احمد شاہ درانی کا ہندوستان پر پہلا حملہ

1748ء میں درانی سلطنت کے بانی اور شہنشاہ احمد شاہ درانی نے ہندوستان پر پہلا حملہ کیا جسے مؤرخین اُس کا ناکام حملہ تصور کرتے ہیں، حالانکہ وہ لاہور میں فتح پا کر دہلی داخل تو ہوا مگر دہلی میں مغل فوج سے شکست کے بعد لاہور سے ہوتا ہوا واپس کابل چلا گیا۔

لشکرکشی کی تفصیلات

ترمیم

یکم جولائی 1745ء کو پنجاب کے مغل گورنر نواب زکریا خان بہادر فوت ہوا تو پنجاب میں افراتفری کا عالم پھیل گیا۔ اُس کا فرزند یحییٰ خان اُن دِنوں دہلی میں تھا جہاں سے واپسی پر اُسے تاخیر ہوئی اور اِسی دوران مغل شہنشاہ محمد شاہ نے یحییٰ خان کو لاہور اور شاہ نواز خان کو ملتان کی گورنری پر فائز کر دیا۔ مغل شہنشاہ محمد شاہ نے یحییٰ خان کی درخواست پر اُسے نواب زکریا خان بہادر کی جائداد اور دولت واپس لوٹا دی۔ شاہ نواز خان اِس میں سے اپنا حصہ طلب کرنے کے لیے ملتان سے لاہور پہنچا تو جب اِس مسئلہ پر گفتگو شروع ہوئی تو نوبت تلخ کلامی تک جاپہنچی اور دونوں بھائیوں کے درمیان خانہ جنگی کا ایک سلسلہ شروع ہو گیا جو چار مہینوں تک جاری رہا۔ آخر 17 مارچ 1747ء کو شاہ نواز خان نے یحییٰ خان کو لاہور میں شکست دے دی اور خود شہر میں داخل ہو گیا۔ یحییٰ خان کو نظربند کر دیا گیا۔ یحییٰ خان چونکہ وزیر سلطنت مغلیہ میر قمر الدین خان کا داماد بھی تھا جسے نظربندی سے رہا کروانے کے لیے میر قمر الدین خان نے سفیر کے ذریعے بات چیت کی مگر وہ بے سُود رہی تو میر قمر الدین خان نے یحییٰ خان کو رہا کروانے کے لیے لاہور پر بھاری لشکرکشی کرنے کے لیے اِقدامات شروع کردیے جس پر شاہ نواز خان گھبرایا اور سخت خلفشار میں مبتلاء ہوا۔ اِس صورت حال سے پریشان ہوکر اُس نے احمد شاہ درانی کو ہندوستان پر حملہ آور ہونے کی دعوت دی جس کا مرکزی خیال شاہ نواز خان کے وزیر آدینہ بیگ خان کا تھا اور اُسے ہی احمد شاہ درانی کے پاس سفیر بنا کر بھیجا گیا۔ اِس خط میں درخواست کی گئی تھی کہ وہ ہندوستان پر حملہ کرے اور اِس پر قابض ہوجائے اور اِس کے معاوضے میں مجھے یعنی شاہ نواز خان کو وزیر اعظم ہندوستان مقرر کرے۔ احمد شاہ درانی اُن دِنوں کابل میں تھا جہاں سے اُس نے جواباً خط سربمہر لکھوا کر بھیجا کہ شاہ نواز خان کو وزارتِ عظمیٰ دی جائے گی اور احمد شاہ درانی خود ہندوستان کا شہنشاہ ہوگا۔احمد شاہ درانی نے لشکرکشی کے لیے تیزی سے اِقدامات کیے اور افغان مہم پسندوں کی ایک بڑی سپاہ تیار کرلی۔ وسط دسمبر 1747ء میں وہ 18 ہزار کا لشکر لے کر پشاور سے نکلا تاکہ لاہور کی جانب سے حملہ آور ہو سکے۔[1] اٹک کے مقام پر یوسف زئی افغان بھی شریک ہو گئے اور یہاں بغرا خان پوپلزئی سے احمد شاہ درانی کی ملاقات ہوئی جسے اُس نے خط دے کر شاہ نواز خان کے پاس لاہور بھیجا تھا۔ بغرا خان پوپلزئی نے لاہور کا حال سنایا۔ ماحول کی تبدیلی پر احمد شاہ درانی کو کچھ پریشانی ہوئی کیونکہ آدینہ بیگ خان جو شاہ نواز خان کا وزیر تھا، اپنی دوہری سیاست سے فائدہ اُٹھانا چاہتا تھا۔ وہ بیک وقت سلطنت مغلیہ اور درانی سلطنت سے تعلقات و روابط قائم کیے ہوئے تھا۔ آدینہ بیگ خان نے احمد شاہ درانی کی ہندوستان پر حملہ آوری سے مغل شہنشاہ محمد شاہ اور وزیر میر قمر الدین خان کو آگاہ کر دیا تھا۔

احمد شاہ درانی کی لاہور آمد

ترمیم

احمد شاہ درانی پشاور سے روانگی کے بعد پنجاب کے وسط میں آ پہنچا اور روہتاس کے قلعہ پر قبضہ کر لیا۔ احمد شاہ درانی کے مرشد پیر صابر شاہ کی لاہور آمد پر شاہ نواز خان کی اُن سے تلخ کلامی پیش آئی جس پر احمد شاہ درانی مشتعل ہوتا ہوا 8 جنوری 1748ء کو شاہدرہ پہنچ گیا اور مقبرہ جہانگیر کے احاطے میں خیمہ زن ہو گیا۔ شاہ نواز خان جو اَب مغلیہ سلطنت کی جانب سے لاہور کی گورنری پر فائز ہو چکا تھا، اب اپنی پالیسی بدلتے ہوئے احمد شاہ درانی کے مخالف ہو گیا اور اپنی کارروائیاں افغان لشکر کے خلاف جاری رکھتے ہوئے شہر لاہور کے اِردگرد مورچے کھدوائے اور شہر کا دفاع کرنے کی خاطر اپنی پالیسی کو کامیاب نہ کرسکا اور 10 جنوری 1748ء کو احمد شاہ درانی نے دریائے راوی کو عبور کرکے شالامار باغ میں قیام کیا۔

مزید دیکھیے

ترمیم

حوالہ جات

ترمیم
  1. گنڈا سنگھ: احمد شاہ ابدالی، صفحہ 70/71۔