محمود خلجی پندرہویں صدی عیسوی میں سلطنت مالوہ کا حکمران تھا جس نے 1436ء سے 1469ء تک حکومت کی۔

محمود خلجی
سلطان سلطنت مالوہ
Mahmud Khilji's Tomb 04.jpg
مانڈو، مدھیہ پردیش میں محمود خلجی کی قبر
تدفین1469ء
مانڈو، مدھیہ پردیش، بھارت

سوانح اور عہدِ حکومتترميم

محمود خلجی کے ابتدائی حالات دستیاب نہیں۔ 1435ء میں وہ ہوشنگ شاہ کے بیٹے محمد کو قتل کرنے کے بعد تخت نشین ہوا۔ دہلی سلطنت پر لشکر کشی کی مگر ناکام ہوا۔ بعد ازاں 1440ء میں میواڑ (ریاست اودے پور) کے حکمران رانا کنبھ کے ہاتھوں شکست ہوئی۔ تاہم محمود خلجی کے زمانہ حکومت میں سلطنت مالوہ طاقتور ہوتی چلی گئی۔1450ء میں محمود خلجی نے گجرات (بھارت) پر لشکی کشی کی، اُس وقت محمد شاہ دؤم وہاں حکمران تھا۔ محمود خلجی 80 ہزار گھڑسواروں کی فوج کے ہمراہ تھا۔ فروری 1451ء میں محمد شاہ دؤم انتقال کرگیا اور اُس کا بیٹا احمد شاہ دؤم حکمران بنا۔ محمود خلجی نے سلطان پور کا محاصرہ کر لیا اور سپہ سالار ملک علاؤ الدین سہراب قطب الدین نے ہتھیار ڈال دیے۔ علاؤ الدین کے ہتھیار ڈال دینے سے محمود خلجی نے اُسے مانڈو، مدھیہ پردیش کا گورنر مقرر کیا۔1451ء میں محمود خلجی نے ناگور فتح کر لیا۔

وفاتترميم

1469ء میں محمود خلجی فوت ہوا۔