نئی گاج (انگریزی: Nai Gaaj) پاکستان کے صوبہ سندھ کے ضلع دادو کے تحصیل جوہی کے قریب کھیرتھر سلسلہ کوہ میں سے بہتی ہوئی کاچھو کے میدانی علاقے میں داخل ہوتی ہے۔ سندھی زبان میں گاج کا مطلب ہے گرج یا شور اور نئی کا مطلب ہے برساتی نالہ۔ نئی گاج ساون کی بارشوں میں بڑے شوروغل سے بہتی ہے جس وجہ سے اس پر نام گاج پڑا۔ ساون کی بارشوں میں جب یہ نئہ بہتی ہے تو اس کے بہنے کا شور علاقے میں دُور دُور تک سننے میں آتا ہے۔ گاج نئہ بلوچستان کے ضلع خضدار سے شروع ہوتی ہے۔ ساون میں بلوچستان کے شہر خضدار، خضدار ضلع کے علاقے کرخ اور زیدی کے برساتی نالوں کا پانی نئی گاج میں شامل ہوتا ہے تو یہ نئی دریا کی ماند بہتی ہے۔ سندھ میں تھخ کے راستے داخل ہوتی ہے۔ اس کا بہاء بہت طاقتور ہے۔ جب بند توڑتی ہے تو علاقے میں خطرناک سیلاب آتا ہے۔ میاں نصیر محمد کلہوڑو (1657ء-1692ء) نے زراعت کو فروغ دینے کے لیے گاج نئہ پر نہروں کا نظام بنایا تھا۔ برطانوی ہندوستان میں انگریزوں نے اس نئہ پر اریگیشن سسٹم کے لیے ایک الگ گاج ڈویزن قائم کی تھی اور گاج نئہ کے کنارے ریسٹ ہائوس بھی تعمیر کیے تھے۔ انگریز دور میں ڈائیورشن بند (Diversion Band) بنا کر گاج کا رخ منچھر جھیل کی طرف موڑا گیا تھا۔ اس بند کو مقامی زبان میں “تیر بھت” کہتے ہیں۔ انگریزوں نے پہاڑوں کے اندر گاج کے کناروں پر تفریحی کئمپ بھی قائم کیا تھا جو اب خستہ حالی کا شکار ہے۔ گاج کے پانی پر ہزاروں ایکڑ زمین آباد ہوتی ہے۔ گاج نئہ میں پہاڑوں میں موجود قدرتی چشموں کا پانی پورا سال بہتا رہتا ہے۔ اس پانی پر نہ صرف کاچھو کی بارانی زمینیں آباد ہوتی ہیں بلکہ پہاڑوں کے اندر مڈ آبپاشی نظام (Madd Irrigation System ) کے ذریعے مقامی لوگ پانی لفٹ کر کہ پہاڑوں میں چھوٹی چھوٹی وادیوں میں زمین آباد کرتے ہیں۔ نئی گاج صدیوں سے بہتی چلی آ رہی ہے۔ گاج کے دونوں کناروں پر قدیم بستیوں کے آثار بھی ہیں تو پہاڑوں پر قدیم زمانے کی راک کارونگ (Rock Carving) کے آثار بھی موجود ہیں۔[1] حکومت پاکستان نے نئی گاج کے پانی پر نئی گاج ڈیم تعمیر کیا ہے جو ابھی فعال نہیں ہوا۔[2]

نئی گاج کا بہاءُ

حوالہ جات

ترمیم