فجی کی 6 فی صد آبادی مسلمان ہے۔ ان چھ فیصد لوگوں کی مادری زبان اردو ہے۔ اس کے علاوہ یہاں 28 فی صد ہندو آباد ہیں جو ہندی کو اپنی مادری زبان بتاتے ہیں۔ چونکہ اردو اور ہندی عام بول چال میں بڑی حد تک ایک جیسی ہیں، اس لیے ریڈیو فیجی ان لوگوں کے لیے مشترکہ پروگرام "ہندوستانی زبان" کے تحت نشر کرتا ہے۔

ہمہ نسلی مرکز "با" کی خدماتترميم

فجی میں ایک ہمہ نسلی مرکز قائم کیا گیا ہے جس کا نام "با" ہے۔ یہ مرکز وقفے وقفے سے ملک کے مغربی ضلعوں میں شام غزل پروگرام کا انعقاد کرتا ہے، جہاں پر سامعین کے آگے فنکار غزلوں کو مترنم انداز میں سناکر محظوظ کرتے ہیں۔ غزلوں کی خصوصی نشستیں کئی اور جگہوں پر بھی عام ہوچکی ہیں۔

مقامی فنکاروں کی مقبولیتترميم

فجی سے غزل گانے کا پیشہ اختیار کرنے والے کچھ لوگ نقلِ مقام کرکے دوسرے ممالک میں جاکر بس گئے ہیں۔ ترنم سے شہرت پانے والے رحیم ذواللہ، شان محمد اور سات ویک داس اپنے خود کے غزل کے سُریلے البم جاری کرچکے ہیں۔

مقامی ریڈیو کی خدماتترميم

فجی کا مقامی ریڈیو "سرگم" ہر روز ایک گھنٹے تک کسی بھی ایک یا دو بھارت یا پاکستان کی غزلوں سے جڑے فنکاروں کی متاثرکن آواز سے اپنے "بارش غزل" پروگرام میں سامعین کو محظوظ کردیتا ہے۔[1]

مزید دیکھیےترميم

حوالہ جاتترميم