مرکزی مینیو کھولیں
Qayyum Nazar.jpg

قیوم نظر کا اصل نام اصل نام عبد القیوم ہے، وہ 8 مارچ 1913 کو لاہور میں پیدا ھوئے۔ اردو اور پنجابی زبان کے ممتاز شاعر کے علاوہ نقاد، ڈراما نویس اور مترجم تھے۔ وہ اردو کے ان لکھنے والوں میں شامل ہیں جنھوں نے حلقہ ارباب ذوق کی بنیاد رکھنے میں اہم حصہ لیا جن میں میرا جی، ن م راشد ،حفیظ ھوشیار پوری، سید نصیر احمد جامعی، انجم رومانی، اختر ھوشیارپوری، حمید نظامی، میر اقبال احمد، سید امجد حسین، آفتاب احمد خان، حمید شیخ، صفدر میر، تابش صدیقی، یوسف ظفر اور مختار صدیقی وغیرہ کے اسمائے گرامی اہم ہیں۔ انہوں نے وہ حلقہ ارباب ذوق کے اولین متعمد عمومی منتخب ھوئے۔ گورنمنٹ کالج میں اردو اورپنجابی کے شعبہ جات میں درس و تدریس سے متعلق رھے اور پروفیسر کی حیثیت سے سبک دوش ھوئے۔۔ قیوم نظر کی شاعری میں اردو کی کلاسیکی شاعری کا گہرا اثر ہے۔ ١٩٣٣ میں ان کی پہلی غزل چھپی تھی۔ انھوں نے اردو غزل کو نیا مزاج عطا کیا۔ وہ میر تقی میر اور فانی بدایونی کے غزلیہ روایت سے متاثر رھے۔ سیاحت کا شوق تھا۔ ان کی شاعری میں فطرت کے تجربات اچھوتے نوعیت کے ہیں۔ انھوں نے اپنی اردو غزلوں اور نعتوں کو پنجابی میں منتقل کیا۔ 1989کو وفات پائی

کتابیںترميم

ان کی کتابوں میں

  • "پون جھکولے“
  • ”قندیل“
  • “ سویدا“
  • “واسوخت“
  • “زندہ ہے لاہور“
  • “اردو نثر انیسویں صدی میں“
  • “ امانت“

کے نام اہم ہیں۔ ان کا مجموعہ کلام “قلب و نظر کے سلسلے“ کے نام سے شائع ھوچکا ہے۔٢٣ بچوں کے لیے ایک کتاب “بلبل کا بچہ“ بھی لکھی جس کی نظم بلبل کا بچہ کھاتا تھا کھچڑی پیتا تھا پانی بہت مشہور ہوئی۔

انتقالترميم

قیوم نظر کا انتقال جون ١٩٨٩ میں کراچی میں ہوا۔ لاہور کے تاریخی قبرستان میانی صاحب میں پیوند زمین ھوئے۔