احمد شاہ درانی کا ہندوستان پر چوتھا حملہ

1756ء میں احمد شاہ درانی نے ہندوستان پر چوتھا حملہ کیا جو بظاہر مغلانی بیگم اور خواجہ عبیداللہ خاں کی ایما پر ہوا ۔ اِس حملے میں احمد شاہ درانی نے لاہور میں قیام کیا اور دہلی میں داخلے کے بعد مغل شہنشاہ عالمگیر ثانی کو دہلی کے تخت پر برقرا ر رکھتے ہوئے احمد شاہ درانی واپس افغانستان لوٹ گیا۔

تاریخترميم

فروری 1756ء میں مغل شہنشاہ عالمگیر ثانی کے حکم پر مغل صوبیدار آدینہ بیگ خان نے لاہور کو دوبارہ مغل سلطنت میں شامل کرنے کے لیے لشکرکشی کی تو احمد شاہ درانی کا مقرر کردہ لاہور کا صوبیدار خواجہ عبیداللہ خاں فرار ہو کر جموں بھاگ گیا اور واپسی کی بجائے قندھار پہنچ گیا جہاں اُس نے احمد شاہ درانی کو باور کروایا کہ شاہ کے احکامات کی حکم عدولی ہو رہی ہے اور وزراء سرکشی اختیار کر رہے ہیں۔اِس اثناء میں عمدہ بیگم بھی دہلی پہنچائی جاچکی تھی جس کی نسبت احمد شاہ درانی کے فرزند سے ہوئی تھی۔ مغلانی بیگم بھی اِس زمانہ میں احمد شاہ کو خطوط لکھے جن میں وزراء کی سرکشی کا تذکرہ موجود تھا۔ اِس دوران احمد شاہ نے مغلیہ سلطنت سے سفیروں کا تبادلہ کیا اور نومبر 1756ء میں دونوں اطراف نئے سفیر مقرر ہوئے۔ مغلانی بیگم جو کہ معین الملک عرف میر منو کی بیوہ تھی، وہ چاہتی تھی کہ احمد شاہ سے مدد طلب کرتے ہوئے لاہور پر خود حاکم ہوجائے اور وہ اِس کوشش میں کامیاب بھی ہوئی۔خواجہ عبیداللہ خاں جو کہ قندھار جاچکا تھا، نے بھی احمد شاہ کو ہندوستان پر حملے کی تجویز دیتے ہوئے آمادہ کرلیا۔ احمد شاہ نے خواجہ جنگ باز خاں کو مغلانی بیگم کی مدد اور لاہور کے حالات کا جائزہ لینے کے لیے روانہ کیا۔ جنگ باز خاں نے 25 نومبر 1756ء کو لاہور پر قبضہ کرلیا اور آدینہ بیگ خان لاہور سے فرار ہوکر جالندھر پہنچ گیا۔

مزید دیکھیےترميم