پاکستانی ملٹری انٹیلیجنس

ڈائرکٹوریٹ فور ملٹری انٹلیجنس یا ملٹری انٹیجلنس یا MI کا قیام 1947 میں پاکستان کے وجود کے بعد عمل میں لایا گیا۔ اس کا ہیڈ کوارٹر راولپنڈی، اسلام آباد میں واقع ہے۔ اس وقت پاکستان کی دو انٹیجلنس ایجنسوں میں سے ایک تھی اور پاکستان کی تین انٹیجلنس ایجنسوں میں سے ایک ہے۔ISI کے برعکس MI کے جوان با وردی ہوتے ہیں جو ریاست کے خلاف ہونے والے کسی بھی قسم کی کارروائی کے لیے بہت منظم طور پر کام کرتے ہیں۔

ملٹری انٹیجلنس
ایجنسی کا جائزہ
قیام1947 جنرل رابرٹ کاتھوم
دائرہ کارپاکستان آرمی
صدر دفترراولپنڈی, پاکستان
محکمہ افسرانِ‌اعلٰی
  • جنرل محمد عباد اللہ

ڈائرکٹوریٹ فور ملٹری انٹلیجنس یا ملٹری انٹلیجنس یا MI کا قیام 1947 میں پاکستان کے وجود کے بعد عمل میں لایا گیا۔ اس کا ہیڈ کوارٹر راولپنڈی، اسلام آباد میں واقع ہے۔ اس وقت پاکستان کی دو انٹلیجنس ایجنسیوں میں سے ایک تھی اور پاکستان کی پانچ انٹلیجنس ایجنسیوں میں سے ایک ہے۔ ISI کے برعکس MI کے جوان با وردی ہوتے ہیں جو ریاست کے خلاف ہونے والے کسی بھی قسم کی کارروائی کے لیے بہت منظم طور پر کام کرتے ہیں۔

تاریخی پسِ منظر

ترمیم

MIکو اس وقت کے آسٹریلوی نژاد برطانوی شہریرابرٹ کاتھوم جو اس وقت پاکستان آرمی کے سربراہ بھی تھے نے قائم کی۔ ایوب خان کے مارشل لا کے بعد MIنے ہی مشرقی اور مغربی پاکستان میں مارشل لا کے پاکستان میں لگنے کی رپورٹ دی تھی۔

1980 کی دہائی میں MIنے پاکستان کے صوبہ سندھ میں پاکستان کمیونسٹ پارٹی کے خلاف اور پاکستان میں بھارتی انٹلیجنس ایجنسیوں کے اپریشن کے خلاف بھی کام کرچکی ہے۔ اس کے علاوہ کارگل جنگ میں بھی مدد دے چکی ہے۔

تنظیم

ترمیم

MIاس وقت پاکستان کی تینوں مسلح افواجوں پاک فضائیہ، پاک آرمی، پاک نیوی کے لیے کام کرتی ہے۔ اس کا سربراہ ڈائرکٹر جنرل کہلاتا ہے۔ جو افواج میں لیفٹنٹ جنرل ہوتا ہے۔