جان کیپلر (Johannes Kepler) ایک جرمن ماہر فلکیات اور ریاضی دان تھا۔ وہ 27 دسمبر 1571ء کو جرمنی میں پیدا ہوا۔ وہ سترھویں صدی کے سائنسی انقلاب کی ایک بہت اہم سخصیت تھا۔ اس نے جرمنی کی ایک مشہور اور قدیم جامعہ جامعہ گوٹنگن سے تعلیم حاصل کی۔ وہ سیاروں کی حرکت کے قوانین دریافت کرنے کے لیے مشہور تھا جس کی بعد میں آنے والے ماہر فلکیات نے تصدیق کی۔ اس کے کام نیوٹن کے کام اور خصوصا کشش ثقل کی بنیاد بنا۔

کپلر
(جرمن میں: Johannes Kepler ویکی ڈیٹا پر (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
Johannes Kepler 1610.jpg
 

معلومات شخصیت
پیدائشی نام (جرمن میں: Johannes Kepler ویکی ڈیٹا پر (P1477) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیدائش 27 دسمبر 1571[1][2]  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 15 نومبر 1630 (59 سال)[3][4][1][2][5][6][7]  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ریجینسبورج[8][9]  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدفن ریجینسبورج  ویکی ڈیٹا پر (P119) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
رہائش جرمنی
شہریت Banner of the Holy Roman Emperor with haloes (1400-1806).svg مقدس رومی سلطنت  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مذہب ملحد[4]  ویکی ڈیٹا پر (P140) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
تعلیمی اسناد بی اے[4]،  ماسٹر آف آرٹس[4]  ویکی ڈیٹا پر (P512) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ فطرت پسند،  منجم،  الٰہیات دان،  ریاضی دان،  ماہر فلکیات،  ماہر موسیقیات،  طبیعیات دان،  ماہر کونیات،  موسیقی کا نظریہ ساز،  فلسفی  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان لاطینی زبان[1]  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شعبۂ عمل بصریات،  فلکیات،  ریاضی،  میکانیات  ویکی ڈیٹا پر (P101) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مؤثر نکولس کوپرنیکس  ویکی ڈیٹا پر (P737) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دستخط
Unterschrift Kepler.svg

پیشے کے اعتبار سے وہ آسٹریا کے شہر گراز میں ریاضی کا استاد تھا۔ 15 نومبر 1630ء کو 58 سال کی عمر میں اس کا انتقال ہو گیا۔ اس نے بصریات (optics) پر بھی کام کیا اور دوربین کی ساخت کو بہتر بنایا۔ اس نے اپنے ہمعصر گلیلیو کے دریافت کی ہوئی دوربین کا بھی ذکر کیا ہے۔ اس کے زمانے میں فلکیات اور نجوم کے درمیان میں کوئی خاص فرق نہیں ہوتا تھا ہاں البتہ فلکیات اور طبیعیات کے درمیان میں کافی واضح فرق تھا۔ وہ اپنے کام میں مذہہبی دلائل بھی لے آتا تھا۔ اس کا یہ یقین تھا کہ خدا نے یہ دنیا نہایت ہی ذہین منصوبے سے بنائی ہے ۔[10] اس نے اپنی فلکیات کو فلکی طبیعیات (celestial physics) کا نام دیا ۔[11]

حوالہ جاتترميم

  1. ^ ا ب پ http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb11909597m — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — مصنف: Bibliothèque nationale de France — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  2. ^ ا ب http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb11909597m — اخذ شدہ بتاریخ: 22 اگست 2017 — خالق: John O'Connor اور Edmund Robertson
  3. ربط : https://d-nb.info/gnd/118561448  — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اپریل 2014 — اجازت نامہ: CC0
  4. ^ ا ب پ ربط : https://d-nb.info/gnd/118561448  — مصنف: ارتھر بری — عنوان : A Short History of Astronomy — ناشر: جون مرے
  5. دائرۃ المعارف بریطانیکا آن لائن آئی ڈی: https://www.britannica.com/biography/Johannes-Kepler — بنام: Johannes Kepler — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017 — عنوان : Encyclopædia Britannica
  6. ایس این اے سی آرک آئی ڈی: https://snaccooperative.org/ark:/99166/w6qr51bq — بنام: Johannes Kepler — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  7. NE.se ID: https://www.ne.se/uppslagsverk/encyklopedi/lång/johannes-kepler — بنام: Johannes Kepler — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017 — عنوان : Nationalencyklopedin
  8. ربط : https://d-nb.info/gnd/118561448  — اخذ شدہ بتاریخ: 30 دسمبر 2014 — اجازت نامہ: CC0
  9. ربط : https://d-nb.info/gnd/118561448  — اخذ شدہ بتاریخ: 25 فروری 2017 — مدیر: الیکزینڈر پروکورو — عنوان : Большая советская энциклопедия — اشاعت سوم — باب: Кеплер Иоганн — ناشر: Great Russian Entsiklopedia, JSC
  10. Barker and Goldstein. "Theological Foundations of Kepler's Astronomy"، pp. 112–13.
  11. Kepler. New Astronomy، title page, tr. Donohue, pp. 26–7