تابکاری کی اقسام

الفا بیٹا گاما ریز

دنیا یا کائنات میں موجود سارے ایٹمی مرکزے (atomic nucleus) پائیدار نہیں ہوتے کیونکہ ان میں کچھ فالتو توانائی موجود ہوتی ہے۔ نا پائیدار ایٹمی مرکزے اپنی کچھ توانائی خارج کر کے نسبتاً زیادہ پائیدار بن جاتے ہیں۔ یہ عمل خود بخود انجام پاتا ہے اور تابکاری (radioactivity) کہلاتا ہے۔ خارج ہونے والی توانائی ایٹمی ذرات کی شکل میں بھی ہو سکتی ہے اور گاما ریز کی شکل میں بھی۔ تابکاری کو Radioactive decay یا nuclear decay بھی کہتے ہیں کیونکہ اکثر تابکاری کے نتیجے میں ایک ایٹمی مرکزہ کسی دوسرے ایٹمی مرکزے میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ کسی ایک عنصر کا کسی دوسرے عنصر میں تبدیل ہونا nuclear transmutation کہلاتا ہے۔

یورینیئم کے ایٹم سے الفا ذرہ نکل جانے سے یورینیئم اب تھوریئم میں تبدیل ہو جاتا ہے۔

زمین پر قدرتی طور پر 92 عناصر پائے جاتے ہیں۔ ان میں ایک سے لے کر 82 نمبر تک کے عناصر غیر تابکار ہیں سوائے نمبر 43 (ٹیکنیشیئم) اور نمبر 61 (پرومیتھیئم) کے۔ سارے ہم جا سمیت زمین پر کل 254 ایٹمی مرکزے پائیدار (یعنی غیر تابکار) کہلاتے ہیں۔ اگر غیر تابکار عناصر کو نیوکلیئر ری ایکٹر یا پارٹیکل ایکسلیریٹر میں رکھا جائے تو ان میں بھی مصنوعی تابکاری آ جاتی ہے۔ اس طرح ہر غیر تابکار عنصر کے کئی تابکار ہم جا (isotope) بنائے جا سکتے ہیں۔
ایٹمی مرکزوں کی لگ بھگ 650 اقسام ایسی ہیں جو بے حد تابکار ہیں اور ان کی ہاف لائف (half life) ایک گھنٹے سے زیادہ ہے۔ 2400 سے زیادہ ایٹمی مرکزے ایسے ہیں جن کی ہاف لائف ایک گھنٹے سے بھی کم ہوتی ہے۔ زمین پر موجود چند ایسے عناصر بھی ہیں جو کائنات سے ہر وقت آنے والی کوسمک ریز کی وجہ سے تابکار بن جاتے ہیں جیسے کاربن14۔ جیسے جیسے ایٹمی مرکزے بھاری ہوتے جاتے ہیں ان کے مستحکم یا پائیدار رہنے کے امکانات کم ہوتے چلے جاتے ہیں۔ سیسہ جس کا ایٹمی نمبر 82 ہوتا ہے وہ آخری پائیدار عنصر ہے۔ اس کے بعد 83 نمبر پر بسمتھ ہے جو بہت ہی کم تابکار ہے۔ اس سے بھی زیادہ بھاری مرکزے لازماً تابکار ہوتے ہیں۔
قلعئ یعنی ٹِن کے دس پاِئیدار ہم جا ہوتے ہیں جبکہ 26 عناصر ایسے ہیں جن کا صرف ایک ہی پائیدار ہم جا ہوتا ہے جیسے سونا۔ عام طور پر جن ایٹمی مرکزوں میں پروٹون جفت تعداد میں ہوتے ہیں وہ زیادہ پائیدار ہوتے ہیں اور ان کے پائیدار ہم جا کی تعداد بھی زیادہ ہوتی ہے۔ طاق تعداد میں پروٹون رکھنے والے ایٹمی مرکزوں کے بہت کم پائیدار ہم جا ہوتے ہیں۔

تابکاری (ریڈیو ایکٹیویٹی) کا اُس ریڈیو سے کوئی تعلق نہیں ہے جو گانے اور خبریں سننے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

پروٹون کی تعداد (افقی لکیر) اور نیوٹرون کی تعداد (عمودی لکیر) کے لحاظ سے سارے ایٹمی مرکزوں کا گراف۔
  نارنجی رنگ
اور
  نیلے رنگ
سے تابکار مرکزے دکھائے گئے ہیں جن کے درمیان کالے رنگ سے پائیدار مرکزے دکھائے گئے ہیں۔ وہ آخری مرکزہ جس میں نیوٹرون اور پروٹون کی تعداد برابر ہوتی ہے وہ کیلشیئم40 ہے۔ اس سے بھاری لیکن پائیدار مرکزوں میں نیوٹروں کی تعداد پروٹون سے زیادہ ہوتی ہے۔ 82 پروٹون اور 126 نیوٹرون کے ملنے سے سیسہ بنتا ہے جو آخری پائیدار (یعنی غیر تابکار) مرکزہ ہوتا ہے۔

تاریخ

ترمیم

1895 میں Wilhelm Roentgen ایکسرے (x-ray) دریافت کر چکا تھا۔ 1896 میں فرانس کے Henri Becquerel نے مشاہدہ کیا کہ یورینیئم سے ایسی شعاعیں نکلتی ہیں جو اندھیرے میں رکھی اور کاغذ میں لپٹی فوٹوگرافی کی پلیٹ کو ایکسپوز کر دیتی ہیں۔ اُسی نے یہ بھی معلوم کیا کہ یہ شعاعیں تین قسم کی ہوتی ہیں، مثبت، منفی اور تعدیلی جنہیں بعد میں ردرفورڈ نے الفا، بی ٹا اور گاما کا نام دیا۔ ماری کیوری نے اس عمل کو ریڈیو ایکٹیویٹی کا نام دیا۔ مادام کیوری اور ان کے شوہر نے جب کچ دھات سے سارا یورینیئم نکال لیا تو انھیں یہ جان کر بڑی حیرانی ہوئی کہ باقی ماندہ کچ دھات اب بھی یورینیئم سے زیادہ تابکار ہے۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ یورینیئم سے بھی زیادہ تابکار کوئی عنصر اب بھی اس کچ دھات میں موجود ہے۔ اس طرح ریڈیئم اور پولونیئم ایجاد ہوا۔

اگرچہ تابکاری ایجاد کرنے والے سائنس دان صرف تین طرح کی تابکار شعاعوں کا ذکر کرتے تھے لیکن آج تابکاری کی چند مزید قسمیں ایجاد ہو چکی ہیں۔

الفا ریز

ترمیم

یہ ہیلیئم کے ایٹمی مرکزوں (یعنی ذرات) پر مشتمل ہوتی ہے جو بڑی تیز رفتاری سے تابکار مادے کے ایٹمی مرکزوں سے خارج ہوتے ہیں۔ ان کی رفتار 15000 کلومیٹر فی سیکنڈ ہوتی ہے۔ ہیلیئم کے ایٹمی مرکزوں پر مثبت (positive) چارج ہوتا ہے اور اس وجہ سے یہ منفی (negative) چارج کی طرف کشش رکھتے ہیں یا مقناطیسی میدان میں ایک طرف مڑ جاتے ہیں۔ یہ ہوا یا کسی دوسری گیس کو ionize کر سکتے ہیں یعنی گیس کے ایٹم سے الیکٹرون الگ کر دیتے ہیں۔ ہوا میں یہ صرف چند سنٹی میٹر کا فاصلہ طے کر سکتے ہیں اور ایک کاغذ میں سے آر پار نہیں گذر سکتے۔
چونکہ ہیلیئم کے مرکزے کا وزن 4 اور اس میں پروٹون کی تعداد 2 ہوتی ہے اس لیے جس تابکار مرکزے سے الفا ریز نکلتی ہیں اُس تابکار مرکزے کا وزن 4 amu کم ہو جاتا ہے اور اس کا ایٹمی نمبر 2 عدد کم ہو جاتا ہے۔ مثال کے طور پر یورینیئم (جس کا ایٹمی وزن 238 ہے اور جس میں 92 پروٹون ہیں) جب الفا ذرات خارج کرتا ہے تو تھوریئم میں تبدیل ہو جاتا ہے (جس کا وزن 234 ہے اور جس میں 90 پروٹون ہوتے ہیں)۔

 

الفا ریز عام طور پر انُ ایٹمی مرکزوں سے خارج ہوتی ہے جن میں نیوٹرون کی کمی پڑ گئی ہو۔ الفا ذرات نکل جانے سے نیوٹرون پروٹون تناسب بڑھ جاتا ہے۔
اگر ایک واحد الفا ذرہ کسی فلوریسنٹ (fluorscent) اسکرین سے ٹکرائے تو ہلکی سی چمک پیدا ہوتی ہے جسے اندھیرے میں خوردبین سے باآسانی دیکھا جا سکتا ہے۔

الفا ذرات کا اخراج ایک quantum tunneling عمل ہے۔

بی ٹا ریز

ترمیم

انھیں یونانی حرف تہجی β سے ظاہر کیا جاتا ہے۔ یہ دو اقسام کی ہوتی ہیں، ایک قسم بی ٹامنفی (-β) کہلاتی ہے اور الیکٹرون پر مشتمل ہوتی ہے جبکہ دوسری قسم بی ٹا مثبت (+β) کہلاتی ہے اور پوزیٹرون سے بنتی ہے۔ بیٹا تابکاری نحیف تفاعل کی وجہ سے عمل میں آتی ہے۔

بی ٹا منفی ریز -β

ترمیم

ایسے ناپائیدار ایٹمی مرکزے جن میں نیوٹرون ضرورت سے زیادہ ہوں ان میں کوئی ایک نیوٹرون ٹوٹ سکتا ہے اور جب بھی نیوٹرون ٹوٹتا ہے تو تین ذرات بنتے ہیں جو پروٹون، الیکٹرون اور الیکٹرون اینٹی نیوٹرینو ہوتے ہیں۔

np + e + ν
e

نیوٹرون کے ٹوٹنے کی وجہ اس کے ایک down quark کا up quark میں تبدیل ہونا ہے جس کی وجہ سے ایک −1W بوزون بنتا ہے جو فوراً ہی ٹوٹ کر الیکٹرون اور الیکٹرون اینٹی نیوٹرینو بناتا ہے۔ بننے والے تینوں ذرات میں سے پروٹون تو مرکزے میں ہی رہ جاتا ہے مگر الیکٹرون اور الیکٹرون اینٹی نیوٹرینو بڑی تیز رفتاری کے ساتھ باہر آ جاتے ہیں۔ یہ الیکٹرون کاغذ میں سے آر پار گذر سکتے ہیں، ہوا میں بھی ایک دو میٹر سفر کر سکتے ہیں مگر ایلومینیئم کی ایک ملی میٹر موٹی چادر میں سے نہیں گذر سکتے۔
بی ٹا ذرہ خارج کرنے سے ایٹمی مرکزے کے وزن میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آتی کیونکہ الیکٹرون کا وزن نیوٹرون اور پروٹون کے مقابلے میں لگ بھگ 1800 گنا کم ہوتا ہے (جبکہ ماس نمبر ایک مکمل عدد ہوتا ہے یعنی اس میں اعشاریہ نہیں ہو سکتا)۔ بی ٹا ذرہ خارج کرنے سے ایٹمی مرکزے کا ایٹمی نمبر (یعنی پروٹون کی تعداد) ایک عدد بڑھ جاتا ہے۔ مثال کے طور پر جب ہائیڈروجن کے ہم جا (isotope) ٹرائیٹیئم سے بی ٹا ذرہ خارج ہوتا ہے تو ہیلیئم3 بنتی ہے۔

3
1
T
 
→  3
2
He1+
 
e  ν
e

اسی طرح کاربن14 سے بی ٹا ذرہ (الیکٹرون) خارج ہونے پر نائٹروجن بنتی ہے اور ایک الیکٹرون اینٹی نیوٹرینو بھی خارج ہوتا ہے۔

14
6
C
14
7
N
+ e + ν
e

بی ٹا مثبت ریز +β

ترمیم
 
فلورین18 کو استعمال کرتے ہوئے لیا گیا ایک Positron Emission Tomography ایکسرے۔

بی ٹا پلس تابکاری کو پوزیٹرون کا اخراج بھی کہتے ہیں۔ یہ تابکاری قدرتی طور پر پائے جانے والے ایٹموں میں نہیں پائی جاتی بلکہ نیوکلیئر ری ایکٹر یا پارٹیکل ایکسلیریٹر میں بنائے جانے والے مصنوعی تابکار ایٹموں سے نکلتی ہے۔ ایسے ناپائیدار ایٹمی مرکزے جن میں پروٹون ضرورت سے زیادہ ہوں ان میں کوئی ایک پروٹون تبدیل ہو کر نیوٹرون بن جاتا ہے اور دو نئے ذرات بنتے ہیں جو پوزیٹرون اور الیکٹرون نیوٹرینو ہوتے ہیں۔ چونکہ نیوٹرون پروٹون سے تھوڑا سا بڑا ہوتا ہے اس لیے اس عمل میں توانائی خارج ہونے کی بجائے جذب ہوتی ہے اور اسی وجہ سے -β کے مقابلے میں +β کمیاب ہوتا ہے۔ ایٹمی مرکزے کے اندر ایک ساتھ ہونے والی کوئی دوسری تبدیلی اس توانائی کا ازالہ کرتی ہے مثلاً الیکٹرون کیپچر۔

pn + e+ + ν
e

سورج اور ستاروں میں یہی عمل فیوزن کی ابتدا کا سبب بنتا ہے جس سے ستارے روشن رہتے ہیں۔
بی ٹا پلس تابکاری کے نتیجے میں ایٹمی مرکزے کا ماس نمبر تبدیل نہیں ہوتا مگر ایٹمی نمبر میں ایک عدد کی کمی ہو جاتی ہے جیسے کاربن11 پوزیٹرون اور نیوٹرینو خارج کر کے بورون میں تبدیل ہو جاتا ہے۔

11
6
C
 
→  11
5
B
 
e+  ν
e

پوزیٹرون خارج کرنے والے عناصر میں کاربن11، پوٹاشیئم40، نائٹروجن13، آکسیجن15، ایلومینیئم26، سوڈیئم22، فلورین18 اور آیوڈین121 شامل ہیں۔

گاما ریز (γ )

ترمیم

الفا اور بی ٹا ریز ایٹمی ذرات پر مشتمل ہوتی ہیں جبکہ گاما ریز برقی مقناطیسی شعاعوں پر مشتمل ہوتی ہیں یعنی فوٹون سے بنی ہوتی ہیں اور عام طور پر ایکس ریز (x ray) سے بھی زیادہ توانائی کی حامل ہوتی ہیں۔ ان پر کوئی برقی چارج نہیں ہوتا اور یہ کئی فٹ موٹی دیوار میں سے بھی آرپار گذر جاتی ہیں۔ ہوا میں یہ کئی سو میٹر تک جا سکتی ہیں۔ ان کی ion سازی کی صلاحیت الفا ریز سے کم ہوتی ہے۔ ان سے بچنے کے لیے سیسے کی چادر یا موٹی دیوار استعمال کی جاتی ہے۔
ان گاما شعاعوں کا طول موج 0.0005 سے 0.1 نینو میٹر تک ہو سکتا ہے۔ گاما شعاعوں کے اخراج سے ایٹمی مرکزے کا نہ ایٹمی نمبر تبدیل ہوتا ہے نہ ماس نمبر۔ بس مرکزہ زیادہ توانائی سے کم توانائی پر آجاتا ہے جو زیادہ پائیدار حالت ہوتی ہے۔
کوئی بھی مرکزہ صرف گاما شعاعیں خارج نہیں کرتا بلکہ پہلے الفا یا بیٹا شعاعیں خارج کرتا ہے اور پھر گاما شعاع خارج کر کے مزید استحکام حاصل کرتا ہے۔ مثال کے طور پر جب کوبالٹ60 سے بی ٹا ریز نکلتی ہیں تو کوبالٹ نکل60 میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ نکل60 سے پہلے 1.17 اور پھر 1.33 MeV کی دو گاما شعاعیں نکلتی ہیں۔

 
کوبالٹ60 کا مرحلہ وار ٹوٹنا۔
60
27
Co
 
→  60
28
Ni*
 
e  ν
e
 
γ  1.17 MeV
60
28
Ni*
 
→  60
28
Ni
 
        γ  1.33 MeV

الیکٹرون کیپچر

ترمیم

الیکٹرون کیپچر تابکاری کی ایک قسم ہے جس میں کوئی زیادہ پروٹون رکھنے والا ایٹمی مرکزہ اپنے اردگرد چکر کاٹتے ہوئے کسی الیکٹرون کو کھینچ کرپکڑ لیتا ہے اور اس طرح مرکزے کا ایک پروٹون نیوٹرون میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ایک نیا ذرہ خارج ہوتا ہے جو الیکٹرون نیوٹرینو ہوتا ہے۔ الیکٹرون کیپچر ان ایٹمی مرکزوں میں اکثر ہوتاہے جو پوزیٹرون خارج کرنے جتنی توانائی نہیں رکھتے۔ مثال کے طور پر روبیڈیئم 83 جس کے ایٹم میں 37 پروٹون اور 46 نیوٹرون ہوتے ہیں، جب الیکٹرون کیپچر کرتا ہے تو کرپٹون83 بنتا ہے جس میں 36 پروٹون ہوتے ہیں اور 47 نیوٹرون ہوتے ہیں۔ یعنی نئے بننے والے دختر مرکزے میں ایک پروٹون کم ہو جاتا ہے جبکہ ایک نیوٹرون بڑھ جاتا ہے۔
اسی طرح بیریلیئم7 الیکٹرون کیپچر کر کے لیتھیئم7 میں تبدیل ہو جاتا ہے اور نیوٹرینو خارج کرتا ہے۔[1]

p  e  →  n  ν
e
Nuclide
ایٹمی مرکزہ
Z
(پروٹون کی تعداد)
N
(نیوٹرون کی تعداد)
 
مرکزے کی کمیت
(amu)
 
ہاف لائف تابکاری کی قسم [2][n 1] دختر مرکزہ
(s)[n 2]
nuclear
spin
قدرتی
دستیابی
توانائی کا اخراج
eV
کوبالٹ56 27 29 55.9398393 77.233 دن β+ 56Fe 4+ MeV 4.47
کوبالٹ57 27 30 56.9362914 271.74 دن الیکٹرون کیپچر 57Fe 7/2- MeV 0.84
کوبالٹ58 27 31 57.9357528 70.86 دن β+ 58Fe 2+
کوبالٹ 58m1 27 31 9.04 گھنٹے اندرونی تبدیلی کوبالٹ58 5+ 24.95 keV
کوبالٹ 58m2 27 31 10.4 مائیکرو سیکنڈ اندرونی تبدیلی کوبالٹ58 4+ 53.15 keV
کوبالٹ59 27 32 58.9331950 پائیدار (یعنی غیر تابکار) 7/2- 100 فیصد
کوبالٹ60 27 33 59.9338171(7) 5.2713 سال β-, γ 60Ni 5+ MeV 2.82

[1]

مزید دیکھیے

ترمیم

حوالے

ترمیم