یحیٰی بختیار

پاکستانی وکیل اور سیاست دان

یحیٰی بختیار (ولادت: 1922ء - وفات:2003ء) پاکستانی وکیل اور سیاست دان تھے جنھوں نے 22 دسمبر 1971ء سے 5 جولائی 1977ء تک پاکستان کے اٹارنی جنرل کی حیثیت سے خدمات انجام دیا۔

یحیٰی بختیار
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1921ء   ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کوئٹہ   ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تاریخ وفات 27 جون 2003ء (81–82 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت پاکستان
برطانوی ہند   ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مناصب
پاکستان کے اٹارنی جنرل   ویکی ڈیٹا پر (P39) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
برسر عہدہ
22 دسمبر 1971  – 5 جولا‎ئی 1977 
عملی زندگی
پیشہ سیاست دان   ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مادری زبان اردو   ویکی ڈیٹا پر (P103) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان اردو   ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

ماہر قانون اور سابق اٹارنی جنرل آف پاکستان تھے۔مشہور فلمسٹار زیبا بختیار ان کی صاحبزادی ہیں۔

پیدائش

ترمیم

وہ 1922ء ٰیا 1923ء میں کوئٹہ میں پیدا ہوئے۔

خاندانی حالات

ترمیم

اُن کی شادی ایوا بختیار سے ہوئی۔ اُن کے دو بیٹے ڈاکٹر سلیم بختیار اور ڈاکٹر کریم بختیار امریکا میں رہتے ہیں۔ اُنکی دوبیٹیاں زیبا بختیار اور سائرہ بختیار کراچی میں رہتی ہیں۔

مسلم لیگ میں شمولیت

ترمیم

وہ 1941ء میں آل انڈیا مسلم لیگ کے رکن بنے۔ 1942ء میں پنجاب مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کے رکن بنے اور قائد اعظم اور دیگر طلبہ کے ساتھ پاکستان کا پیغام پنجاب، سرحد اور بلوچستان پہنچاتے رہے۔ بعد میں آل انڈیا مسلم سٹوڈنٹس کے نائب صدر بنے

تعلیم

ترمیم

انھوں نے 1946ء میں لاہور سے ایم اے کیا اور پھر لندن بیرسٹری کے لیے چلے گئے۔

کیرئیر

ترمیم
لندن سے واپسی پر لیاقت علی خان نے انھیں بلوچستان ایڈوائزری کونسل کا رکن نامزد کیا اور 1952ءمیں آئین ساز اسمبلی کے بنیادی حقوق کمیٹی کے رکن بھی بنے۔ایوب خان کے مارشل لا کو 1958ء میں پہلی مرتبہ یحییٰ بختیار نے ہی چیلنج کیا۔ 1964ء سے 1971ء تک وہ تین مرتبہ بلا مقابلہ مغربی پاکستان مسلم لیگ کے صدر منتخب ہوئے۔

اٹارنی جنرل

ترمیم
وہ 1971ء میں ذوالفقار علی بھٹو کی خواہش پر پاکستان کے اٹارنی جنرل منتخب ہوئے اور وہ پاکستان کے پہلے اٹارنی جنرل تھے جنہیں مرکزی وزیر کا عہدہ دیا گیا۔یحییٰ بختیار نے 1972ء اور1973ءمیں ہیگ کی بین الاقوامی عدالت میں پاکستان کی طرف سے انڈیا کے خلاف مقدموں کی پیروی کی اس کے علاوہ انڈیا میں قید پاکستانی جنگی قیدیوں کے مقدمے کی بھی پیروی کی۔ 

پیپلز پارٹی میں شمولیت

ترمیم
وہ 1974ء تک مسلم لیگ سے وابستہ رہے اور بعد میں پاکستان پیپلز پارٹی میں شامل ہو گئے۔انھوں نے 1977ء میں معزول وزیر اعظم ذو الفقار علی بھٹو اور بیگم نصرت بھٹو کے مقدمے کی پیروی کی۔ ضیاء الحق کے مارشل لا پر تنقید کرنے کے الزام میں ان کو گرفتار بھی کیا گیا اور جیل میں بہت پیٹا گیا تھا۔

یحییٰ بختیار سینٹ آف پاکستان اور قومی اسمبلی کے رکن بھی رہے۔

1988ء میں وہ ایک مرتبہ پھر اٹارنی جنرل کے عہدے پر فائز ہوئے۔

مارچ 1991ء میں انھیں سینٹ آف پاکستان کا رکن منتخب کیا گیا جہاں وہ نومبر 1993ء تک قائد حزب اختلاف کا فریضہ نبھاتے رہے۔

قادیانی خلیفہ پر جرح

ترمیم

1974ء میں انھوں نے قومی اسمبلی میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی کارروائی کے دوران قادیانی جماعت کے سربراہ مرزا ناصر احمد اور لاہوری جماعت کے سربراہ صدر الدین عبد المنان عمر اور مسعود بیگ پر جرح کی۔اٹارنی جنرل جناب یحیی بختیار کے دلائل کے سامنے مرزا ناصر بے بس ہو گیااور جوابات کی بجائے پسینہ خشک کرتا رہا اور بار بار پانی پیتا رہا۔یہ یحیی بختیار مرحوم کا استدلالی طریقہ تھا کہ اس نے مرزا ناصر کی زبان سے اس کے دادا اور اس کے ماننے والوں کے کفر کا اعتراف کروایا اور پھر اتفاق رائے سے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا۔ یحییٰ بختیار مرحوم نے ایک بار ایک سوال پر کہ ’’قادیانیوں کا کہنا ہے کہ اگر یہ روداد شائع ہو جائے تو آدھا پاکستان قادیانی ہو جائے گا۔‘‘ کا جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’’سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، یہ کارروائی ان کے خلاف جاتی ہے۔ ویسے وہ اپنا شوق پورا کر لیں، ہمیں کیا اعتراض ہے۔ ان دنوں ساری اسمبلی کی کمیٹی بنا دی تھی اور کہا گیا تھا کہ یہ ساری کارروائی سیکرٹ ہو گی تا کہ لوگ اشتعال میں نہ آئیں۔ میرے خیال میں اگر یہ کارروائی شائع ہو گئی تو لوگ قادیانیوں کو ماریں گے۔‘‘[1] قومی اسمبلی کی کارروائی کے چند ہفتوں بعد قادیانی خلیفہ مرزا ناصر کی ٹیم میں شامل ایک معروف قادیانی مرزا سلیم اختر چند ہفتوں بعد قادیانیت سے تائب ہو کر مسلمان ہو گیا۔

وفات

ترمیم
27 جون 2003ء کو پاکستان کے نامور ماہر قانون یحییٰ بختیار کوئٹہ میں وفات پا گئے۔یحییٰ بختیار کوئٹہ کے نزدیک کلی شیخاں کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔
  1. انٹرویو نگار منیر احمد منیر ایڈیٹر ’’ماہنامہ آتش فشاں‘‘ لاہور، مئی 1994ء