عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ بن مسعود

عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ : فقہ و حدیث کے ان ماہرین میں شامل ہیں جنہیں فقہائے سبعہ کہا جاتا ہے۔

سات فقہائے مدینہ

نام ونسبترميم

عبید اللہ نام،ابو عبد اللہ کنیت، مشہور صحابی حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کے بھائی عتبہ کے پوتے تھے، نسب نامہ یہ ہے، عبید اللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود بن غافل بن حبیب بن سمخ بن فار بن مخزوم مخزومی۔

نام و قبیلہترميم

عبید اﷲبن عبد ا ﷲ بن عتبہ بن مسعودبنو ہذیل سے تعلق رکھتے تھے۔ عبید اﷲ کی کنیت ابو عبد اﷲ تھی۔ یہ قبیلہ اپنے جد ہذیل بن مدرکہ کے نام سے موسوم تھا اور قریش کی شاخ بنو زہرہ کا حلیف تھا۔ مدرکہ پر عبید اﷲ کا شجرہ نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کے شجرۂ مبارک سے جا ملتا ہے۔ خزیمہ بن مدرکہ آپ کے جد تھے۔ عبید اﷲ کے دادا عتبہ بن مسعود جلیل القدر صحابی عبد اﷲ بن مسعودکے بھائی تھے۔

فقہائے سبعہترميم

عبید اﷲ فقہائے سبعہ مدینہ میں سے ایک تھے۔

عبید اﷲ بن عبد اﷲ بن عتبہ کو تابعین مدینہ کے طبقہ ثانیہ میں شامل کیا جاتاہے۔ واقدی کہتے ہیں: ’’عبید اﷲ ثقہ عالم اور فقیہ تھے۔ کئی احادیث کے راوی ہونے کے ساتھ شاعر بھی تھے۔"اہل رجال" نے ان کے تقویٰ اور کردا ر کو سراہا ہے ۔

فضل وکمالترميم

عبید اللہ کا گھر علم عمل کا گہوارہ تھا،اس ماحول نے ان کو علم وعمل کا مجمع البحرین بنادیا،فضل وکمال کے لحاظ سے وہ ممتاز ترین تابعین میں شمار ہوتے تھے،انہیں حدیث فقہ شعر وشاعری اوردوسرے مروجہ علوم میں پورا درک تھا، علامہ ابن سعد لکھتے ہیں: کان ثقۃ کثیر الحدیث العلم[1] شاعر علامہ نووی لکھتے ہیں کہ ان کی جلالت امامت اورعظیم منزلت پر سب کا اتفاق ہے۔ [2]

حدیثترميم

حدیث کے وہ ممتاز حفاظ میں تھے، صحابہ میں انہوں نے ابن عمرؓ،ابن عباس ابوہریرہؓ،ابو سعید خدریؓ، ابو واقد لیثیؓ ،زید بن خالدؓ،نعمان بن بشیرؓ، عمار بن یاسرؓ ابو طلحہ انصاریؓ،ام المومنین حضرت عائشہؓ صدیقہؓ اور فاطمہ بنت قیسؓ اورتابعین میں ایک کثیر جماعت سے فیض اٹھایا تھا۔ [3] حافظہ اتنا قوی تھا کہ ایک مرتبہ جو حدیث سن لیتے تھے، وہ ہمیشہ کے لیے دماغ میں محفوظ ہوجاتی تھی،اس حافظہ نے ان کے علم کا دائرہ نہایت وسیع کردیا تھا ، اما م زہری کا بیان ہے کہ میں جن جن علماء کے پاس بیٹھا ان کے پاس جو کچھ تھا سب حاصل کرلیا،لیکن عبید اللہ علم کا بحر بے پایاں تھے، ان کے پاس جب آتا تھا تو ہمیشہ تازہ علم حاصل ہوتا تھا [4] میں نے بہت علم حاصل کیا اورایک حد پر پہنچنے کے بعد خیال ہوا کہ جو کچھ میں حاصل کرچکا ہوں وہ بہت کافی ہے،لیکن جب عبید اللہ سے ملا تو معلوم ہوا کہ میرا علم کچھ بھی نہیں ہے۔ [5]

فقہترميم

فقہ میں خصوصیت کے ساتھ ان کا پایہ نہایت بلند تھا،امام ابو جعفر طبری کا بیان ہے کہ علم احکام اورحلال وحرام کی معرفت میں ان کا پایہ نہایت بلند تھا، ان کے تفقہ کی سب سے بڑی سند یہ ہے کہ وہ مدینہ کے ساتھ مشہور فقہا میں سے ایک تھے حافظ ابن عبد البر کا بیان ہے کہ وہ مدینہ کے ان دس پھر ان کے بعد ان سات فقہاء میں سے تھے،جو فقہ وفتاویٰ کا محور تھے،وہ بڑے صاحب علم، فاضل اورفقہ میں بڑے بلند پایہ تھے۔ [6]

شاعریترميم

شاعر بھی تھے، ابن عبدالبرکا بیان ہے کہ وہ نہایت اچھے شاعر تھے،میرے علم میں دور صحابہ سے اس وقت تک قضاء میں ان سے بڑا شاعر اورشاعروں میں اتنا بڑا فقیہ کوئی نہ تھا۔ [7] وہ حقیقی شاعر تھے،ان کی شاعری تفنن ِ طبع کے لیے نہ ہوتی تھی ؛بلکہ سوزِ قلب سے مجبور ہوکر شعر کہتے تھے،جب ان کی شعر گوئی پر کوئی اعتراض کرتا تو جواب دیتے کہ ایک درد مند اوردل کا بیمار اگر سانس نہ لے تو کیسے زندہ رہ سکتا ہے [8] ابو تمام نے حماسہ میں ان کے اشعار نقل کیے ہیں: شققت القلب ثم زردت فیہ ھواک فلیم فالتام الفتور میں نے اپنا دل چیر کر اس میں تیری محبت کا بیج بویا بونے کے بعد شگاف قلب برابر ہوگیا۔ تغلغل حب عثمۃ فی قوادی فیادیہ مع الخافی یسیر عثمہ کی محبت میرے قلب میں ساری اور پیوست ہوگئی، وہ محبت جو علانیۃ نظر آتی ہے اس محبت سے کم ہے جو مخفی ہے۔ تغلغل حیث لم یبلغ شراباولا حزن ولم یبلغ سرور وہ دل کی اس گہرائی میں پہنچ گئی ہے جہاں شراب ،غم اور خوشی کوئی شے نہیں پہنچ سکتی بعض لوگوں نے ان اشعار پر اعتراض کیا کہ آپ ایسے عاشقانہ اشعار کہتے ہیں،فرمایا دل کے بیمار کولدود(ایک تلخ دواجومنہ میں لگائی جاتی ہے) سے راحت ہوتی ہے۔

زہد وعبادتترميم

اس درددل اورسوزِ باطن نے ان کو بڑا عابد ومتورع بنادیا تھا، امام نووی انہیں صلحائے تابعین میں اور ابن خلکان عبادت گزار لکھتے ہیں [9] ان کی نمازیں بڑی طویل اورسکون واطمینان کی ہوتی تھیں، امام مالک کا بیان ہے کہ عبید اللہ بڑی طویل نمازیں پڑھتے تھے اورکسی شخص کے لیے بھی اس میں جلدی نہ کرتے تھے،ایک مرتبہ علی بن حسین (امام زین العابدین) ان کے پاس آئے، اس وقت عبید اللہ نماز پڑھ رہے تھے، وہ بدستور نماز میں مشغول رہے، علی دیر تک ان کا انتظار کرتے رہے، نماز تمام کرنے کے بعد لوگوں نے اعتراض کیا کہ تمہارے پاس رسول اللہ ﷺ کے نواسہ آئے اور تم نے اتنی دیر تک ان کو انتظار کرایا،فرمایا خدا میری مغفرت فرما جس کو علم کی تلاش ہو اسے تکلیف اٹھانا چاہئے [10]اگر درخت اپنے پھل سے پہچانا جاتا ہے تو عبیداللہ کے اخلاقی فضائل وکمالات کا اندازہ کرنے کے لیے یہ مثال کافی ہے کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز ان ہی کے تربیت یافتہ تھے، ان پر ان کے اخلاقی کمالات کا اتنا اثر تھا کہ وہ کہا کرتے تھے کہ عبید اللہ کی ایک صحبت اورتھوڑی دیران کے ساتھ ہمنشینی مجھے دنیا مافیہا سے عزیز ہے، خدا کی قسم ان کی ایک رات میں بیت المال کے ایک ہزار دینار سے خریدنے کو تیار ہوں،لوگوں نے کہا امیر المومنین بیت المال کے تحفظ میں شدت واہتمام کے باوجود آپ ایسا فرماتے ہیں،جواب دیا خدا کی قسم میں ان کی رائے،ان کی نصیحت اوران کی نصیحت کے وسیلہ سے ایک ہزار کے بجائے بیت المال میں ہزاروں ہزار داخل کروں گا، باہمی گفتگو سے عقل میں تازگی پیدا ہوتی ہے، قلب کو راحت ملتی ہے،غم دور ہوتا ہے اور ادب سدھر تا ہے۔ [11]

علمی مقامترميم

زہری عبید ﷲ بن عبد اﷲ کی خدمت میں رہے۔ وہ کہتے ہیں ،’’میں نے (علم کے ) چار سمندروں کو دیکھا ہے ،ان میں سے ایک عبید اﷲ بن عبد ﷲ تھے۔

عبید اﷲ کا حافظہ خوب تیز تھا۔ خود فرماتے ہیں :’’میں نے جب بھی حدیث سن کر یادکرنا چاہی تو یاد ہو جاتی۔‘‘ ابو بکر بن عبدالرحمان مخزومی کی طرح عبید اﷲ بن عبد اﷲ بن عتبہ بھی نابینا تھے۔

عبید ﷲ جذبات کے اظہار کے لیے اپنی شعری صلاحیت کا بھرپور استعمال کرتے تھے۔ عبد اﷲ بن ذکوان کہتے ہیں: ’’عبید اﷲ بن عبد اﷲ شعر کہتے تھے، جب ان پر اعتراض کیا جاتاتو جواب دیتے کہ ’’تمہارا کیا خیال ہے، جس کے سینے میں جلن اور درد ہو، اگر نہ تھوکے مر نہیں جائے گا؟‘‘

صحابہ سے محبتترميم

عبید ﷲ صحابہ سے بہت محبت رکھتے تھے کیوں کہ دین حق اسلام پیغمبر صلی اﷲ علیہ وسلم کے بعد انھی کے ذریعے سے مسلمانوں تک پہنچا تھا۔ ایک شخص عبید ا ﷲ کے پاس آکر بیٹھتا تھا۔ انھیں معلوم ہوا، یہ نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کے ایک صحابی کو برا کہتا ہے۔ اگلی بار وہ آیا تو عبید اﷲ نے اس کی طرف التفات نہ کیا۔ اسے محسوس ہوا تو کہا، ’’اگر آپ میرا کوئی قصور سمجھتے ہیں تو معاف فرمائیں۔‘‘ عبید ﷲ نے پوچھا، ’’کیا تمھیں اﷲ کے علم میں شک ہے؟‘‘ جواب ملا، ’’اعوذ باﷲ، ایسا ہو۔‘‘ پھر سوال کیا، ’’کیا تمھیں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی خبر میں شبہ ہے؟‘‘ اس شخص نے کہا، ’’ایسا سمجھنے سے اﷲ کی پناہ۔‘‘ عبید ﷲ نے کہا: ’’فرمان الٰہی ہے،’لقد رضی اﷲ عن المومنین اذ یبایعونک تحت الشجرۃ‘ (اﷲ اہل ایمان سے راضی ہو گیا جب وہ (کیکر کے ) درخت کے نیچے تمھاری بیعت کر رہے تھے )(سورۂ فتح: 18) تمھارا حال یہ ہے کہ تم فلاں صحابی (حضرت علی ) کو برا کہتے ہو جب کہ وہ بیعت کرنے والوں میں شامل ہے۔ کیا تمھارے پاس اطلاع آئی ہے کہ ﷲ اس سے راضی ہونے کے بعد ناراض ہو گیا ہے؟‘‘ اس شخص نے کہا ،’’بخدا،میں ایسا ہر گز نہ کروں گا۔‘‘یہ شخص عبید اﷲ بن عبد اﷲ بن عتبہ بن مسعود کے شاگرد ،خلافت راشدہ کا احیا کرنے والے عمر بن عبد العزیز تھے،بنو امیہ سے تعلق رکھنے کی وجہ سے وہ ایسا کرتے تھے۔

وفاتترميم

وفات میں اختلاف ہے باختلافِ روایت ۹۸ یا ۹۹ میں مدینہ میں وفات پائی۔ [12] عبید اﷲ 102ھ میں فوت ہوئے۔[13] [14][15]

حوالہ جاتترميم

  1. (ابن سعد:۵/۱۸۵)
  2. (تہذیب الاسماء،ج ۱،ق۱،ص ۳۱۲)
  3. (تہذیب التہذیب:۴/۴۲۳)
  4. (تہذیب التہذیب،ج ۱،ق ۱،ص ۳۱۲)
  5. (ابن خلکان:۱/۲۷۱)
  6. (ایضاً بحوالہ ابن عبد البر)
  7. (تہذیب التہذیب:۷/۲۴)
  8. (ابن سعد:۵/۱۸۴)
  9. (تہذیب الاسماء:۱/۳۱۲)
  10. (تذکرہ الحفاظ:۱/۶۸)
  11. (ابن خلکان :۱/۲۷۱)
  12. (ابن سعد:۵/۱۸۶)
  13. طبقات ابن سعد
  14. سیراعلام النبلاء علامہ ذہبی
  15. الاغانی ،ابوالفرج اصفہانی