آل پاکستان ویمنز ایسوسی ایشن

فلاحی تنظیم

آل پاکستان ویمنز ایسوسی ایشن (انگریزی: All Pakistan Women's Association) کراچی میں واقع پاکستان کی غیر منافع بخش و غیر سیاسی فلاحی تنظیم ہے۔ جس کا مقصد پاکستانی خواتین کی فلاح و بہبود ہے۔

آل پاکستان ویمنز ایسوسی ایشن
مخفف اپوا
APWA
صدر دفتر کراچی، پاکستان
تاریخ تاسیس فروری 22، 1949؛ 73 سال قبل (1949-02-22)
قسم غیر منافع بخش غیر سیاسی فلاحی ادارہ
مقاصد خواتین کی فلاح و بہبود
خدماتی خطہ پاکستان
بانی سرپرستِ اعلیٰ محترمہ فاطمہ جناح، بیگم خواجہ ناظم الدین
بانی صدر بیگم رعنا لیاقت علی خان
موجودہ صدر مہر افروز حبیب
وابستگیاں International Community for Women
Associated Country women
International Alliance of Women
General Federation of Women's Club, US
Pan Pacific and South East Asia Women's Association
باضابطہ ویب سائٹ apwapakistan.com

قیامترميم

22 فروری، 1949ء کو کراچی، پاکستان میں خواتین کی ایک کل کانفرنس منعقد ہوئی جس میں آل پاکستان ویمنز ایسوسی ایشن (اپوا) کا قیما عمل میں آیا۔ اس تنظیم کی پہلی سرپرست اعلیٰ بیگم خواجہ ناظم الدین اور محترمہ فاطمہ جناح قرار پائیں اور بیگم رعنا لیاقت علی خان کو اس تنظیم کا پہلا صدر منتخب کیا گیا۔ اس کانفرنس میں جن خواتین نے شرکت کی ان میں بیگم شائستہ اکرام اللہ،بیگم جہاں آرا شاہنواز، بیگم سلمیٰ تصدق حسین، لیڈی نصرت ہارون، بیگم فضل الرحمٰن اور بیگم شہاب الدین کے نام سرفہرست ہیں۔[1]

اغراض و مقاصدترميم

آل پاکستان ویمنز ایسوسی ایشن (اپوا) کے مقاصد میں پاکستانی خواتین کی فلاح و بہبود، صحت، تعلیم، قانونی و مالی امداد شامل ہیں۔[1]

شاخیںترميم

آل پاکستان ویمنز ایسوسی ایشن (اپوا) کی پاکستان سے باہر مندرجہ ذیل شاخیں ہیں[2]:

  • اپوا نارتھ امریکا(APWA North America)
  • اپوا یو کے (APWA UK)
  • اپوا ٹورینٹو(APWA Toronto)

ڈاک ٹکٹ کا اجراترميم

25فروری 1979ء کو پاکستان کے محکمہ ڈاک نے اپواکے قیام کی تیسویں ویں سالگرہ کے موقع پر  50پیسے مالیت کا ایک ڈاک ٹکٹ جاری کیا۔ اس ڈاک ٹکٹ کا ڈیزائن پاکستان سیکورٹی پرنٹنگ پریس کے ڈیزائنرمیاں محمد سعید نے تیار کیا تھا

حوالہ جاتترميم

  1. ^ ا ب ص 34، پاکستان کرونیکل، عقیل عباس جعفری، ورثہ / فضلی سنز، کراچی، 2010ء
  2. "سمندر پار شاخیں، آل پاکستان ویمنز ایسوسی ایشن آفیشل ویب". 22 مارچ 2016 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 20 اپریل 2016.