الحاق کی پالیسی سنہ 1858ء سے قبل برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی کی اختیار کردہ حکمت عملی تھی جس کی رو سے ایسٹ انڈیا کمپنی کے ماتحت ہندوستان کی وہ تمام نوابی ریاستیں جو برطانوی نظام کے تحت اطاعت گزار ریاست کہلاتی تھیں ان کی نوابی حیثیت ختم کرکے انھیں برطانوی ہندوستان میں ضم کر لیا جاتا اگر ریاست کا حکمران کسی مرد وارث کے بغیر دنیا سے چلا گیا ہو۔[1] انگریزوں کی نافذ کردہ اس پالیسی کو ہندوستان میں عموماً نامناسب بلکہ غیر قانونی سمجھا گیا اور بہت سے مورخین کا خیال ہے کہ 1857ء کی جنگ آزادی کے اسباب میں یہ پالیسی بھی ایک اہم سبب بنی۔

عموماً اس پالیسی کو لارڈ ڈلہوزی سے منسوب کیا جاتا ہے جو سنہ 1848ء سے 1856ء تک ایسٹ انڈیا کمپنی کے گورنر جنرل رہے۔ لیکن درحقیقت ڈلہوزی کے گورنر جنرل بننے سے قبل سنہ 1834ء سے بھی پہلے ایسٹ انڈیا کمپنی کے کورٹ آف ڈائریکٹرز اس پالیسی کا صراحتاً اعلان کر چکے تھے اور بہت سی چھوٹی ریاستوں کا الحاق بھی ہو چکا تھا۔ البتہ ڈلہوزی نے اس پالیسی پر سختی سے اور بڑے پیمانے پر عمل کیا چنانچہ اسی بنا پر اس پالیسی کی تشکیل کو عموماً ان سے منسوب کر دیا جاتا ہے۔

تاریخ

ترمیم

اس پالیسی کے نفاذ کے وقت برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی کو برصغیر کے وسیع خطوں پر شہنشاہ کی جانب انتظامی اختیارات حاصل تھے۔ چنانچہ کمپنی بہادر نے الحاق کی اس پالیسی کے تحت ستارا (1848ء)، جیت پور اور سنبل پور (1849ء)، ناگپور اور جھانسی (1854ء)، تنجاور اور ارکاٹ (1855ء) اور ادے پور (چھتیس گڑھ) پر تسلط حاصل کر لیا۔ اودھ (1856ء) کے متعلق عموماً یہ کہا جاتا ہے کہ اس کا الحاق بھی اسی پالیسی کے تحت عمل میں آیا تھا۔ لیکن حقیقتاً لارڈ ڈلہوزی نے بد انتظامی کا بہانہ بنا کر اودھ پر قبضہ کیا تھا۔ کسی ریاست کے الحاق سے قبل عموماً یہ دعویٰ کیا جاتا کہ اس کے حکمران انتظام سلطنت کے اہل نہیں رہے۔ الحاق کی یہ پالیسی کمپنی بہادر کو سالانہ تقریباً چار ملین پاؤنڈ اسٹرلنگ کا سرمایہ فراہم کرتی تھی۔[2] سنہ 1860ء کو انگریزوں نے ادے پور ریاست کی نوابی بحال کر دی۔[3]

حوالہ جات

ترمیم
  1. Keay, John. India: A History. Grove Press Books, distributed by Publishers Group West. United States: 2000 آئی ایس بی این 0-8021-3797-0, p. 433.
  2. Wolpert, Stanley. A New History of India; 3rd ed., pp. 226-28. Oxford University Press, 1989.
  3. Rajput Provinces of India - Udaipur (Princely State)