احمد شاہ درانی کا ہندوستان پر پانچواں حملہ

1759ء میں احمد شاہ ابدالی نے اپنے کھوئے ہوئے مقبوضات واپس لینے اور اپنا وقار بحال کرنے کے لیے ہندوستان پر پانچویں بار حملہ کیا۔ اِس حملے میں احمد شاہ ابدالی براہِ راست پنجاب کے انتظامی معاملات میں مصروف رہا اورمرہٹوں سے برسرپیکار رہا۔اکتوبر 1759ء میں یہ احمد شاہ ابدالی کا ہندوستان پر پانچواں حملہ تھا۔

تاریخترميم

1759ء تک احمد شاہ ابدالی کی درانی سلطنت کے متعدد مقبوضات اُس کے ہاتھ سے نکل چکے تھے اور 1759ء میں احمد شاہ ابدالی نے اپنے کھوئے ہوئے مقبوضات اور اپنا کھویا ہوا وقار بحال کرنے کے لیے کیا۔ نجیب الدولہ روہیلہ جو ہندوستان میں احمد شاہ کا نمائندہ تھا، عرصہ دراز سے خفیہ مکتوبات بھیج رہا تھاکیونکہ مرہٹوں نے اُسے دہلی سے نکال کر سکرتال کے مقام پر سخت تنگ کر رکھا تھا۔ نجیب الدولہ نے احمد شاہ کو اسلام کے نام پر برہمن بت پرستوں کو دہلی اور شمالی ہندوستان سے باہر نکال دینے کے لیے طلب کرنا شروع کردیا۔ اِسی زمانہ میں جے پور اور ماروارڑ کے ہندو راجاؤں مادھو سنگھ اور بجے سنگھ نے احمد شاہ سے درخواست کی کہ ہندوستان آ کر اُن کے علاقوں کو مرہٹوں سے محفوظ رکھنے میں مدد دے۔ مغل شہنشاہ عالمگیر ثانی نے بھی احمد شاہ کو خفیہ خطوط لکھے تھے کیونکہ وہ اپنے ظالم وزیر غازی الدین خاں فیروز جنگ سوم سے جان چھڑانا چاہتا تھا۔ [1]

احمد شاہ ابدالی کا پنجاب میں داخلہترميم

احمد شاہ نے سردار جہان خاں کو پہلے روانہ کیا اور خود صفر 1173ھ کے آخر میں درۂ بولان کے راستے میں ہندوستان میں داخل ہوا۔ بنوں میں اِس علاقے کے دو ممتاز سردار بھی احمد شاہ سے آملے۔ احمد شاہ ابدالی نے 25 اکتوبر 1759ء کو دریائے سندھ عبور کرلیا اور پنجاب میں داخل ہوگیا۔ اِس اثناء میں جہان خاں نے سباجی کو اٹک میں سے نکال دیا۔ سباجی نے اٹک خالی کردیا۔ مرہٹوں کی مزاحمت کام نہ آئی اور لاہور کے مشرق کی جانب پسپا ہوگئے۔ [2]

مزید دیکھیےترميم