قومی درسیات کا خاکہ، 2005ء

نیشنل کونسل آف ایجوکیشنل ریسرچ اینڈ ٹریننگ، بھارت کی جانب سے قومی درسیات کے پانچ خاکے 1975ء، 1988ء، 2000ء اور 2005ء میں بالترتیب شائع ہوئے جن میں سے سنہ 2005ء میں شائع شدہ خاکہ قومی درسیات کا خاکہ، 2005ء کہلاتا ہے۔ اس میں بھارتی اسکولوں کے تعلیمی پروگراموں کے لیے درسی کتابوں اور نصاب کی تیاری[1] کا بنیادی خاکہ پیش کیا گیا ہے۔ حکومت ہند کی جانب سے شائع شدہ تعلیمی رودادوں مثلاً بوجھ سے آزاد تعلیم[2] اور تعلیم کی قومی پالیسی 1986ء-1992ء[3] کو سامنے رکھتے ہیں اس خاکہ کی پالیسی وضع کی گئی اور اجتماعی گفتگو پر توجہ مرکوز رکھی گئی ہے۔[4] طویل مباحثوں کے بعد قومی درسیات کے خاکہ، 2005ء کے تحت 21 مقالے تیار کیے گئے جن میں اس خاکہ کی ضابطہ سازی کے اصول پیش کیے گئے ہیں۔ یہ دستاویز اور اس پر مبنی درسی کتابیں پریس میں نظرثانی کے متعدد مرحلوں سے گزرتے ہیں۔[5]

واضح رہے کہ اس کے مسودہ پر سینٹرل ایڈوائزری بورڈ آف ایجوکیشن نے تنقید کی تھی۔[6] فروری 2008ء میں کرشنا کمار نے ایک انٹرویو میں اس دستاویز کو درپیش چیلنجوں[7] پر گفتگو کی۔ قومی درسیات کے خاکہ، 2005ء کی رسائی اور سفارشیں مکمل تعلیمی نظام کے لیے ہیں۔ نیز اس کی سفارشوں کی ایک بڑی تعداد دیہی علاقوں میں واقع اسکولوں کا بھی احاطہ کرتی ہے۔ اس خاکہ پر مبنی نصاب اور درسی کتابیں سی بی ایس ای کے تمام اسکولوں کے زیر استعمال ہیں، نیز اس خاکہ کی بنیاد پر تیار شدہ مواد بہت سے ریاستی اسکول بھی استعمال کر رہے ہیں۔[7]

قومی درسیات کے خاکہ، 2005ء کا 22 زبانوں میں ترجمہ کیا گیا جبکہ سترہ ریاستوں نے اس کی بنیاد پر اپنے نصاب تعلیم میں تبدیلیاں کیں۔ این سی ای آر ٹی نے اس خاکہ کی تشہیر کے لیے ہر ریاست کو 10 لاکھ روپئے کا عطیہ بھی دیا ہے تاکہ وہ اسے اپنی زبان میں شائع کریں اور اس مجوزہ نصاب سے اپنے نصاب تعلیم کا موازنہ کریں تاکہ مستقبل کے اصلاحی منصوبوں کو بروئے کار لایا جا سکے۔ متعدد ریاستوں سے اس مہم کو سر کرنے کا بیڑا اٹھایا۔ چنانچہ ریاستی ادارہ برائے تعلیمی تحقیق و تربیت (SCERT) اور ڈسٹرکٹ انسٹی ٹیوٹس آف ایجوکیشن اینڈ ٹریننگ (DIET) کی مدد سے اس مہم کو سر کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔

اہم خصوصیاتترميم

اس خاکہ کو پانچ شعبوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔

قومی درسیات کے خاکہ کا تناظرترميم

ماضی میں پیش کردہ حسب ذیل خیالات اور تصورات کے مطابق اس خاکے کو بنایا گیا ہے:

  • عادی اور رٹّو طریقہ تعلیم سے خلاصی
  • طلبہ کے مکمل ارتقا کی یقین دہانی
  • درس گاہ میں تعلیم و تدریس اور امتحان کی یکجائی اور اسے مزید لچک دار بنانا
  • بھارت کی جمہوری حکمت عملی میں موجود امور کی شناخت
  • ان امور کے ذریعہ متعارف کرائی گئی شناخت کی پرورش[8]

قومی درسیات کے اس خاکے میں مندرجہ ذیل امور پر خصوصی توجہ دی گئی ہے:

  • بچوں پر پڑھائی کا بوجھ کم کرنے کی کوشش تاکہ تعلیم کے عمل کو مزید پرلطف بنایا جا سکے۔ اس سفارش کو عملی جامہ پہنانے کے لیے نصاب تعلیم میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں ناگزیر ہوگی۔
  • خود اعتمادی اور عظمت ذات کا ارتقا، جس کی بنا پر معاشرتی ہم آہنگی کو فروغ اور عدم تشدد کی فضا ہموار ہوگی۔
  • 14 برس کی عمر تک طفل مرکزی طریقہ کار کی فراہمی اور عالمی سطح پر شرکت کا اہتمام۔
  • طلبہ میں اتحاد، ذات اور جمہوریت کے احساسات کو دلنشین کرنا۔
  • جے پی نائک نے مساوات، کمیت اور کیفیت کو بھارت کے نظام تعلیم کا مثلث بتایا ہے۔
  • ذات پات، جنس، عقیدہ اور مسلک و مذہب سے قطع نظر ہر ایک کے لیے تعلیم کے یکساں مواقع کی فراہمی اور معیاری تعلیم کا نظم۔

تعلیم اور طرز تعلیمترميم

تعلیم کا عمل پرلطف اور ایسا ماحول فراہم کیا جائے جہاں طلبہ کو اپنی قدر و منزلت کا احساس ہو۔ نصاب تعلیم اور اسکول کی عمارتیں اس طرز پر بنائی جائیں جن میں طلبہ کو تحفظ کا احساس ہو اور وہ مطمئن رہ سکیں۔ نصاب تعلیم کی ترتیب و تدوین میں طلبہ کے مکمل ارتقا پر توجہ دی جائے تاکہ ان کی جسمانی اور ذہنی نشو و نما کے ساتھ ساتھ انفرادی اور اجتماعی ہر دو سطح پر ان کے رویوں میں نکھار پیدا ہو۔

طلبہ کے مکمل ارتقا کے لیے موزوں اور مناسب غذاؤں، جسمانی ورزشوں اور دیگر نفسیاتی و معاشرتی تقاضوں کو مدنظر رکھیں اور ان پر توجہ دیں نیز یوگا اور دیگر کھیلوں میں شرکت کو یقینی بنائیں۔ تعلیمی عمل کے دوران میں حقیقی زندگی کے تجربات کو نمونے کے طور پر پیش کریں، نیز دوران میں تعلیم افہام و تفہیم کا خصوصی خیال رکھا جائے۔ طلبہ کے لیے عنفوان شباب کا مرحلہ انتہائی پر خطر اور حساس ہوتا ہے، چنانچہ اس مرحلے کے تقاضوں اور ضرورتوں کے تحت طلبہ کو تیار اور انہیں معاشرتی و جذباتی تعاون فراہم کیا جائے، جس کے نتیجہ میں ان کے اندر مثبت رویہ پروان چڑھے گا نیز ان کے اندر موجود ان صلاحیتوں کو بیدار کیا جائے جن کی مدد سے وہ حقیقی زندگی میں درپیش حالات کا بآسانی سامنا کریں اور انہیں حل کر سکیں۔[8]

طلبہ کی معذوریوں سے قطع نظر ہر طالب علم کی ضرورتوں سے ہم آہنگ نصاب تعلیم کی پیروی کریں اور جامع نصاب تعلیم کو ترجیح دیں۔ تعمیری تعلیم نصاب کا ایک حصہ ہے۔ مختلف چیلنجوں سے کھیلنے کے لیے طلبہ کو مواقع فراہم کریں، ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو بیدار کریں اور انہیں حصہ لینے کی ترغیب دیں۔ انفرادی خول سے باہر نکل کر انہیں دیگر افراد اور عوام سے ملنے کا شوق دلائیں، اس کے نتیجے میں تعلیم کے مزید مواقع میسر آئیں گے۔

عمارتوں کی بنیادیں مضبوط بنائی جائیں۔ ابتدائی، مابعد ابتدائی اور ثانوی تعلیم کے اسکولوں میں طلبہ کے اندر تحقیق و جستجو کے جذبے کو پروان چڑھائیں، عقلی بنیادوں پر استدلال کو فروغ دیں اور مختلف نظریات و تصورات، زبان اور دانش وغیرہ پر کافی معلومات موجود ہوں۔

درسیات کا میدان، اسکولی مراحل اور جائزہترميم

زبان - _سہ لسانی فارمولا کی پیروی کی جائے اور ابلاغ و ترسیل کے لیے گھر کی زبان استعمال کی جائے۔[9]

  • پہلی زبان: پہلی زبان کے طور پر لازماً مادری یا علاقائی زبان کی تعلیم دی جائے۔
  • دوسری زبان: جن صوبوں میں ہندی زبان بولی جاتی ہو وہاں دوسری زبان کے طور پر کسی بھارتی یا انگریزی زبان کی تعلیم دی جائے اور جہاں ہندی زبان نہ بولی جاتی ہو وہاں ہندی یا انگریزی زبان کی تعلیم دی جائے۔
  • تیسری زبان: جن صوبوں میں ہندی زبان بولی جاتی ہو وہاں تیسری زبان کے طور پر کسی بھارتی یا انگریزی زبان کی تعلیم دی جائے اور جہاں ہندی زبان نہ بولی جاتی ہو وہاں انگریزی یا کسی بھارتی زبان کی تعلیم دی جائے۔[9]

ریاضی - _ریاضی ہر طالب علم کی ضرورت ہے اور وہ اسے سیکھ سکتا ہے۔ طریقہ تدریس اور تعلیم کا ماحول طلبہ کے موافق اور حوصلہ افزا ہونا چاہیے تاکہ بنیادی مہارتوں سے گزر کر آگے بڑھنے کی دلچسپی پیدا ہو، نیز اپنے طریقہ تدریس میں ریاضی کے مختلف و متنوع نمونوں کو شامل کیا جائے۔ تدریس کے اس انداز میں مسائل کے حل اور فعال تعلیم کے لیے خاصا وقت درکار ہوگا۔[10]

کمپیوٹر - _اسکولوں میں کمپیوٹر کی تعلیم کا مقصد یہ ہے کہ پہلے سے طے شدہ نتائج کے حصول کی بجائے طلبہ کے اندر 16 تشریحی استدلال کا ملکہ اور اعلی صلاحیتیں بیدار ہوں۔ طلبہ کو محض صارفین بنانے کی بجائے ان کے اندر علم کے ماخذوں تک پہنچنے، انہیں بیان کرنے اور معلومات کو اپنے الفاظ میں تحریر کرنے کا ملکہ پیدا کیا جائے۔ نصاب تعلیم کی تنفیذ کے لچک دار نمونوں کو متعارف، انفرادی تعلیم کے طریقوں سے روشناس اور کم از کم ابتدائی تعلیم کے دوران میں نصاب تعلیم کے لچک دار مواد اور امتحان کے لچک دار نمونوں کے استعمال کی ترغیب دی جائے۔[11]

سائنس - _سائنسی علوم کے طریقہ تدریس میں براہ راست سائنسی حقائق، اصولوں اور ان کے اطلاق کو پیش نظر رکھیں، نیز سائنسی معلومات کی تصدیق و تخلیق کی جانب رہنمائی کرنے والے طریقوں کے افہام اور مطلوبہ صلاحیتوں کو بیدار کرنے پر خصوصی توجہ دی جائے۔ تاکہ طلبہ کے اندر سائنس کا تاریخی اور ارتقائی تناظر پروان چڑھے؛ وہ سائنس کو ایک معاشرتی مہم باور کریں؛ سائنس، ٹیکنالوجی اور معاشرہ کی سطح پر درپیش مقامی و عالمی مسائل اور مشکلات کو سمجھ سکیں؛ اپنے دائرہ کار میں داخل ہونے اور کامیاب بننے کے لیے ضروری معلومات اور عملی تکنیکی صلاحیتیوں سے بہرہ ور ہوں؛ فطری تجسس، جمالیاتی حس اور سائنس و ٹیکنالوجی کے میدان میں ان کی تخلیقی صلاحیت نشو و نما پائے؛ امانت، ہم آہنگی اور باہمی تعاون کی قدروں کو اخذ کریں؛ ماحول کا تحفظ، سائنسی مزاج اور تنقیدی ذہن بیدار ہو اور وہ خوف اور تعصب کی منفی کیفیتوں سے آزاد ہوں۔[12]

معاشرتی علوم - _اسکولوں میں طلبہ کو معاشرتی سائنس کی تعلیم دینے کا مقصد یہ ہے کہ وہ مستقبل میں اپنے لیے مناسب اور موزوں شعبوں اور میدان عمل کو منتخب کر سکیں۔ چنانچہ انہیں متفرق شعبوں کی معلومات حاصل کرنے کی ترغیب دیں، مستقبل کے ان معماروں میں مشکلات کو حل کرنے کی صلاحیت اور تخلیقی سوچ پیدا کریں، مخصوص اور چنندہ شعبوں کی معلومات حاصل کرنے کے مختلف طریقوں سے طلبہ کو آگاہ کریں اور نتائج تک پہنچنے، نیز علم و عمل کے نئے افق تک پہنچنے اور ان میں بصیرت پیدا کرنے میں ان کا تعاون کریں۔[13]

فنون لطیفہ کی تعلیم - _اسکولوں میں فنون لطیفہ کی تعلیم کا مقصد یہ ہے کہ طلبہ کی شخصیت کا ارتقا اور ان کی ذہنی نشو و نما ہو سکے، نیز ان کے اندر تہذیبی و ثقافتی ورثوں اور معاشرے کے دوسرے افراد کے کاموں اور ان کی خدمات کے تئیں احترام پیدا ہو۔[14]

صحت اور جسمانی تعلیم - _ان امور کی تعلیم کا مقصد یہ ہے کہ طلبہ کے اندر صحت و بیماری، حادثات اور جسمانی نشو و نما کا احساس اور فکر پیدا ہو۔ اسکول، گھر اور معاشرے میں نفسیاتی اور معاشرتی مشکلات پر قابو پانے کی صلاحیتوں کو پروان چڑھایا جائے، نیز کھیلوں اور دیگر سرگرمیوں کی مدد سے ان کے اندر سماجی و اخلاقی قدروں کو پیوست کیا جائے اور یوں وہ ایک ذمہ دار شہری کے روپ میں سامنے آئیں۔[15]

امن کی تعلیم - _تعلیم کے نتیجے میں جن صفات سے آراستگی پیش نظر ہے ان میں صبر و تحمل، خلوص، باہمی تعاون کا جذبہ، تجسس اور تفتیش کی راہ سے جوابات تک از خود پہنچنے کی صلاحیت، نظم و ضبط اور تعلیم کے تئیں مثبت رویہ کا استعمال جیسی اہم صفات شامل ہیں جن سے متصف ہونے کے بعد طلبہ آگے چل کر امن پسند انسان کی صورت میں جلوہ گر ہوتے ہیں۔[16]

کام اور تعلیم - _کاموں اور پیشوں سے متعلق تعلیم اسکول کے نصاب کا ایک جزو ہے، اس کے ضمن میں طلبہ کو دست کاری اور مختلف ہنر وغیرہ کی تعلیم دی جاتی ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ طلبہ تعمیری خدمات اور سرگرمیوں میں حصہ لیں اور کاموں کے تئیں ان کے اندر مثبت رویے پروان چڑھیں اور مہارتیں پیدا ہوں۔[17]

اسکول اور درس گاہوں کا ماحولترميم

اسکولوں کے ماحول کو طلبہ کے لیے سازگار اور پرلطف بنائیں، عمارت اور اس کے ساز و سامان، روشنیوں اور روشن دانوں کا نظام، طلبہ اور اساتذہ کا باہمی تناسب کا خصوصی خیال اور انہیں صحت بخش اور محفوظ ماحول فراہم کیا جائے۔ اسکولوں میں طلبہ کے ساتھ مساوات، انصاف اور احترام کا معاملہ ہو۔ تمام طلبہ کو تمام سرگرمیوں میں شریک ہونے کے لیے ہر قسم کے تعصب سے بلند ہو کر یکساں مواقع فراہم کریں۔ نیز اسکولوں میں دار المطالعوں، تجربہ گاہوں اور بالخصوص تکنیکی و تعلیمی تجربہ گاہوں کا معقول انتظام ہو۔[8]

منظم اصلاحاتترميم

درسیات کے اس قومی خاکے کے ذریعہ تعلیمی نظام میں ایسی اصلاحات مقصود ہیں جن کی بنا پر نصاب تعلیم کو طلبہ مرکزی، آسان اور لچکدار بنایا جا سکے، جس میں اساتذہ کا کردار سہولت بخش فرد کا ہو اور زیر درس نصاب طلبہ کے تعلیمی عمل میں معاون اور حوصلہ افزا ہو، طلبہ کی فعال شراکت کو یقینی بنایا جائے، متعدد الفنون صلاحیتوں کی پرورش پیش نظر ہو اور تعلیمی نظام میں گوناگوں اور مسلسل جائزہ ممکن ہو سکے۔[8]

حوالہ جاتترميم

  1. Syllabus I-XII، National Council of Educational Research and Training, retrieved 2015-04-14.
  2. "Learning without Burden". 23 فروری 2008 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 06 اکتوبر 2016. 
  3. "National Policy on Education, 1985" (PDF). National Council of Educational Research and Training. 26 دسمبر 2018 میں اصل (PDF) سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 14 اپریل 2015. 
  4. National Focus Group Position Papers and NCF، National Council of Educational Research and Training, تاریخ اخذ 2015-04-14
  5. News on National Curriculum Framework، National Council of Educational Research and Training, آرکائیو شدہ [Date missing] بذریعہ ncert.nic.in [Error: unknown archive URL]
  6. NCERT draft curriculum framework criticised، The Hindu, 7 اگست 2005, retrieved 2015-04-14.
  7. ^ ا ب `Teaching profession is in a deep crisis'، Frontline, 1 مارچ 2008, retrieved 2015-04-14.
  8. ^ ا ب پ ت 2005، NCF. "NCF2005" (PDF). اخذ شدہ بتاریخ 24 ستمبر 2015ء.