علی نیمو
2019 Freedom of Expression Awards (40575329543).jpg 

معلومات شخصیت
پیدائش 1982/1983 (عمر 36–37)
صومالیہ  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of Somalia.svg صومالیہ  ویکی ڈیٹا پر شہریت (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مذہب اسلام
عملی زندگی
مادر علمی برسٹل یونیورسٹی
پیشہ سماجی فعالیت پسند، آزاد تربیتی مشیر
اعزازات
100 خواتین (بی بی سی)  (2018)[1]  ویکی ڈیٹا پر وصول کردہ اعزازات (P166) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ویب سائٹ
ویب سائٹ باضابطہ ویب سائٹ  ویکی ڈیٹا پر باضابطہ ویب سائٹ (P856) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

نیمکو علی یا علی نیمو (صومالی: Nimco Cali، عربی: علي نيمو) ایک صومالیہ سے تعلق رکھنے والی سماج کی فعالیت پسند خاتون ہے۔ وہ ایک آزاد تربیتی پروگراموں کی مشیر بھی ہے۔ وہ دختران حوا (ڈاٹرز آف ایو) نام کی غیر منفعتی تنظیم کی معاون بانی اور ڈائریکٹر ہے۔

شخصی زندگیترميم

نیمو کی پیدائش 1982ء اور 1983ء کے پیچ صومالیہ میں ہوئی۔ جب وہ چار سال کی عمر کو پہنچی، تب اس کا خاندان مانچسٹر، انگلستان منتقل ہو گیا جہاں اس کی پرورش ہوئی۔[2][3]

ثانوی سے آگے کی تعلیم کے لیے نیمو نے یونیورسٹی آف ویسٹ انگلینڈ، برسٹل میں داخلہ لیا۔[4]

کیریئرترميم

نیمو نے شروع شروع میں ایک سیول سروینٹ کا کام کیا۔ وہ کئی سال تک خواتین کے حقوق کے لیے ایک فعالیت پسند اور تربیتی مشیر کا بھی کام کیا۔[4]

2010ء میں نیمو نفسیاتی معالج لیلی حسین کے ساتھ مل کر دختران حوا (ڈاٹرس آف ایو) قائم کیا۔[2][5] اس غیر منعفت بخش ادارے کے قائم کرنے کا مقصد جواں سال خواتین اور لڑکیوں کی مدد کرنا، بالخصوص تعلیم فراہم کرنے میں اور خواتین کی ختنہ کے بارے میں بے داری لانے میں۔[6] نیمو خود ایک لرکیی ہونے کے باوجود سات سال کی عمر میں جیبوتی کے ایک اسپتال میں اس تکلیف دہ امر سے گزر چکی ہے جب وہ وہاں چھٹیوں میں اپنے خاندان کے ساتھ آئی تھی۔[2][7] اس کے بعد نیمو بگڑتی صحت کے مرحلہ سے گزری اور اسے بازتعمیری جراحی کا سہارا لینا پڑا۔[8] یہ تجربہ اور کئی لڑکیوں سے ملاقات جو خود مختونات تھیں نیمو کو اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ اس رسم مکمل برخاستگی کا مطالبہ کرے۔[2][3]

علاوہ ازیں، نیمو سماجی مہم اینڈ ایف جی ایم سی سوشیل چینج کیمپین کی نیٹ ورک کوآرڈی نیٹر ہے۔ وہ وسیع پیمانے پر جنس پر مبنی قومی حقوق پر لکھ چکی ہے۔[4]

18 اپریل 2015ء کو نیمو نے ایک نوتشکیل شدہ سیاسی جماعت ویمینز ایکوالیٹی پارٹی لے ابتدائی جلسے سے مخاطب ہوئی۔[9]

اعزازاتترميم

2014ء میں نیمو کو برادری / خیرات کا ایوارڈ 2014ء ریڈ میگزین وومن آف دی یر ایوارڈ دختران حوا کے کام کے لیے دیا گیا۔[6]

اسے بااثر خواتین کی گھنٹا وار فہرست 2014ء(Woman's Hour Power List 2014) میں چھٹے مقام پر رکھا گیا۔[5]

سیاسی سرگرمیترميم

2017ء کے عام انتخابات میں نیمو نے ہارنسے اینڈ ووڈ گرین سے وہ شمالی لندن سے چناؤ لڑی۔ نیمو 551 ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی جو مجموعی ووٹوں کا 0.8% ہے۔ وہ آٹھ امیدواروں میں پانچویں مقام پر رہی۔ وہ یو کے انڈیپینڈینس پارٹی سے 120 ووٹوں سے آگے رہی۔

حوالہ جاتترميم

  1. https://www.bbc.com/news/world-46225037
  2. ^ ا ب پ ت Onyanga-Omara، Jane (29 جولائی 2011). "Men 'must help stop female genital mutilation'". بی بی سی. مؤرشف من الأصل في 25 دسمبر 2018. اخذ شدہ بتاریخ 02 اکتوبر 2014. 
  3. ^ ا ب Poon، Linda (5 اگست 2014). "Fighting Genital Cutting Of British Girls: A Survivor Speaks Out". این پی آر. مؤرشف من الأصل في 25 دسمبر 2018. اخذ شدہ بتاریخ 2 اکتوبر 2014. 
  4. ^ ا ب پ "6. Leyla Hussein and Nimco Ali". بی بی سی. 2013. مؤرشف من الأصل في 25 دسمبر 2018. اخذ شدہ بتاریخ 2 اکتوبر 2014. 
  5. ^ ا ب British Association for Behavioural & Cognitive Psychotherapies (May 2014). "Towards ending female genital mutilation". CBT Today 42 (2): 16–17. http://www.babcp.com/files/CBT-Today/cbt-today-may-2014.pdf۔ اخذ کردہ بتاریخ 3 October 2014. 
  6. ^ ا ب Powell، Emma (4 ستمبر 2014). "Lauren Laverne, Sadie Frost and Olivia Inge attend the Red Woman of the Year Awards". لنڈن ایوننگ اسٹینڈرد. مؤرشف من الأصل في 25 دسمبر 2018. اخذ شدہ بتاریخ 2 اکتوبر 2014. 
  7. Bentham، Martin (18 February 2013). "Met will prosecute parents who send their girls abroad to be 'cut'". London Evening Standard. مؤرشف من الأصل في 25 دسمبر 2018. اخذ شدہ بتاریخ 02 اکتوبر 2014. 
  8. Banneman، Lucy (13 جنوری 2014). "'It's child abuse that has gone mainstream'". دی ٹائمز. اخذ شدہ بتاریخ 2 اکتوبر 2014. 
  9. Milligan, Becky (23 اپریل 2015). "The brand new Women's Equality Party: 'not standing in this election'". پی ایم. BBC Radio 4. Archived from the original on 25 دسمبر 2018. http://web.archive.org/web/20181225222250/https://www.bbc.co.uk/programmes/p02pty5g۔ اخذ کردہ بتاریخ 21 ستمبر 2015. 

بیرونی روابطترميم