روشنی (فارسی) یا نور (عربی) ایک برقناطیسی اشعاع ہے جس کا طول موج اِنسانی آنکھ کے لیے قابلِ دید ہے (تقریباً 400-700 نینومیٹر).

یہ قوت ہی کی ایک شکل ہے۔ یہ ایک محرک لہر ہے۔ جب یہ آنکھوں سے ٹکراتی ہے تو دیکھنے کی حس پیدا ہوتی ہے۔ با الفاظ دیگر ہم روشنی کے ذریعے ہی دیکھتے ہیں۔ نیوٹن کے نظریہ جسیمی Corpuscular کی رو سے روشنی چھوٹے چھوٹے ذرات پر مشتمل ہے۔ یہ طویل موج(waves)، جس میں چھوٹی سے چھوٹی اور لمبی سے لمبی شامل ہو سکتی ہے۔

روشنی جو ہماری آنکھوں پر نظر انداز ہوتی ہے اس کی طول موج یعنی wave length انچ کے چالیس ہزارویں حصے سے اس ہزارویں حصے تک طول (length) موج رکھتی ہے۔

رفتار

ترمیم

ہر قسم کی روشنی ایک ہی رفتار رکھتی ہے جو 300,000,000 میٹر فی سیکنڈ یا 186,000 میل فی سیکنڈ ہے۔ اب تک کی معلوم رفتاروں میں سب سے تیز رفتار روشنی کی ہے ۔

سفید روشنی

ترمیم
فائل:PrismAndLight.jpg
منشور سے گزرتی ہوئی روشنی

سفید روشنی بہت سے رنگوں کا مجموعہ ہے۔ روشنی کی ایک شعاع (ray) کو ایک تکونی منشور (prism) سے گزار کر اس کا بہ آسانی تجربہ کیا جا سکتا ہے۔ روشنی جو جب تک آئینہ mirror کی طرح چمکیلی سطح رکھنے والی سے منعکس (reflect) نہ کیا جائے تو وہ سیدھی لائن straight line میں سفر کرتی رہتی ہے۔

اِنعکاسِ نُور (Reflection of Light)

ترمیم

جب روشنی ایک واسطے (medium) سے گذر کر دوسرے واسطے میں داخل ہوتی ہے تو روشنی کا کچھ حصہ پہلے واسطے میں ہی ایک خاص سمت میں واپس لوٹ آتا ہے جسے انعکاسِ نُور کہا جاتا ہے۔

روشنی کا انعطاف (Refraction of Light)

ترمیم

جب روشنی کا ایک حصہ دوسرے واسطے میں داخل ہو کر مڑ جاتا ہے تو اسے انعطاف کہتے ہیں۔ ایسا عموما تب ہوتا ہے جب دوشنی کسی کثیف واسطے dense medium سے کسی ہلکے واسطے light medium میں یا ہلکے واسطے سے کثیف واسطے میں داخل ہوتی ہے۔

 
پانی کے پیالے میں X جگہ پر پڑی ہوئی شے انعطاف کی وجہ سے Y جگہ پر نظر آتی ہے

اس کی ایک مثال یوں دی جا سکتی ہے کہ

جب روشنی ہوا(light medium) میں سے گذر کر پانی (dense medium) میں داخل ہوتی ہے تو اپنے ارتفاع perpendicular کی طرف جھک جاتی ہے اور جب کثیف واسطے یعنی پانی سے باہر نکلتی ہے تو اپنے ارتفاع سے پرے ہو جاتی ہے۔

روشنی کی شدت

ترمیم

مزید دیکھیے

ترمیم

٭برقناطیسی اشعاع (Electromagnetic waves)