ونی یا سوارہ ایک رسم کے دو نام ہیں۔ پنجاب میں اسے ونی جبکہ سرحد میں سوارہ کہا جاتا ہے۔سندھ اور بلوچستان میں بھی اسی طرح کی رسمیں ہیں جن کے ذریعے دو خاندانوں میں صلح کی خاطر جرگہ یا پنچایت کے ذریعے بطور جرمانہ ہرجانہ لڑکیاں دی جاتی ہیں بعض اوقات تو کم سن لڑکیاں بڑی عمر کے لوگوں سے بیاہی جاتی ہیں اور اسی کو ونی کہا جاتا ہے۔

پس منظر

ترمیم

ونی ایک روایت ہے قدیم زمانہ میں قبیلوں اور خاندانوں میں دشمنیوں اور قتل و غارت کو روکنے کے لیے جرگے اور پنچایت کا نظام رائج تھا اور اسی کے ذریعے اس طرح کے فیصلے کیے جاتے تھے عموماً قتل و اغوا کے فیصلوں میں دو خاندانوں کی رنجش ختم کرنے کے لیے اور دونوں خاندانوں میں بھائی چارہ قائم کرنے کے لیے لڑکیوں اور خاندانوں کی باقاعدہ رضا مندی سے یہ فیصلے ہوتے تھے تاکہ آیندہ اس طرح کے واقعات نہ ہوں۔ مغل بادشاہ جلال الدین اکبر نے دور شہنشاہیت میں ہندوؤں کی رسم ستی اور مسلمانوں کی رسم ونی یا سوارہ کے خاتمے کے لیے کوششیں کیں لیکن وہ مکمل طور پر کامیاب نہ ہو سکا۔ مغلوں کے بعد انگریزوں نے بھی اس کوختم کرنے کی کوشش کی لیکن وہ ان فرسودہ رسومات کو ختم نہ کر سکے ۔

مزید دیکھیے

ترمیم
  یہ ایک نامکمل مضمون ہے۔ آپ اس میں اضافہ کر کے ویکیپیڈیا کی مدد کر سکتے ہیں۔