مفتی نصیر احمد جلال آباد

ماضی قریب میں مغربی یوپی کے جن علما وصلحاء کی علمی وفقہی ، فکری وعملی اور اصلاحی وتبلیغی مساعی جمیلہ نے یہاں کے تاریک ماحول کو دینی و علمی فضا میں تبدیل کیا ، علاقہ کا علاقہ جن کے فیض سے روشن ومنور ہوا اور ایک بڑا خطہ جن کی دینی خدمات سے آج بھی مستفید ہورہاہے ،ان میں مفکر ملت حضرت مولانا مفتی نصیر احمد صاحب رحمۃ اللّٰہ علیہ کی ذات گرامی بھی ہے

نصیر احمد
لقبمفکر ملت / استاذ العلماء
ذاتی
پیدائش1351ھجری= 1931 عیسوی
وفات21/ محرم الحرام 1420ھجری = 8/ مئی 1999عیسوی، بہ روز ہفتہ
مدفنصحن [اداراہ فیض مسیح الامت، بڑوت باغپت ]]
مذہباسلام
والدین
  • علی جان (والد)
مادر علمیجامعہ مفتاح العلوم جلال آباد

ولادت ،تعلیم و تربیتترميم

آپ سنہ1351ھ مطابق سنہ 1931ء میں ضلع میرٹھ (حال ضلع باغپت ) قصبہ بڑوت ، گاؤں ادریس پور کے ایک عام اور متوسط گھرانے میں پیدا ہوئے ، والد ماجد کا نام علی جان بن رحمت علی تھا ، آپ نے اپنی محنت اور شوق ولگن سے تعلیم حاصل کی،7، 8/ سال کی عمر میں پرائمری اسکول میں داخل ہوئے ،تایا ابا صوفی عمرجان نےآپ کی "بسم اللّٰہ" کرائی ، اس کے بعد حفظ قرآن کے لیے گاؤں سے تین میل کے فاصلے پر قصبہ بڑوت کی "مرکزی مسجد پھونس والی" میں داخلہ لیا ۔ آپ نےاپنی فطری محنت اور خدا داد ذہانت کی بدولت 11/ ماہ کی قلیل مدت میں حفظ قرآن کی تکمیل کی ، فراغتِ حفظ کے بعدکچھ عرصہ عصری تعلیم سے وابستہ رہ کر سنہ 1367ھ میں مدرسہ مفتاح العلوم جلال آباد میں داخل ہوئے ، یہاں آپ کو ناظم جامعہ حضرت مولانا سلیم اللہ خان صاحب لوہاروی رحمہ اللّٰہ کی خاص تربیت اور نگرانی ملی ، استاذ محترم کی خاص توجہ اور آپ کی رات دن کی جدوجہدکایہ اثرہوا کہ ساڑھے تین سال کی قلیل مدت میں درس نظامی اور مختلف علوم و فنون سے سنہ 1370ھ میں فراغت پالی، چند سال کے تدریسی وقفہ کے بعد تجوید وقرأت اور افتاء کے لیے دار العلوم دیوبند کا رخ کیا ، صدر القراء حضرت مولانا قاری حفظ الرحمٰن صاحب پرتاب گڑھی رحمہ اللّٰہ سے تجوید وقرأت کی تعلیم حاصل کی اور حضرت مولانا مفتی سید مہدی حسن صاحب شاہ جہاں پوری رحمہ اللّٰہ سے رسم المفتی وغیرہ کے علاوہ خصوصیت کے ساتھ فتاوی کی تمرین ومشق میں درک حاصل کیا۔

تدریسی خدماتترميم

درسِ نظامی سے فراغت کے بعداپنے گاؤں ادریس پور میں مکتبی تعلیم کا آغاز کیااور مکاتبِ اسلامیہ کے لیے بہترین قابلِ تقلید نظام عمل پیش کرکے دکھایا ،اس کے بعد بزرگ اساتذہ کی جوہرشناس نگاہوں نے آپ کا انتخاب آپ کے مادر علمی مفتاح العلوم جلال آباد کے لیے فرمالیا ، ابھی دوسال ہی ہوئے تھے کہ استاذ خاص حضرت مولانا سلیم اللہ خان صاحب رحمۃ اللّٰہ علیہ کے حکم پر دار العلوم الاسلامیہ سندھ پاکستان چلے گئے ، یہاں درجات عربیہ کی تدریسی خدمات انجام دیں؛ لیکن ایک سال بعد واپس مفتاح العلوم جلال آباد ہی آگیے ،35/ سال تک تدریسی خدمات انجام دی، جس میں از ابتدا تا انتہا علوم و فنون کی مختلف کتابیں پڑھائیں، علمِ حدیث وعلمِ فقہ آپ کی توجہات کے خاص مرکز تھے ، فن حدیث میں ترمذی شریف ، ابن ماجہ ، شمائل، طحاوی ، مؤطین اور مشکاۃ جیسی اہم کتابیں زیر درس رہیں ، فن فقہ میں بالخصوص ہدایہ جیسی معرکہ آرا کتاب مسلسل آپ سے متعلق رہی ، آپ درس ہدایہ میں پیچیدہ اور مشکل مسائل کی گتھیاں چٹکیوں میں سلجھادیا کرتے تھے، زبان عربی پر بھی گہری دسترس تھی ، عبارت میں وارد ہونے والے اشکال واعتراضات ترجمہ سے ہی رفع کردیتے، ہر فن پر حاوی ہوکر کلام کرتے ، افہام وتفہیم پر خاص توجہ مرکوز رہتی تھی ، چنانچہ یہ بات مسلم رہی کہ آپ کا درس بے حد مقبول تھا ۔

فقہی خدماتترميم

علمی حلقوں میں مسندِ افتاء ایک اہم ترین منصب سمجھا جاتا ہے ،مفتاح العلوم جلال آباد میں جبالِ علم وطبقۂ اساتذہ کے ہوتے ہوئے فتویٰ نویسی باتفاق رائے آپ کے سپرد ہوئی ، مسند افتاء پر آپ نے اپنے آپ کو کبھی مستقل خیال نہ کیا ، چناں چہ فتویٰ نویسی میں کئی سال تک یہ معمول رہا کہ پہلے مسودہ بناکر اپنے شیخ ومرشد مسیح الامت حضرت مولانا محمد مسیح اللہ خان صاحب علیہ الرحمہ کو ملاحظہ کراتے اور حضرت والا کے ہی دستخط کراتے ، پھر حضرت والاکے زبانی سند اعتماد واجازت پر اپنے دستخط شروع کیے ، آپ کی علمی وفقہی مہارت وصلاحیت پر حضرت جی رح کو کلی اعتماد تھا ، جس کا متعدد مرتبہ اظہار بھی فرماتے تھے۔ سنہ 1396ھ میں جلال آباد میں شعبہ تکمیل افتاء کا قیام عمل میں آیا تو اس شعبہ کی تمام ذمہ داریاں اور تمام کتب کی تدریس وتمرین بھی آپ ہی سے متعلق ہوئیں ، المختصر ! آپ ایک طویل عرصہ تک منصب افتاء کی صدارت پر فائز رہے ،عرف عام سے گہری واقفیت اور مسائل کے جزئیات پر بصیرت تھی، آپ کے فتاویٰ تصلب فی الدین کا مظہر ہوتے تھے ،وقت کے اکابر علما ومفتیان کرام (بالخصوص دارالعلوم دیوبند، مظاہر علوم سہارنپور کے ارباب افتاء)کو بھی اعتماد تھا، چناں چہ آپ نے "رسالہ الجمعۃ" نامی ایک طویل فتوی مرتب فرمایا تو اس پر صدر مفتی دار العلوم دیوبند حضرت مولانا مفتی نظام الدین صاحب رحمہ اللّٰہ نے ان الفاظ میں تصویب فرمائی :"التحقیق انیق وصاحب التخریج نجیح" اس کے علاؤہ متعدد علما وفقہاءکے اعتماد کی ایک طویل تفصیل ہے ، 7/ جلدوں پر مشتمل آپ کے فتاوی کا مجموعہ "فتاوی مفتاح العلوم المعروف بہ فتاوی نصیریہ" طباعت واشاعت کے مرحلہ میں ہے ، فتاوی کا یہ مکمل ذخیرہ حضرت مفتی صاحب رحمہ اللّٰہ کے فرزند ارجمند مولانا محمد کامل صاحب مدظلہ ناظم اعلیٰ ادارہ فیض مسیح الامت بڑوت کی مساعی جمیلہ سے تخریج وتعلیق کے ساتھ منظر عام پر آرہا ہےان شاء اللہ۔

تحریک قیامِ مدارس ومکاتبترميم

تدریسی مصروفیات کےساتھ جس چیز کو آپ نے سب سے زیادہ محسوس کیا وہ قوم وملت کی بے دینی اور جہالت وضلالت تھی ، دینی تڑپ اور فکر ولگن دامن گیرہوئی ، اسی جذبہ صادق اور اور اصلاح معاشرہ کے لیے آپ نے انجمن اتحاد وترقی کی صدارت قبول فرمائی۔ قوم وملت کو زیورِ تعلیم سے آراستہ کرنے اور ان کی دینی تعلیم وتربیت کی غرض سے جہالت وناخواندگی کے ماحول میں علم دین کی شمع جلاکر "انجمن تعلیم وترقی" کی بنیاد ڈالی ، اس کے تحت اپنے تلامذہ وعلماء کو شامل فرماکر قریہ قریہ اور بستی بستی مدارس ومکاتب کے قیام کو اپنا مشن بنایا۔ اس تحریکی میدان میں آپ کو اجڈ دیہات کے ضدی لوگوں کا سامنا کرنا پڑا ، بے تکی اور تلخ باتیں سننی پڑی ،کڑوی کسیلی باتوں کے باوجود آپ صبر وہمت کے کوہِ گراں بنے رہے،جس پر اللہ نے کامیابی سے نوازا۔ آپ کی سچی لگن اور جدوجہدہی کا نتیجہ تھا کہ اس خطے میں تین درجن سے بھی زائد مدارس ومکاتب قائم ہوئے ، جن میں سے متعدد مدارس آج بھی بڑے پیمانے پر علمی ودینی خدمات انجام دے رہے ہیں ، مدرسہ امدادالاسلام ہرسولی ، مدرسہ امدادالعلوم مکھیالی ، مدرسہ بلاس پور اور مدرسہ اشاعت الاسلام رٹھوڑہ وغیرہ آپ ہی کے قائم کردہ ہیں ، جو بلاشبہ آپ کے لیے صدقہ جاریہ بنے ہوئے ہیں۔

بیعت واجازتترميم

حضرت مفتی صاحب رحمہ اللّٰہ کو تصوف وسلوک سے طبعی مناسبت تھی ، آپ کی بودو باش اور شب وروز کے معمولات متصوفانہ تھے ، درسی تقریروں میں بھی سلوک کے نکات ایک خاص انداز سے بیان فرماتے ، آپ زمانہ طالب علمی ہی میں مسیح الامت حضرت جلال آبادی رحمہ اللّٰہ سے بیعت ہوگیے تھے اور ایسے وابستہ ہوئے کہ پھر تاحیات کسی دوسری جگہ کا خیال بھی نہ آیا ، اصلاحی خطوط وکاپیاں لکھنے کا مستقل معمول رہا، حضرت والا سے روحانی طور پر استفادہ واستفاضہ کرتے رہے،اسی لیے حضرت والا کے ممتاز خوشہ چینوں میں آپ کا شمار ہوتا تھا ، اپنے مرشد کی احسانی تعلیم و تربیت ، ایمانی حرارت اور نفس گرم کی صحبتوں کا اثر تھا کہ جب آپ سلوک کے موضوع پر گفتگو فرماتے تو صاف محسوس ہوتا کہ معارف مسیح الامت کے امین ہی نہیں؛ بلکہ محقق بھی ہیں ، ہرسوال کے جواب میں آپ ایسی بات فرماتے جس سے سلوک کے کسی نہ کسی امر کی طرف اشارہ ہوتا ۔ حضرت جلال آبادی رحمہ اللہ کے وصال کے بعد آپ نے فقیہ الاسلام حضرت مولانا مفتی مظفرحسین صاحب سہارنپوری رحمہ اللّٰہ ناظم اعلیٰ مظاہرعلوم سہارنپور کی طرف رجوع فرمایا ، حضرت والا نے اصلاحی کاپیاں دیکھنے کے تھوڑے سے وقفہ بعد ہی اجازت و خلافت سے سرفراز فرمایا۔

تصنیف وتالیفترميم

حضرت مفتی صاحب رحمہ اللہ کو منجانب اللہ تصنیف وتالیف کا ملکہ عطا ہوا تھا ،اس ذوق کی عکاسی درس نظامی کی سند فراغت پہ وہ شہادت ہے جسے آپ کے استاذ خاص حضرت مولانا سلیم اللہ خان صاحب رحمہ اللّٰہ نے سند پہ رقم کرایا تھا، شہادت ملاحظہ فرمائیں:

  • ٫ولہ مناسبۃ بالعلوم تامۃ یقدر بھا علی التدریس والتالیف والتحشیۃ والافادۃ بابلغ وجہ بعونہٖ تعالیٰ"

آپ کی زندگی ہمہ جہت مصروفیت کی حامل تھی ، تدریسی سلسلہ ، مدارس و مکاتب کے قیام کے لیے تحریکی خدمات اور منصب افتاءکی مستقل ذمہ داریوں کےباوجود 15/تصانیف ورسائل آپ کے قلم سے معرض وجود میں آئے ۔ آپ کا سب سے بڑا تالیفی کارنامہ علم حدیث میں "فضل الباری فی درس البخاری" کی جمع وترتیب ہے ، جسے آپ نے شبانہ روز جدوجہد ، جانفشانی وعرق ریزی سے صاحبِ درس حضرت جلال آبادی رحمہ اللہ کے ذوق ومزاج کا خیال رکھتے ہوئے 5/ جلدوں میں مرتب فرمایا ، اس کے علاؤہ رسالہ الجمعۃ ، اکابر کا فتویٰ، خواب کی تعبیر کیا ہے ، جدید تعلیم نے مسلمانوں کو کیا دیا اور فتاوی وغیرہ کا ایک بڑا مطبوعہ وغیر مطبوعہ قلمی ذخیرہ چھوڑا ۔ آپ کی تحریرات علمی تحقیقات کا مظہر، تبحر علمی اور وسعتِ مطالعہ کی غماز ہیں، تالیفی منہج میں اکابر علمائے دیوبند بالخصوص [[حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللّٰہ کے پیروکار تھے۔

امتیازات وکمالاتترميم

اللہ رب العزت نے آپ کو بے شمار خوبیوں اور اوصاف وکمالات سے نوازا تھا ، تجوید وقرأت کے آپ ماہر تھے ، آپ کی خوش گلوئی مفتاح العلوم جلال آباد میں معروف تھی ، اذان پڑھنے کی بات ہو یا نماز پڑھانے کی سعادت، آپ بخوشی انجام دیدیا کرتے تھے ، آپ ایک خاص لہجہ میں کلام پاک پڑھتے تھے ، آپ کی اقتدا میں نمازاداکرنے والا یہ محسوس کیے بغیر نہ رہتا کہ ایک عاشق صادق نماز پڑھا رہاہے ، اہل اللہ بالخصوص حضرت مسیح الامت کو بھی نماز میں ایک سکون ولطف ملتا تھا ، بسا اوقا آپاپنے متعلقین سے فرماتے کہ "نماز ایسی پڑھایاکرو جیسی مفتی نصیر پڑھاتے ہیں " ۔ انسان سازی کا خاص ملکہ تھا ،آپ کی زیر تربیت رہنے والے دیہات کے طلبہ صحیح عقل وفہم کے مالک بن جاتے تھے، منکر پر نکیر کا خاص وصف آپ کی طبیعت میں شامل تھا ، غیر شرعی امور کے صدور پر خاموشی اور چشم پوشی آپ کے لیے مشکل ہوجاتی ، عزیمت پر عمل کرتے ہوئے روک وٹوک اور مناسب تنبیہ فرماتے، جس میں حق گوئی ، بے باکی ، روشن دماغی اور حاضر جوابی بھی کارفرما ہوتی تھی۔ آپ کے امتیازات میں پرکشش اور جاذب نظر تحریر بھی ایک نمایاں وصف ہے، آپ کا خط نستعلیق اور مثالی تھا ، تحریر دیکھ کر قاری کا جی خوش ہوجاتا ،علاؤہ ازیں اتباعِ سنت اور تواضع وسادگی میں آپ کی شخصیت جامعہ اپنی مثال آپ تھی، آپ کے ایک تلمیذ رشید مفتی محمد طیب صاحب رٹولوی رقم طراز ہیں:

  "خلاصہ کے طور پر اتنا ضرور عرض ہے کہ ایک ایسی شخصیت جو بیک وقت عظیم مفتی ، خوش الحان قاری ، بہترین خطاط ، راہِ طریقت کا شناور ، تربیت ورجال سازی کا ماہر، سچا عاشق رسول اور عاشق خدا بھی ہو، کم ہی پیداہوتے ہیں ، اگرچہ ہمارے علم میں تو جب سے ہم نے ہوش و خرد کے ناخن لیےہیں آج تک بھی نہیں ہے۔

وفاتترميم

آپ نے اخیر عمر میں بڑی جد وجہد اور محنت ومشقت سے بڑے منصوبے اور بلند عزائم کے ساتھ بڑوت میں ایک مدرسہ قائم فرمایا، حضرت جلال آبادی کی نسبت پر ادارہ فیض مسیح الامت نام تجویز فرمایا ، مرشد ثانی حضرت فقیہ الاسلام سے سنگِ بنیاد رکھوایا ، مدرسہ ہذا اپنے ابتدائی مرحلہ میں تھا کہ داعی اجل کا پروانہ آگیا ، 21/ محرم الحرام سنہ 1420ھ ، مطابق 8/ مئی سنہ 1999ء بہ روز ہفتہ ایک بجے مالک حقیقی سے جاملے، مدرسہ ہذا کے وسیع صحن میں عشا کے بعد تدفین عمل میں آئی۔

حوالہ جاتترميم

تذکرۂ نصیر ۔ مرتب : مولانا محمد کلیم نعمانی حفظہ اللّٰہ ، فضل الباری فی درس البخاری (جدید ایڈیشن)