جنرل (ر) پرویز مشرف (پیدائش: 11 اگست 1943ء، دہلی) پاکستان کے دسویں صد‏‏ر تھے۔ مشرف نے 12 اکتوبر 1999ء کو بطور رئیس عسکریہ ملک میں فوجی قانون نافذ کرنے کے بعد وزیر اعظم نواز شریف کو جبراً معزول کر دیا اور پھر 20 جون 2001ء کو ایک صدارتی استصوابِ رائے کے ذریعے صدر کا عہدہ اختیار کیا۔ جس سے قبل آپ ملک کے چیف ایگزیکٹو (chief executive) کہلاتے تھے۔ مشرف نے 18 اگست 2008ء کو قوم سے اپنے خطاب کے دوران میں اپنے استعفا کا اعلان کیا۔ انہوں نے متواتر آئین کی کئی خلاف ورزیاں کیں اور علی الاعلان اس کو مانا۔

پرویز مشرف
Pervez Musharraf 2004.jpg 

مناصب
Flag of the Pakistani Army.svg سربراہ پاک فوج   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں منصب (P39) ویکی ڈیٹا پر
مدتِ منصب
6 اکتوبر 1998  – 28 نومبر 2007 
Fleche-defaut-droite-gris-32.png جہانگیر کرامت 
اشفاق پرویز کیانی  Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
چیئرمین چوائنٹ چیف آف اسٹاف کمیٹی   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں منصب (P39) ویکی ڈیٹا پر
مدتِ منصب
8 اکتوبر 1998  – 7 اکتوبر 2001 
Fleche-defaut-droite-gris-32.png جہانگیر کرامت 
عزیز خان  Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
وزیر دفاع پاکستان   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں منصب (P39) ویکی ڈیٹا پر
مدتِ منصب
12 اکتوبر 1999  – 23 اکتوبر 2002 
Fleche-defaut-droite-gris-32.png نواز شریف 
راؤ سکندر اقبال  Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
Flag of the Prime Minister of Pakistan.svg وزیر اعظم پاکستان   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں منصب (P39) ویکی ڈیٹا پر
مدتِ منصب
12 اکتوبر 1999  – 21 نومبر 2002 
Fleche-defaut-droite-gris-32.png نواز شریف 
ظفر اللہ خان جمالی  Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
Presidential Standard of Pakistan.svg فہرست صدر پاکستان   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں منصب (P39) ویکی ڈیٹا پر
مدتِ منصب
20 جون 2001  – 18 اگست 2008 
Fleche-defaut-droite-gris-32.png رفیق تارڑ 
محمد میاں سومرو  Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
معلومات شخصیت
پیدائش 11 اگست 1943 (74 سال)[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
دہلی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of Pakistan.svg پاکستان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
جماعت پاکستان مسلم لیگ ق  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں سیاسی جماعت کی رکنیت (P102) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
مادر علمی فارمین کرسچین کالج
پاکستان ملٹری اکیڈمی
نیشنل ڈیفینس یونیورسٹی، پاکستان
رائل کالج آف ڈیفنس اسٹڈی
سینٹ پیٹرک اسکول (1957–)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیم در (P69) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ سیاست دان،عسکری افراد کار  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
عسکری خدمات
عہدہ منصب جامع  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں عسکری رتبہ (P410) ویکی ڈیٹا پر
لڑائیاں اور جنگیں پاک بھارت جنگ 1965ء،پاک بھارت جنگ 1971ء،بلوچستان تصادم،شمال مغرب پاکستان میں جنگ،12 اکتوبر 1999 کی پاکستان کی فوجی بغاوت،افغان خانہ جنگی،سیاچن تنازع،کارگل جنگ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں لڑائی (P607) ویکی ڈیٹا پر
اعزازات
Star of Excellence Sitara-e-Imtiaz.png ستارۂ امتیاز 
Medal of Good Conduct Tamgha-e-Basalat.png تمغا بسالت
Star of Good Conduct Sitara-e-Basalat.png امتیازی سند
Order of Excellence Nishan-e-Imtiaz.png نشان امتیاز 
آرڈر آف زاید
Spange des König-Abdulaziz-Ordens.png آرڈر آف عبد العزیز السعود  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں وصول کردہ اعزازات (P166) ویکی ڈیٹا پر
ویب سائٹ
IMDb logo.svg
IMDB پر صفحہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں آئی ایم ڈی  بی - آئی ڈی (P345) ویکی ڈیٹا پر

فہرست

پاک بھارت جنگوں میں شمولیت

پاک بھارت جنگیں

جنرل پرویز مشرف نے بھارت کے ساتھ ہونے والی دونوں جنگوں یعنی پاک بھارت جنگ 1965ء اور پاک بھارت جنگ 1971ء میں حصہ لیا اور کئی فوجی اعزازات حاصل کیے لیکن پرویز مشرف کے سینیر آفیسر اور استاد جرنل حمید گل کا کہنا ہے کہ مشرف ان دونوں جنگوں میں سے کسی میں شریک نہیں ہوئے۔

اقتدار پر قبضہ

جب 12 اکتوبر 1999ء میں نواز شریف نے جنرل پرویز مشرف کو معطل کر کے آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل خواجہ ضیاء الدین کو نیا آرمی چیف مقرر کرنا چاہا تو اس وقت جنرل پرویز مشرف ملک سے باہر سری لنکا میں سرکاری دورے پر گئے ہوئے تھے اور ملک واپس آنے کے لیے ایک کمرشل طیارےپر سوار تھے۔ تب فوج کے اعلیٰ افسران نے ان کی برطرفی کو مسترد کر دیا اور بغاوت کر دی۔ وطن پہنچ کر جنرل پرویز مشرف نے اقتدار سنبھالا اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے وزیراعظم میاں محمد نوازشریف کی منتخب جمہوری حکومت کو معزول کر دیا اور ان کے خلاف ایک کیس تیار کر دیا۔ ملک میں ایمرجنسی نافذ کر دی اور تین سالوں میں الیکشن کروانے کا وعدہ کیا۔ بعض ذرائع کے مطابق یہ پلان پہلے سے ہی بنا ہوا تھا اور یہی وجہ تھی کہ مشرف کو معطل کیا جا رہا تھا۔

امریکی جنگ میں شمولیت

9 ستمبر 2001ء میں امریکی ورلڈ ٹریڈ سنٹر پر حملوں کے بعد 13 ستمبر 2001ء کو پاکستان میں امریکی سفیر ونڈی چیمبر لین کے ذریعے پرویز مشرف کے سامنے واشنگٹن نے سات مطالبات رکھے جنہیں پرویز مشرف نے فوری طور پر تسلیم کر لیا اور یوں امریکی جنگ میں پاکستان باقاعدہ طور پر شامل ہوگیا۔ راتوں رات تین دہائیوں پر مشتمل افغان پالیسی تبدیل کردی گئی۔[2]

Either you are with us or you are with the terrorists[3]
US threatened to bomb Pakistan 'back to stone age' after 9/11[4]

پاکستانی شہریوں کی امریکا کو حوالگی

اس جنگ کے دوران میں پرویز مشرف نے امریکی ہدایات پر 689 افراد کو گرفتار کیا جن میں سے 369 افراد بشمول خواتین کو امریکا کے حوالے کیا گیا۔ جنرل مشرف اپنی یاداشت پر مبنی کتاب In The Line Of Fire میں اعتراف کرتے ہیں کہ ہم نے ان افراد کے عوض امریکا سے کئی ملین ڈالرز کے انعام وصول کئے۔ یہ جملہ انہوں نے بعد ازاں اردو ترجمہ سے حذف کردیا۔ وہ MANHUNT نامی مضمون میں لکھتے ہیں۔

We have captured 689 and handed over 369 to the United States. We have earned bounties totaling millions of dollars . Page No. 237

پرویز مشرف کے گرفتار اور امریکی کے حوالے کئے جانے والے افراد میں اکثریت ان عام افراد کی تھی جو افغانستان میں تعلیمی و فلاحی یا نجی کاموں سے گئے تھے جن کو امریکا نے گوانتا ناموبے میں کئی برس تک بدترین تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد بالآخر رہا کر دیا۔

ریفرینڈم 2000ء

20 مئی 2000ء میں عدالت عظمیٰ پاکستان نے جنرل پرویز مشرف کو حکم دیا کہ وہ اکتوبر 2002ء تک انتخابات کروائیں۔ اپنے اقتدار کو طول دینے اور محفوظ کرنے کی غرض سے انہوں نے 30 اپریل 2002ء میں ایک صدارتی ریفرینڈم کروایا۔ جس کے مطابق 98 فیصد عوام نے انہیں آئندہ 5 سالوں کے لیے صدر منتخب کر لیا۔ البتہ اس ریفرینڈم کو سیاسی جماعتوں کی اکثریت نے مسترد کر دیا اور اسکا بائیکاٹ کیا۔ جنرل پرویز مشرف نے اپنے اقتدار کے راستے میں آنے والے بہت سے عہدیداروں کو بھی ہٹایا جن میں عدالت عظمیٰ کے منصفین حضرات اور بلوچستان پوسٹ کے ایڈیٹر بھی شامل ہیں۔

اکتوبر 2002 عام انتخابات

اکتوبر 2002 میں ہونے والے عام انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ (ق) نے قومی اسمبلی کی اکثر سیٹیں جیت لیں۔ یہ جماعت اور جنرل پرویز مشرف ایک دوسرے کے زبردست حامی تھے۔ دسمبر 2003 میں جنرل پرویز مشرف نے متحدہ مجلس عمل کے ساتھ معاہدہ کیا کہ وہ دسمبر 2004 تک وردی اتار دیں گے لیکن انہوں نے اپنے اس وعدے کو پورا نہ کیا۔ اس کے بعد جنرل پرویز مشرف نے اپنی حامی اکثریت سے قومی اسمبلی میں سترہویں ترمیم منظور کروا لی جس کی رو سے انہیں پاکستان کے باوردی صدر ہونے کا قانونی جواز مل گیا۔

ستمبر 2007 نواز شريف كي واپسی

10 ستمبر 2007ء كو جلاوطن مسلم ليگی رہنما سابق وزیراعظم مياں محمد نواز شريف سعودی عرب سے واپس پاکستان آئے۔ لیکن مشرف حکومت نے ان کو کافی دیر جہاز میں روکے رکھا اور مبینہ طور پر دھوکے سے ایک دفعہ پھر سے جلاوطن کر کے سعودی عرب بھیج دیا۔ پاکستان کے سیاسی قائدین نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا۔ یورپی یونین نے بھی نواز شریف کے حق میں صرف بیان دیا۔

دوسرا فوجی تاخت

تفصیلی مضمون فوجی تاخت 2007ء

3 نومبر 2007ء کو پرویز مشرف نے فوجی سربراہ کی حیثیت سے دوسرا فوجی تاخت انجام دیا، جس کا مقصد اعلیٰ عدالت کی آزادی کو ختم کرنا تھا۔ مشرف فوج کے سربراہ کے عہدے سے نو سال بعد 28 نومبر 2007ء کو سبکدوش ہو گئے۔ 29 نومبر 2007ء کو پانچ سال کے نئے دور کے لیے صدر کا حلف اُٹھایا، جو عوامی اور سیاسی حلقوں میں متنازع ہے۔[5] لیکن فوجی وردی کے بغیر وہ اس عہدے پر نو مہینے بھی برقرار نہ رہ سکے۔

صدارت سے استعفا

پرویز مشرف نے 18 اگست، 2008 کو قوم سے خطاب میں اپنے مستعفی ہو نے کا اعلان کیا۔ اُن کی جگہ آئین کے تحت سینٹ کے چیئر مین میاں محمد سومرو نے عبوری صدر کا عہدہ سنبھالا۔ پارلیمنٹ کو ایک مہینے کے اندر اندر نئے صدر کا انتخاب کرنا تھا۔ چنانچہ عام انتخابات 2008ء کے بعد نئی حکومت کے آصف علی زرداری نے نئے صدر کا حلف اٹھایا۔ بحیثیت صدر پرویز مشرف نے اپنی خود نوشت انگریزی میں بنام "ان دی لائین آف فائر" (انگریزی: In the Line of Fire) تحریر کی جس کو اردو میں سب سے پہلے پاکستان کے نام شائع کیا گیا۔

صدارت سے ہٹنے کے کچھ دیر بعد مشرف برطانیہ جا کر مقیم ہو گئے۔ 2011ء میں زرداری حکومت نے بے نظیر قتل مقدمہ کی تفتیش کی خاطر مشرف کو پاکستان واپس بھیجنے کا برطانیہ سے مطالبہ کیا جو برطانیہ نے رد کر دیا۔[6]

مشرف اور آئی ایم ایف

 
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مشرف کے دور حکومت میں پاکستان پر قرضوں کے بوجھ میں بڑی کمی آئی تھی۔[7]

1990ء سے پاکستان کی حکومتوں نے آئی ایم ایف سے قرضے لئے تھے لیکن سخت شرائط کی وجہ سے کوئی بھی قرضہ ادا نہ ہو سکا۔ 1999ء میں مشرف نے حکومت سنبھالنے کے بعد آئی ایم ایف سے جو قرض لیا وہ بخوبی ادا کر دیا[8]
18 جنوری 2003ء کو مشرف نے اعلان کیا کہ ملک کو اب آئی ایم ایف کے قرضوں کی کوئی ضرورت نہیں ہے اور امید ہے کہ اگلے دو تین سالوں میں ہم قرضوں کے چنگل سے پوری طرح جان چھڑا لیں گے۔ مشرف نے الزام لگایا تھا کہ (جنرل محمد ضیاء الحق کے بعد) 1988ء سے 1999ء کے دوران پاکستان کی مختلف جمہوری حکومتوں نے 1200 ارب روپے ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کرے مگر عملاً ملک میں کوئی بھی ترقی کہیں بھی نظر نہیں آئی۔[9]

چند مزید متنا زع اقدامات

  • پتنگ بازی اور مخلوط میراتھن ریس
  • حدود آرڈینیس میں ترمیم
  • جامعہ حفصہ اور لال مسجد پر فوجی آپریشن
  • قومی مفاہمتی آرڈینینس المعروف این آر او
  • بلوچستان آپریشن، اکبر بگٹی کا قتل
  • ڈاکڑ عبد القدیر خان کی بے توقیری اور طویل نظر بندی
  • ڈاکڑ عافیہ صدیقی کا اغوا اور آمریکہ کو حوالگی
  • اسرائیل سے درپردہ روابط
  • اعتماد سازی کے نام پر بھارت سے دوستی اور ثقافتی روابط

مشرف کی تقاریر اور انٹرویو

مزید دیکھیے

بیرونی روابط

سرکاری
سی این این
مشرف کے مقالہ جات
گفتگو
تبصرے

حوالہ جات

فوجی دفاتر
پیشرو 
خالد لطیف مغل
جنرل آفس کمانڈنگ آئی سڑائیک کور
1995–1998
جانشین 
سلیم حیدر
پیشرو 
جہانگیر کرامت
چیئرمین مشترکہ رؤسائے عملہ کمیٹی
1998–2001
جانشین 
عزیز خان
چیف آف آرمی سٹاف
1998–2007
جانشین 
اشفاق پرویز کیانی
سیاسی دفاتر
پیشرو 
نواز شریف
بطور وزیر اعظم پاکستان
چیف ایگزیکٹو پاکستان
1999–2002
جانشین 
ظفراللہ خان جمالی
بطور وزیر اعظم پاکستان
پیشرو 
نواز شریف
وزیر دفاع
1999–2002
جانشین 
راؤ سکندر اقبال
پیشرو 
محمد رفیق تارڑ
صدر پاکستان
2001–2008
جانشین 
میاں محمد سومرو
عبوری