جس کی باقیات آج بھی رحیم یار خان شہر سے 10 کلومیٹر شمال میں موجود ہیں۔قلعہ مئو مبارک ان 6 قلعوں میں سے ایک ہے جو ’’رائے ساہرس ‘‘ نے 498 سے 632 کے درمیان بنائے۔ بعض روایات کے مطابق یہ قلعہ 5000 سال قدیم ہے۔ ساہرس کے بنائے تمام قلعوں میں یہ وہ واحد قلعہ ہے جو تاریخ سے لڑ کر اپنا وجود قائم رکھنے میں کام یاب رہا ہے۔ تاریخ کی کتابیں اس قلعے کی مستند معلومات کے حوالے سے خاموش ہیں۔ اس قلعے کے بارے میں جو معلومات آج ہم تک پہنچی ہیں وہ یہاں کے باسیوں کے ذریعے سینہ بہ سینہ منتقل ہوتی رہی ہیں۔آم کے گھنے اور تاحدِ نگاہ پھیلے باغات کے درمیان ایستادہ یہ قلعہ تقریباً 549 میٹر کی فصیل پر محیط تھا جس کے 20 مینار اور برج تھے۔ قلعے کے وسیع و عریض ڈھانچے کو مٹی سے بھرا گیا تھا جب کہ پُختہ اور موٹی اینٹوں سے بنی اس کی دیواریں انتہائی مضبوط اور چوڑی تھیں۔ آج بھی کہیں کہیں قلعے کی فصیل اپنی اصل حالت میں محفوظ ہے۔ اس قلعے کے متعلق مقامی افراد میں بہت سی کہانیاں اور روایتیں مشہور ہیں۔ یہاں موجود ایک بڑے اور پُراسرار پتھر کے بارے میں یہاں کے لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ پتھر جنات کا وزن کرنے کے لیے استعمال ہوتا تھا. ایک وقت تھا کہ اس کا وزن 5 ٹن ہوا کرتا تھا. وقت گزرنے کے ساتھ اب اسکا وزن 1 ٹن رہ گیا ہے۔ اس پر مختلف نشانات بھی ہیں۔یہ قلعہ ہماری شان دار ثقافت کا اہم حِصہ ہے جو آج بھی کھنڈرات کی شکل میں حکم رانوں کی نظرِ کرم کا منتظر ہے۔