ولید ثانی بن یزید

(ولید بن یزید سے رجوع مکرر)

ہشام بن عبدالملک کے بعد ولید ثانی ربیع الثانی 125ھ میں تخت نشین ہوا۔ وہ انتہائی نالائق اور غلط کار شخص تھا۔ ہشام بن عبدالملک نے اپنی زندگی میں اپنے بیٹے کی عادات کو سنوارنے کی کئی ناکام کوششیں کی تھیں۔

ولید ثانی بن یزید
الوليد بن يزيد.png
 

معلومات شخصیت
تاریخ پیدائش سنہ 706[1]  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات سنہ 744 (37–38 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وجہ وفات لڑائی میں مارا گیا  ویکی ڈیٹا پر (P509) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت خلافت امویہ  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اولاد نسل
والد یزید بن عبدالملک  ویکی ڈیٹا پر (P22) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
خاندان خلافت امویہ  ویکی ڈیٹا پر (P53) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مناصب
خلیفہ   ویکی ڈیٹا پر (P39) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
Fleche-defaut-droite-gris-32.png ہشام بن عبدالملک 
یزید ثالث بن ولید  Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
دیگر معلومات
پیشہ شاعر  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بنو امیہ
Umay-futh.PNG
خلفائے بنو امیہ
معاویہ بن ابو سفیان، 661-680
یزید بن معاویہ، 680-683
معاویہ بن یزید، 683-684
مروان بن حکم، 684-685
عبدالملک بن مروان، 685-705
ولید بن عبدالملک، 705-715
سلیمان بن عبدالملک، 715-717
عمر بن عبدالعزیز، 717-720
یزید بن عبدالملک، 720-724
ہشام بن عبدالملک، 724-743
ولید بن یزید، 743-744
یزید بن ولید، 744
ابراہیم بن ولید، 744
مروان بن محمد، 744-750

ولید ثانی کی بد اخلاقی کی بنا پر کئی امرا نے اس کی ولی عہدی کی مخالفت کی تھی۔ جب وہ تخت نشین ہوا تو اس نے سب سے پہلے یہ کام کیا کہ اپنے مخالفوں کو چن چن کر مروا دیا۔ اس کی اس سفاکی پر بعض متاثر افراد اس قدر پریشان ہوئے کہ وہ ہشام بن عبد الملک کی قبر جا کر رویا کرتے تھے۔

قتلترميم

ظلم و ستم کے علاوہ اپنی حد سے بڑھتی ہوئے بد اخلاقی کی وجہ سے بھی اس کی مخالفت زور پکڑتی گئی۔ آخر کار ایک سال اور دو مہینے کی خلافت کے بعد اپنے مخالفوں سے لڑتا ہوا مارا گیا۔ ایک مشہور مؤرخ نے تو یہ لکھا ہے کہ جب لوگ اس کو قتل کرنے کے لیے چڑھ آئے تو وہ یہ کہہ کر قرآن خوانی میں مصروف ہو گیا کہ " جس طرح حضرت عثمان رض تلاوت قرآن کرتے ہوئے مارے گئے تھے مرا بھی خاتمہ اسی طرح ہو"۔

شغفترميم

ولید ثانی کو شعر و سخن اور رقص و موسیقی سے بے حد لگاؤ تھا۔ بادہ نوشی کے بارے میں اس کے اشعار تو اس وقت کے عظیم ترین شاعروں کو بھی شرما دیتے تھے۔

مزید دیکھیےترميم

حوالہ جاتترميم

  1. جی این ڈی- آئی ڈی: https://d-nb.info/gnd/118771078 — اخذ شدہ بتاریخ: 12 اگست 2015 — اجازت نامہ: CC0