گھناؤنا پن (انگریزی: Disgust) کسی تیزی سے پھیلتی شر انگیزی یا بہت ہی زیادہ توہین آمیز[1]، ذوق طبعی کے ناآہنگ یا ایک دم ہی سننے کے لیے ناقابل چیز، حرکت یا شخص کے لیے ابھرنے والا رد عمل کا جذبہ ہے۔

گھناونے پن کی عکاسی کرتا ہوا ایک قلمی چہرہ

گھناؤنا پن کی حرکتوں کی مثالیںترميم

مخالفین کو پھنسانے کے لیے ناک اور انگلی کی ہڈی ٹوٹنے کی 80 فیصد ضربات خودساختہ ہوتی ہیں اور خود ہڈیاں توڑ کر مخالفین کے خلاف مقدمات درج کروانے کے واقعات میں تشویشناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے، ہسپتالوں میں خودساختہ ضربات لگانے اور ہڈیاں توڑنے کے ماہر افراد کے ایجنٹ دندناتے پھر رہے ہیں۔ اور ہڈیاں توڑنے کا گھناؤنا دھندہ کرنے والوں کے خلاف قانون کی خاموشی معاشرے میں فساد کا باعث بن رہی ہے، لوگ معمولی جھگڑوں میں دوسروں کو جھوٹے مقدمات میں پھنسانے کی خاطر ایجنٹوں سے مل کر اپنے ناک اور چھوٹی انگلیوں کی ہڈیاں توڑ لیتے ہیں اور ہسپتالوں سے میڈیکل رپورٹ حاصل کر کے مخالفین کے خلاف مقدمات درج کروا لیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایمرجنسی ڈاکٹر ناتجربہ کاری یا دباؤ کی وجہ سے نتیجہ جاری کر دیتے ہیں اور بے گناہ لوگ اس نتیجے کو چیلنج کرتے ہیں جس پر سینئر ڈاکٹرز پر مشتمل بورڈ ایسی ضربات کو خودساختہ قرار دیتا ہے، لیکن پیشہ ور لوگ ایجنٹوں کی مدد سے ضلعی بورڈ کے فیصلے کو صوبائی بورڈ میں چیلنج کر دیتے ہیں۔[2]
  • بھارت اور پاکستان میں مردانہ کمزوری اور شادی سے پہلے یا بعد میں طبی مشورے کے بہانے کئی نوجوان لڑکوں کو دانستہ طور پر کم تری اور مردمی میں خامی کا احساس دلا کر علاج و معالجہ کے لیے مجبور کیا جانے والا ایک گھناؤنا کھیل کئی دہائیوں سے رائج ہے۔ اس میں حکیم، ویدھ، ڈاکٹر یہاں تک کہ نیم حکیم بھی شامل ہیں۔ گھناؤنے کھیل کا فوری شکار تو وہ لڑکا یا مشورہ طلب کرتا مرد ہوتا ہے، مگر اس کا اثر شادی کرنے اور نہ کرنے کے فیصلے پر ہوتا ہے، منگیتر لڑکی یا دلہن پر بھی ہوتا ہے، شروع ہو رہی ازدواجی زندگی پر ہوتا ہے، اس کے ساتھ ساتھ دو خاندانوں کے جڑاؤ اور شادی کے دیر پا قائم رہنے پر بھی ہوتا ہے، جس کی کچھ ماہرین نفسیات نے شدید مذمت کی ہے۔[3]
  • انسانی نسل کی افزائش اور انسانوں کے باہمی تعلقات کا انحصار مرد اور عورت کے باہمی تعلق پر ہے۔ جس معاشرے میں یہ تعلق جتنا مضبوط ہوگا وہ معاشرہ انتہائی پر امن اور خیرو برکت کا حامل ہوگا اور جس مذہب و معاشرے میں اس تعلق سے ضوابط نہیں ہوں گے اس معاشرے کی مثال اس جنگل کی سی ہوگی جہاں جانور بغیر قاعدہ کلیہ کے اختلاط( جنسی ملن) کے عمل سے گزرتے ہیں۔[4] تاہم کچھ سماجی ماہرین نفسیات نے ہم جنس پسندی کی جانب بڑھتے ہوئے جدید سماجی رجحانوں کی اس وجہ سے مذت کی ہے کہ یہ گھناؤنا پن کی اپنے آپ میں ایک دلیل ہے کہ اس خاندانی اقدار کا فقدان ہوتا ہے، بے راہ روی کو فروغ ملتا ہے اور بے سروپا ملاپ اور تعلقات کو ہوا دی جا رہی ہے۔
  • اتر پردیش شیعہ وقف بورڈ کے سابق صدر نشین وسیم رضوی نے بھارت کے سپریم کورٹ میں قرآن کی 26 آیات پر دہشت گردی کے فروغ کا الزام عائد کرتے ہوئے ان آیات کو کتاب سے خارج کرنے کا مطالبہ کیا۔[5] سپریم کورٹ نے اس مقدمے کے پس پردہ غیر واضح بنیاد اور کسی بھی مذہبی کتاب میں دخل اندازی کی عدالت کی عدم رسائی کے اعتراف کے ساتھ اس گھناؤنا پن سے بھری اپیل پر وسیم رضوی پر پچاس ہزار کا جرمانہ عائد کرتے ہوئے درخواست خارج کر دی۔

مزید دیکھیےترميم

حوالہ جاتترميم