ریسلنگ کا کھیل دنیا کے قدیم ترین کھیلوں میں شمار کیا جاتا ہے۔2400قبل مسیح سے شروع ہونے والے اس کھیل نے عوام الناس میں اپنی مقبولیت کی بدولت776 قبل مسیح کے قدیم اولمپکس میں بھی اپنی جگہ بنائی تھی ۔ دنیا بھر میں ریسلنگ بے شمار اسٹائلز کے ساتھ لڑی جاتی ہے لیکن موجودہ دور میں فری اسٹائل ریسلنگ کے دیوانے دنیا بھر میں موجودہیں۔ پاکستان میں ریسلنگ کی تاریخ کافی پرانی ہے پنجاب میں اس کو اگر کشتی کے نام سے جانا جاتا ہے تو سندھ میں یہ ملاکہڑو کے نام سے موسوم ہے۔آج سے چار دہائیوں قبل 1976 میں جب فخر پاکستان اکرم عرف اکی پہلوان نے جاپان کے نامور ریسلر انوتو نیو انوکی کو چیلنج کیا تو انوکی کے وہم وگمان میں بھی نہیں تھا کہ کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں اس کا سامنا صرف اکرم پہلوان سے ہی نہیں بلکہ اس مقابلے کو دیکھنے کے لیے آنے والے 50ہزار سے زائدریسلنگ کے شائقین سے بھی ہوگا۔ انوکی نے جب کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں قدم رکھا تو ان کی حیر ت کی انتہا نہ رہی کہ ریسلنگ کے دیوانے ہر سمت موجود تھے۔ گو کہ یہ مقابلہ انوکی نے جیت لیا تھا لیکن آج بھی انوکی کی کلائی پر اکرم پہلوان کی جانب سے دیے گئے زخم موجود ہیں۔ بعد ازاں انوکی نے اسلام قبول کرکے اپنا نام محمد حسین انوکی رکھ لیا تھا۔

چار دہائیوں قبل ہونے والے اس عظیم الشان مقابلے کے بعد پاکستان اور پاکستانیوں نے نہ تو پھر کبھی ایسا ریسلر دیکھا اور نہ ایسا مقابلہ لیکن بہت جلد پاکستان میں ریسلنگ کے متوالوں کا یہ انتظا ر اب ختم ہونے کو ہے ۔ پرو ریسلنگ فیڈریشن پاکستان(PWFP) کراچی میں ڈریم ورلڈ ریزورٹ کے اشتراک سے پاکستان کی فری اسٹائل ریسلنگ کی تاریخ کا پہلا عظیم الشان ایونٹ “رمبل ان پاکستان”منعقد کرنے جارہی ہے جہاں امریکا، میکسیکو، پورٹو ریکو اور روس سمیت دنیا بھر سے خطرناک اور مشہور ریسلرز پاکستانی ریسلرز کے ساتھ رنگ میں اپنے جوہر دکھائیںگے ۔ پاکستانی فینز اب تک اپنے ٹی وی اسکرینز پر ایسی فائٹس دیکھتے آئے تھے لیکن اس ایونٹ میں شائقین براہ راست لوہے کے پنجرے میں ہونے والی یہ فائٹس دیکھیں گے اور لطف اٹھائیں گے۔

ڈریم ورلڈ ریزورٹ میں اس میگا ایونٹ کی پریس کانفرنس میں تفصیلات بتاتے ہوئے پرو ریسلنگ فیڈریشن پاکستان کے صدر نعمان سلیمان نے کہا کہ” رمبل ان پاکستان ” ہمارا پہلا میگا ایونٹ ہے اورریسلنگ کے متوالوں کے لیے ہم مزید ایسے ایونٹس منعقد کریں گے۔ انھوں نے کہا کہ نہ صرف پاکستان میں ریسلنگ کے ا حیاء کے لیے ایسے ایونٹس بہت ضروری ہیں بلکہ اس طرح کے ایونٹس سے پاکستانی ریسلرز کو بین الاقوامی مقابلوں میں شرکت کے لیے ضروری ایکپوژر بھی حاصل ہوگا ۔ ڈریم ورلڈ ریزورٹ کے جی ایم مارکیٹنگ فرازالہدیٰ نے “رمبل ان پاکستان ” کو پاکستانی شائقین کے ساتھ ساتھ پوری دنیا میں موجود ریسلنگ کے متوالوں کے لیے ایک شاندار ایونٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایونٹ نہ صرف پاکستان میں بین الاقوامی اسپورٹس ایونٹس کی بحالی کے لیے مشعل راہ ثابت ہوگا بلکہ اس سے پاکستان میں سیاحت کے فروغ میں بھی خاطر خواہ مدد ملے گی۔ فرازالہدیٰ نے ایونٹ میں فاتح کے لیے قیمتی بیلٹ کے علاوہ 1ملین روپے کی خطیر انعامی رقم کا بھی اعلان کیا۔

” رمبل ان پاکستان ” کی لانچنگ ایونٹ سے خطاب کرتے ہوئے زینتھ پبلک ریلیشنز کی گروپ ڈائریکٹر رابعہ افتخار نے کہا کہ ہمیں یقین ہے کہ پی ایس ایل کی طرح یہ ایونٹ بھی نہ صرف پاکستان کے امیج کو بہتر بنانے میں مدد دے گا بلکہ اس سے مستقبل میں ہمارے کھیلوں کے شائقین کے لیے مزید ایسے بین الاقوامی ایوانٹس کی راہ ہموار ہوگی۔اس موقع پرپرو ریسلنگ فیڈریشن پاکستان کے کامران مغل سمیت متعدد پاکستانی ریسلرز نے بھی شرکت کی۔ تقریب کے اختتام پر شاندار بیلٹ کی نقاب کشائی کی گئی جبکہ پی ڈبلیو ایف پی اور ڈریم ورلڈ ریزورٹ کے درمیان مفاہمت کی ایک یادداشت پر دستخط کیے گئے۔

28اپریل 2019ء کو پی ڈبلیو ایف پی کی جانب سے ڈریم ورلڈ ریزورٹ میں منعقد ہونے والا ‘رمبل ان پاکستان”ایونٹ جہاں پاکستان میں بین الاقوامی کھیلوں کے ایک نئے دور کا آغاز بھی ثابت ہوگا وہیں دنیاپریہ ثابت بھی کر دے گا کہ پاکستان نہ صرف بین الاقوامی مقابلے بہترین انداز میں منعقد کرنے کی اہلیت رکھتا ہے بلکہ کھلاڑیوں اور کھیلوں کے انعقاد کے لیے ایک محفوظ ملک بھی ہے۔ پاکستان کے دورے پر جولائی 2018ء میں آنے والے غیر ملکی ریسلرز نے کہا ہے کہ پاکستان میں سیکیورٹی کے حوالے سے کوئی مسئلہ نہیں اور یہ کھیلوں کے لیے محفوظ ملک ہے ۔ برطانیہ کے ٹائنی آئرن ، فرانس کے برام ، پاکستان نثراد فرانسیسی پہلوان بادشاہ خان اور امریکی خاتون ریسلر ریبل نے پاکستان کو محفوظ ملک قراردیا۔ رنگ آف پاکستان کے عاصم شاہ نے کہاکہ ان انٹرنیشنل مقابلوں کے انعقاد میں آئی ایس پی آر نے ہمارے ساتھ بھر پور تعاون کیا ہے۔ بادشاہ خان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں مقابلے کا ان کا خواب پورا ہونے والا ہے اور امید ہے کہ یہ مقابلے پاکستان میں پہلوانی کے فن کو ایک مرتبہ پھر فروغ دینے کا سبب بنیں گے۔برطانوی ریسلر ٹائنی آئرن نے کہا کہ ایک مرتبہ پھر پاکستان آنے پر خوشی ہے، پاکستانی شائقین پہلوانی کے دلدادہ اور اس فن سے رغبت رکھتے ہیں۔خاتون ریسلر ریبل نے کہاکہ اس سے قبل بھی پاکستان آکر بہت خوشی ہوئی،اب بھی اپنے فن سے سب کو محظوظ کرنے کی کوشش کروں گی، پاکستان مجھے بہت پسند ہے۔ریسلر برام نے کہا کہ پاکستان آکر اپنے ملک جیسا احساس ہورہا ہے، پاکستان کے فروٹ اور جوس شوق سے استعمال کرتا ہوں۔واضح رہے کہ کراچی اور اسلام آباد میں شیڈول ایونٹس میں دنیا بھر سے 20 سے زائد ریسلرز رنگ میں نظر آئیں گے۔ قبل ازیں 2017ء میں ہونے والا پہلا ایڈیشن ریسلر بادشاہ خان کے نام رہا تھا۔ اا کے بعد جولائی 2018ء میں بھی بیرون ممالک سے ریسلر پاکستان میں آئے،

مزید دیکھیے

ترمیم

حوالہ جات

ترمیم