غلام مرتضیٰ خان (مغل مصور)

ایسٹ انڈیا کمپنی اور مغل دربار سے وابستہ ایک مسلمان مصور

غلام مرتضیٰ خان (پیدائش:1760ء— وفات: 1840ء) دہلی میں مقیم ایسٹ انڈیا کمپنی اور مغل دربار سے وابستہ مصور تھا۔

غلام مرتضیٰ خان (مغل مصور)
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1760ء   ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دہلی   ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات سنہ 1840ء (79–80 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دہلی   ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ مصور   ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
1811ء میں مغل دربار کا ایک منظر جس میں مغل شہنشاہ اکبر شاہ ثانی برسر تخت ہیں۔

سوانح

ترمیم

غلام مرتضیٰ خان کی پیدائش 1760ء میں دہلی ہوئی۔ ابتدائی حالات نامعلوم ہیں جبکہ مغل دربار میں اُس کی آمد 1803ء میں ہوئی جب ایسٹ انڈیا کمپنی کے افسران نے دہلی میں مغل شہنشاہ شاہ عالم ثانی کو مرہٹوں کے چنگل سے آزاد کروا کے دوبارہ تخت نشین کیا تھا۔ غلام مرتضیٰ کو ایسٹ انڈیا کمپنی کے افسران اپنے ساتھ دہلی لائے تھے۔ دہلی آمد سے قبل وہ کمپنی افسران اِسکینر اور ولیم فریزر کے ماتحت بطور مصور نوکری کرتا رہا۔ غلام مرتضیٰ کا بھتیجا غلام علی خان بھی مغل دربار سے وابستہ رہا اور علاوہ ازیں وہ ولیم فریزر کے مرقع دہلی میں بھی بطور مددگار نوکری کرتا رہا۔ وہ مغل دربار میں اکبر شاہ ثانی کے ماتحتی میں بطور مصور کام کرتا رہا اور اپنی قابلیت کے جوہر بکھیرتا رہا۔[1]

وفات

ترمیم

غلام مرتضیٰ خان نے 1840ء میں بہادر شاہ ظفر کے عہدِ حکومت میں 80 سال کی عمر میں دہلی میں وفات پائی۔

مصوری

ترمیم

سترہویں صدی میں جبکہ انگریزی مصوری کی شہرت ہندوستان میں ہو رہی تھی، غلام مرتضیٰ نے اپنی قدیمی مغل مصوری کی رَوش کو ہرگز نہیں چھوڑا اور اِسی کو اختیار کیے رکھا۔[2][3] اُس کی مصوری میں شاہ جہاں کے عہد کے مصوروں کی بنائی ہوئی تصاویر کی نقالی اور عکس دکھائی دیتے ہیں۔

مزید دیکھیے

ترمیم

حوالہ جات

ترمیم
  1. "The Asia Society – Princes and Painters Exhibit"۔ اخذ شدہ بتاریخ 06 ستمبر 2016 
  2. "Visual Tour of White Mughal India"۔ اخذ شدہ بتاریخ 06 ستمبر 2016 
  3. "Paintings bring Moghul Delhi alive"۔ 16 July 2007۔ اخذ شدہ بتاریخ 06 ستمبر 2016 – The Hindu سے