1880ء کے دہے میں گریس

ولیم گِلبرٹ "ڈبلیو۔ جی۔" گریس (18 جولائی 1848ء - 23 اکتوبر 1915ء) انگریز شوقیہ کرکٹ کھلاڑی تھے جو اس کھیل کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا تھا اور جنہیں باوثوق طور پر اس کے سب سے بڑے کھلاڑیوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ انہوں نے 1865ء سے 1908ء تک ریکارڈ 44 سیشن کے لیے فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلا، جس کے دوران انہوں نے انگلینڈ، گلوسٹرشاير، میريلے بون کرکٹ کلب (ایم سی سی) اور بہت سی دیگر ٹیموں کی کپتانی کی۔

ان کے خاندان میں کرکٹ کافی مشہور تھا۔ 1880ء کے ایک ٹیسٹ میچ میں وہ اپنے بڑے بھائی ای ایم گریس اور چھوٹے بھائی فریڈ گریس کے ساتھ کھیلے۔ یہ پہلا معاملہ تھا کہ تین بھائی ٹیسٹ کرکٹ میں ایک ساتھ کھیلے تھے۔ ان کا تکنیکی نیاپن اور زورآور اثر ایک مستقل وراثت چھوڑ گیا ہے۔ ہررفن مولٰی کے طور پر وہ بلے بازی، بولنگ اور فیلڈنگ کے تمام ضروری مہارت میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے تھے، لیکن یہ ان کی بلے بازی ہے جس کے لیے وہ سب سے زیادہ مشہور ہیں۔ انہیں جدید بلے بازی کا موجد سمجھا جاتا ہے۔

وہ 1879ء میں ڈاکٹر کے طور پر کوالیفائی ہوئے۔ ان کے طبی پیشے کی وجہ سے، وہ شوقیہ کرکٹ کھلاڑی تھے۔ پر یہ درجہ برائے نام تھا، کہا جاتا ہے کہ انہوں نے کرکٹ کی سرگرمیوں سے کسی بھی پیشہ ورانہ کرکٹ کھلاڑی کے مقابلے زیادہ پیسہ بنایا۔ اپنے 22 ٹیسٹ میچ کی زندگی میں گریس نے 32.29 کے اوسط سے 1098 رنز بنائے جس میں انہوں نے دو سنچری لگائے اور 26.22 کے اوسط سے کل 9 وکٹ لیے۔ فرسٹ کلاس کرکٹ میں گریس نے 39.55 کے اوسط سے 54،896 رنز بنائے اور 126 سنچری لگائے۔ ساتھ ہی انہوں نے 17.52 کے اوسط سے 2876 وکٹ بھی حاصل کیے۔[1]

جس طرح کہ شری رام لاگو تعلیمی طور پر ڈاکٹر تھے، مگر پھر بھی شہرت ادا کاری سے رکھتے تھے، اسی طرح سے ڈبلیو جی گریس ڈاکٹر ہو کر بھی کرکٹ کھلاڑی کے طور پر اپنی پہچان بنائے تھے۔

مزید دیکھیےترميم

حوالہ جاتترميم

  1. "ڈبلیو جی گریس (1848-1915)". ویب دنیا. مؤرشف من الأصل في 7 جنوری 2019. اخذ شدہ بتاریخ 16 مئی 2016ء.