہ عباس حیدر عابدی کراچی یونیورسٹی سنڈیکیٹ کے ممبر اور اردو کالج کے بورڈ آف گورنرز کے رکن بھی رہے۔ علامہ مرحوم نے ”شعب الاسلام “ کے نام سے ایک ادارہ بھی قائم کیا۔ اس ادارے کا مقصد محبت واخوت اور امداد باہمی کو عملاً فروغ دینا تھا۔

1960ء کی ابتدائی دہائی میں آپ نے مجالس کے پہلے عشرے کا آغاز امام بارگاہ شاہ ولایت سے کیا اور اس کے علاوہ کراچی کی مرکزی امام بارگاہوں سے خطاب کرتے رہے۔ ان بارگاہوں میں محفل شاہ خراساں‘ حسینیہ سجادیہ‘ شاہ نجف مارٹن روڈ‘ امام بارگاہ کھارادرشامل ہیں۔ دیگر کئی مقامات پر بھی آپ نے مجالس سے خطاب کیا۔

بین الاقوامی کانفرنسوں کے سلسلے میں انہوں نے امریکہ‘ برطانیہ اور کینیڈا سمیت متعدد ممالک کا سفر کیا۔

انہوں نے تفسیر قرآن پاک بھی لکھی ابھی وہ زیر طبع تھی کہ 31 جنوری 1994ء میں دل کا دورہ پڑنے کے سبب اس جہان فانی کو چھوڑ گئے

نماز جنازہ انچولی میں ادا کی گئی نماز جنازہ کے بعد انچولی سے جلوس جنازہ پیدل عائشہ منزل میں واقع اسلامک ریسرچ سینٹر آیا جہاں حضرت مولانا ابن حسن جارچوی کے پہلو میں ان کو سپرد خاک کیا گیا۔[1]

حوالہ جاتترميم

حوالہ جات

  1. https://ur.rasanews.ir/ur/news/1196/%D8%B9%D9%84%D8%A7%D9%85%DB%81-%D8%B9%D8%A8%D8%A7%D8%B3-%D8%AD%DB%8C%D8%AF%D8%B1-%D8%B9%D8%A7%D8%A8%D8%AF%DB%8C-%D9%85%D8%B1%D8%AD%D9%88%D9%85