مگدھی پراکرت مگدھ کے علاقے میں رائج پراکرت زبان تھی جو موجودہ جنوبی بہار کا حصہ تھا۔ اس پراکرت کا استعمال سنسکرت ڈراموں میں نچلے طبقے کی گفتگو میں پایا جاتا ہے۔

مگدھی پراکرت
ماگدھی
علاقہبھارت
معدوممگدھی کا ارتقا ہوا
زبان رموز
آیزو 639-3pka
گلوٹولاگکوئی نہیں

خصوصیاتترميم

مگدھی پراکرت میں 'ر' کی آواز پائی نہیں جاتی۔ اس کے بولنے والے عام طور پر 'ر' کی آواز کی جگہ 'ل' کا استعمال کرتے تھے۔ مثلاً درِدر کو دلِد یا دلِدر اور راجا کو لاجا۔

مگدھی پراکرت اور اردو ادبترميم

اردو کے کچھ مصنفین نے دورانِ تصنیف دیگر زبانوں کا بھی خاطرخواہ تصرف کیا ہے۔ ایسے ہی ایک مصنف سیداحمد قادری نے اپنے افسانوی مجموعہ "ملبہ" میں انہوں نے مگدھی پراکرت کواردو میں سموکر ایک خوب صورت امتزاج بناکردکھایاہے۔[1]

مزید دیکھیےترميم

حوالہ جاتترميم