وزیر (پشتون قبیلہ)

وزیر (پشتو: وزير‎) پشتونوں کا ایک قبیلہ جو پاکستان کے علاقوں شمالی و جنوبی وزیرستان اور بنوں میں آباد ہیں۔ علامہ اقبال نے وزیری و محسود کے بار کہا

تاریخی پس منظرترميم

چودہویں صدی سے پہلے وزیر قبیلہ افغانستان کے علاقے ھرات میں رہا کرتا تھا۔ اپنی جنگجو صلاحیتوں کی وجہ سے کافی مشہور تھا۔ اور یہی وجہ تھی کہ آس وقت کے غور بادشاہوں کے خلاف وزیر قبیلہ کی ایک لمبی جنگی تاریخ موجود تھی۔ چودہویں صدی کے آواخر میں وزیر قبیلہ نے غور بادشاہ شھاب الدین غوری سے شکست کھائی اور کابل، جلال آباد، قندھار، ھلمند، پکتیا، پکتیکا اور دوسرے افغان علاقوں میں آباد ہوئے۔ لیکن اس وقت وزیر قبیلہ کے سردار نے بیرمل(افغانستان) کو اپنا مستقل مسکن بنالیا جو آج تک وزیر قبائل کے وراثت کا حصہ ہیں۔ کچھ وزیر ھرات میں رہ گئے جو آج بھی وہاں موجود ہیں وزیری کے نام سے یاد کرتے ہیں جبکہ باقی علاقوں میں وزیر کے نام سے۔ وزیر قبیلہ نے بیرمل پر اپنا مکمل تسلط حاصل کرنے کے بعد اس کے پاس کے میدانی علاقوں تک تسلط بڑھانے کی کوشش کی۔ وزیر چونکہ جنگجو تھے مخالفین اس کا مقابلہ نہیں کر سکتے تھے اسی وجہ سے وزیر قبیلہ نے ایک وسیع علاقے کو اپنے قبضے میں لیا۔ کریم خان کی قیادت میں احمد زئی وزیر نے جنوبی وزیرستان، وانا کے علاقے سے غلجی، مروت اور خٹک کو شکست دے کر علاقے پر قبضہ کیا جس میں وانا، انگوراڈا، کڑی کوٹ، شولام، شکئی، اعظم ورسک، سپین اور تنائی شامل ہیں احمد زائی کا ایک گروہ ضلع بنوں کے علاقہ تل ڈومیل پر قابض ہو گیا، کرم ایجنسی میں اورکزئی اور بنگش کے علاقوں پر جب غیروں نے حملہ کیا تو تو خود مقابلہ نہ کرنے کی صورت میں اورکزئی اور بنگش قبائل نے وزیر قبیلے سے مدد کی اپیل کی وزیر قبیلے نے اس کی درخواست منظور کرتے ہوئے ایک لشکر کرم بھیجا تاکہ اورکزئی اور بنگش قبائل کی مدد کریں وزیر قبائل چونکہ جنگی ماہر تھے غیروں کو شکست دے کر واپس کر دیے تو اورکزئی اور بنگش قبائل نے انعام کے طور پر وزیر قبیلہ کے اسی لشکر کو اپنے علاقے میں ایک حصہ دیا جو آج بھی وہاں موجود ہیں اسی طرح اتمان زئی وزیر نے شمالی وزیرستان کے علاقوں پر یلغار کیا وہاں موجود خٹک اور بنوچی قبائل کو شکست دے کر علاقہ قبضے میں لے لیا جس میں میرانشاہ، میرعلی، رزمک، دوسلی، شواہ، دتہ خیل، غلام خان اور کھجوری شامل ہیں اور اتمان زئی کا ایک گروہ ضلع بنوں کے مغربی علاقے پر قابض ہو گیا اور کچھ لوگوں نے کرم ایجنسی کا رخ کیا وہاں ڈیرے ڈال دیے۔

وزیر قبیلہ کی قربانیاںترميم

اسلام اور پشتون قبائل پر جب بھی مشکل وقت آیا تو وزیر قبیلہ کسی بھی وقت پیچھے نہیں رہا بلکہ دو قدم آگے بڑھ کر قربانی دیتا رہا۔ جب برطانوی حکومت نے برصغیر پر حملے کیے اور پاک و ہند کو قبضہ کیا تو فرنگیوں نے پشتون علاقوں کا رخ کیا جہاں حکومت کرنا چاہتے تھے تو سب سے پہلے وزیر قبیلہ نے اس کے خلاف تحریک شروع کی آج سے 155 سال پہلے وزیر قبیلے کے سیلگآئی آور حمزہ بابا نے فرنگیوں کے خلاف آواز اٹھائی سارے وزیر اس تحریک کے ساتھ کھڑے ہو گئے تحریک روز بہ روز زور پکڑتی رہی لوگ بیدار ہوئے سیلگائی اور حمزہ باب کے وفات کے بعد تحریک کا قیادت کے لیے ملک صادے خان مقرر کیا۔ جب فرنگیوں نے مائزر مداخیل کے مقام پر بے گناہ لوگوں کا قتل عام کیا تو ملک صادے خان کی قیادت میں لشکر نے مائزر کے مقام پر پر غضب ناک حملہ کیا جس میں مداخیل وزیر قبیلہ کے 120 افراد شہید ہو گئے اور سینکڑوں کی تعداد میں فرنگی فوجیوں کو ہلاک کر دیے گئے باقی رہ جانے والے فوجی دتہ خیل بھاگنے میں کامیاب ہو گئے۔ فرنگیوں نے ۔ ملک صادے خان کے گاؤں پر جنگی طیاروں کی بمباری مدد سے بمباری کر کے پورا گاؤں تباہ کر دیا ملک صادے خان ساتھیوں سمیت بیرمل فرار ہوئے اس لڑائی کے بعد پشتون قبائل بیدار ہو گئے ملک صادے خان کے وفات کے بعد اس کا بڑے بیٹے ملک زنگی خان نے تحریک کی قیادت سنبھال لی۔ جنوبی وزیرستان میں سردار سوان خان کے بیٹے سردار مانی خان تھے۔ کچھ عرصہ گزرنے کے بعد وزیر ستان کے غیرتی سرزمین نے ایک عظیم شخصیت پیدا کی جس کا نام اور کارنامے تاریخ کے ہر صفحہ پر لکھی ہوئی بیں۔ حاجی میرزاعلی خان فقیر ایپی دوران تعلیم ضلع بنوں میں ہندو لڑکی مسلمان ہو کر ایک مسلمان سے شرعی نکاح ہوا تو ہندو اس کو غیرت کا مسئلہ بنا کر لڑکی کو طلاق دینے کے لیے عدالت میں مقدمہ درج کیا فرنگیوں نے ہندو کی مدد کی لڑکی کو ہندوؤں کے حوالے کر دیا تو حاجی میرزاعلی خان فقیر ایپی نے جرگہ بلاکر فرنگیوں کے خلاف جہاد کا اعلان کر دیا۔ حاجی میرزاعلی خان فقیر ایپی اور اس کے ساتھی فرنگیوں کے لیے چٹان ثابت ہو کر فرنگیوں کو تاریخی شکست دی اس لڑائی میں بہت عظیم لوگوں نے قربانیاں دیں جس میں اس تحریک کے جنوبی وزیرستان کے امیر پیرملا خان وزیر اس کا بھائی جلال خان وزیر شمالی وزیرستان میں ملک زنگی خان وزیر اور ضلع بنوں کے امیر فتح جنگ نے اپنے جانوں پر کھیل کر اسلام اور وطن کی خاطر شہادت نوش کی جو تاریخ میں سنہری حروف سے لکھی جائے گی۔ اور سینکڑوں کی تعداد میں وزیر،محسود، داوڑ، مروت، بنوچی، سلمان خیل، دوتانی، بیٹنی، شیرانی، خٹک اور تمام پاکستانی و افغانی پشتونوں نے بے پناہ قربانیاں دے کر علاقہ کو فرنگیوں سے صاف کیا۔ واقع یہاں ختم نہیں ہوا جب روس نے افغانستان پر حملہ کیا تو وزیر قبیلہ اپنے افغان مسلم بھائیوں کا ساتھ دے کر سپر پاور روس کو تاریخی شکست دے دیا آج بھی یورپ اور روس کے لائبریریاں میں وزیر قبیلہ کے تاریخ سے کتابیں بھری پڑی ہیں۔

وزیر قبیلہ کی شخصیاتترميم

  1. مرحوم بہرام خان وزیر ذیلی خیل
  2. مولانا نور محمد وزیر شہید بیزن خیل
  3. ملک قادر خان وزیر شہید مدا خیل
  4. فتح جنگ وزیر شہید سرکی خیل
  5. ملک میرزاعلی وزیر شہید ذیلی خیل
  6. ملک آدم خان وزیر طوری خیل
  7. Mir Hassan Degan
  8. Amir Khan Ambassador
  9. Qadeer Khan Wazir
  10. محمد علی وزیر رکن قومی اسمبلی
  11. کمانڈر نیک محمد سابقہ طالبان رہنما
  12. خلیفہ مولانا عبدالرحمن شہید ، عیدک عرف طور مولوی صاحب
  13. شیخ الحدیث مولانا مفتی عین اللہ صاحب داوڑ
  14. مفتی صدیق اللہ صاحب طوری خیل وزیر
  15. مولانا محمد دیندار صاحب سابق ایم این اے
  16. Maulana Nik Zaman Ex MNS
  17. Muhammad Kamran Khan Ex MNA

کلچر رسم و رواجترميم

وزیر قبیلہ دنیا کے کسی کونے میں آباد ہو اپنے رسم و رواج اور زبان تبدیل نہیں کرتے۔ وزیر قبیلہ کے جو رواج صدیوں پرانی تھے وہی آج بھی موجود ہیں شلوار قمیض ہیں بزرگ سروں پر پگڑی اور جوان چترالی ٹوپی پہنتے ہیں عورتیں بڑے بڑے قمیص پہنتے ہیں جس کو مقامی زبان میں گانڑ خت بولتے ہیں۔چپلی زیادہ تر پہنتے ہیں بالغ آدمی ننگے سر گھومنا پسند نہیں کرتے آداب کے لیے سر چھپاتے ہیں

مہمان نوازیترميم

پشتون قبائل پورے مہمان نوازی میں مشہور ہیں لیکن وزیر قبیلہ کے مہمان نوازی الگ حیثیت رکھتا ہے 4 یا 5 مہمانوں یا اس سے زیادہ کے لیے دنبہ(مژ) ذبح کرتے ہیں افغانستان میں موجود وزیر قبیلہ کے لوگ اسکراب کے کاروبار میں مصروف عمل ہیں مختلف سرکاری محکموں میں ڈیوٹیاں سر انجام دے رہے ہیں۔

حوالہ جاتترميم

ریاض خان وزیر میامی کابل خیل

پٹھان قبائل کامران اعظم سوہدروی

Shuaib-bot روبہ جات، درآمدکنندگان، منتظمین