ولید ثانی بن یزید

ولید ثانی بن یزید
(أمير المؤمنين أبي العباس الوليد بن يزيد الأموي القرشي العبشمي (رحمه الله.png
 

معلومات شخصیت
تاریخ پیدائش سنہ 706[1]  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات سنہ 744 (37–38 سال)  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وجۂ وفات لڑائی میں مقتول  ویکی ڈیٹا پر وجۂ وفات (P509) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت خلافت امویہ  ویکی ڈیٹا پر شہریت (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والد یزید بن عبدالملک  ویکی ڈیٹا پر والد (P22) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
خاندان خلافت امویہ  ویکی ڈیٹا پر خاندان (P53) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مناصب
خلیفہ   ویکی ڈیٹا پر منصب (P39) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
Fleche-defaut-droite-gris-32.png ہشام بن عبدالملک 
یزید ثالث بن ولید  Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
دیگر معلومات
پیشہ شاعر  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بنو امیہ
Umay-futh.PNG
خلفائے بنو امیہ
معاویہ بن ابو سفیان، 661-680
یزید بن معاویہ، 680-683
معاویہ بن یزید، 683-684
مروان بن حکم، 684-685
عبدالملک بن مروان، 685-705
ولید بن عبدالملک، 705-715
سلیمان بن عبدالملک، 715-717
عمر بن عبدالعزیز، 717-720
یزید بن عبدالملک، 720-724
ہشام بن عبدالملک، 724-743
ولید بن یزید، 743-744
یزید بن ولید، 744
ابراہیم بن ولید، 744
مروان بن محمد، 744-750

ہشام بن عبدالملک کے بعد ولید ثانی ربیع الثانی 125ھ میں تخت نشین ہوا۔ وہ انتہائی نالائق اور غلط کار شخص تھا۔ ہشام بن عبدالملک نے اپنی زندگی میں اپنے بیٹے کی عادات کو سنوارنے کی کئی ناکام کوششیں کی تھیں۔

ولید ثانی کی بد اخلاقی کی بنا پر کئی امرا نے اس کی ولی عہدی کی مخالفت کی تھی۔ جب وہ تخت نشین ہوا تو اس نے سب سے پہلے یہ کام کیا کہ اپنے مخالفوں کو چن چن کر مروا دیا۔ اس کی اس سفاکی پر بعض متاثر افراد اس قدر پریشان ہوئے کہ وہ ہشام بن عبد الملک کی قبر جا کر رویا کرتے تھے۔

قتلترميم

ظلم و ستم کے علاوہ اپنی حد سے بڑھتی ہوئے بد اخلاقی کی وجہ سے بھی اس کی مخالفت زور پکڑتی گئی۔ آخر کار ایک سال اور دو مہینے کی خلافت کے بعد اپنے مخالفوں سے لڑتا ہوا مارا گیا۔ ایک مشہور مؤرخ نے تو یہ لکھا ہے کہ جب لوگ اس کو قتل کرنے کے لیے چڑھ آئے تو وہ یہ کہہ کر قرآن خوانی میں مصروف ہو گیا کہ " جس طرح حضرت عثمان رض تلاوت قرآن کرتے ہوئے مارے گئے تھے مرا بھی خاتمہ اسی طرح ہو"۔

شغفترميم

ولید ثانی کو شعر و سخن اور رقص و موسیقی سے بے حد لگاؤ تھا۔ بادہ نوشی کے بارے میں اس کے اشعار تو اس وقت کے عظیم ترین شاعروں کو بھی شرما دیتے تھے۔

مزید دیکھیےترميم

حوالہ جاتترميم

  1. جی این ڈی- آئی ڈی: https://d-nb.info/gnd/118771078 — اخذ شدہ بتاریخ: 12 اگست 2015 — اجازت نامہ: CC0