Midori Extension.svg یہ ایک نامکمل مضمون ہے۔ آپ اس میں اضافہ کر کے ویکیپیڈیا کی مدد کر سکتے ہیں۔
پسو کے مختلف اعضاء
پسو کے کاٹنے سے انسانی جلد کا رد عمل

پِسُّوْ (انگریزی: Flea) سائپفوناپٹیرا (Siphonaptera) زمرے کے حشرات الارض ہیں۔ ان کے پنکھ نہیں ہوتے اور داہنی حصہ جِلد کو چھیدنے اور خون چوسنے کے لیے خاص طور سے بنے ہوتے ہیں۔ پسو فضائی طفیلی ذی حیات ہے اور حمل گیرندہ جانوروں اور پرندوں کا خون چوس کر اپنا خوراک حاصل کرتے ہیں۔یہ بہت ڈھیٹ اور موذی چیز ہیں خصوصا ایسے علاقوں میں پایا جاتا ہے جہاں کی آب و ہوا نم ہو۔ اس کو اردو میں کھٹمل اور انگلش میں بیڈ بگز۔(bed bugse) بھی کہتے ہیں یہ اتنا تیز اور چالاک ہوتا ہیں کہ کاٹنے کے بعد سیکینڈوں میں غائب ہوجاتا ہیں۔کچھ لوگوں کو پسو یا کھٹمل سےالرجی ہوتی ہیں اور سب سے پریشانی کی بات تو یہ ہیں کہ یہ ایک انسان کی بیماری بہت آسانی سے دوسرے انسان میں منتقل کر دیتی ہیں 1890 میں کلکتہ سے ایک سمندری جہاز کراچی آیا اس جہاز میں چوہے اور پسو بھی بڑی تعداد میں آگئے تھے جس سے طاعون کی وبا پھیل گئی تھی انسانوں کے ساتھ ساتھ جانوروں میں بھی کھٹمل پائی جاتی ہیں کانگو وائرس ایک خطرناک بیماری ہیں جو جانوروں سے انسانوں میں انہی کھٹملوں کی وجہ سے منتقل ہوتی ہیں اب تک اس کو مکمل ختم کرنے کا کوئی خاص دوا مارکیٹ میں نہیں ہیں لوگ مختلف ٹوٹکے آزماتے ہیں لیکن تا حال کوئی خاص کامیابی نہیں ملی ہیں۔۔۔ پسو یا کھٹمل نم جگہوں کے ساتھ ہر اس جگہ بہت جلد پیدا ہوجاتے ہیں جہاں صفائی ستھرائی نہ ہو کمرے ہوا دار نہ ہو۔ اس لئےرہائشی کمروں کی کھڑکیاں کھولنا نہایت ضروری ہیں تاکہ باہر کی تازہ ہوا اور سورج کی شعاعوں سے کمرے میں بدبو گندگی اور جراثیم کا خاتمہ ہو۔۔۔۔

کچھ پسو یہ ہیں:

  • بلی کا پسو (Ctenocephalides felis)
  • کتے کا پسو (Ctenocephalides canis)
  • انسانی پسو (Pulex irritans)
  • شمالی چوہے کا پسو (Nosopsyllus fasciatus)

دنیا بھر میں پسؤں کی دو ہزار سے بھی زیادہ اقسام ہیں۔[1]

==مزید دیکھیے==* جھنگور* طاعون

حوالہ جاتترميم

خارجی روابطترميم