سورہ الشوریٰ

قرآن مجید کی 42 ویں سورت
(الشوریٰ سے رجوع مکرر)

قرآن مجید کی 42 ویں سورت جو سورۂ حم السجدہ کے بعد نازل ہوئی۔ اس میں 5 رکوع اور 53 آیات ہیں۔

  سورۃ 42 - قرآن  
سورة الشورى
Sūrat al-Shūrā
سورت الشورى
----

عربی متن · انگریزی ترجمہ


دور نزولمکی
دیگر نام (انگریزی)Consultation, The Counsel
عددِ پارہ25 واں پارہ
اعداد و شمار5 رکوع, 53 آیات
سورہ الشوریٰ

نام

آیت 38 کے فقرے و امرھم شوریٰ بینھم سے ماخوذ ہے۔ اس نام کا مطلب یہ ہے کہ وہ سورت جس میں لفظ شوریٰ آیا ہے۔

زمانۂ نزول

کسی معتبر روایت سے معلوم نہیں ہو سکا ہے لیکن اس کے مضمون پر غور کرنے سے صاف محسوس ہوتا ہے کہ یہ سورہ حم السجدہ کے متصلاً بعد نازل ہوئی ہوگی۔ کیونکہ یہ ایک طرف سے بالکل اس کا تتمہ نظر آتی ہے۔ اس کیفیت کو ہر وہ شخص خود محسوس کرے گا جو پہلے سورۂ حم السجدہ کو بغور پڑھے اور پھر اس سورت کی تلاوت کرے۔ وہ دیکھے گا کہ اس سورت میں سرداران قریش کی اندھی بہری مخالفت پر بڑی کاری ضربیں لگائی گئی تھیں تاکہ مکۂ معظمہ اور اس کے گرد و پیش کے علاقے میں جس کسی کے اندر بھی اخلاقی، شرافت اور معقولیت کی کوئی حس باقی ہو وہ جن لے کہ قوم کے بڑے لوگ کس قدر بے جا طریقے سے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مخالفت کر رہے ہیں اور ان کے مقابلے میں آپ کی بات کتنی سنجیدہ، آپ کا مؤقف کتنا معقول اور آپ کا رویہ کیسا شریفانہ ہے۔ اس تنبیہ کے بعد معاً یہ سورت نازل کی گئی جس نے تفہیم کا حق ادا کر دیا اور ایسے دل نشیں انداز میں دعوتِ محمدی کی حقیقت سمجھائی جس کا اثر قبول نہ کرنا کسی ایسے شخص کے بس میں نہ تھا جو حق پسندی کا کچھ بھی مادہ اپنے اندر رکھتا ہو اور جاہلیت کی گمراہیوں کے عشق میں بالکل اندھا نہ ہو چکا ہو۔

موضوع اور مضمون

بات کا آغاز اس طرح کیا گیا ہے کہ تم لوگ ہمارے نبی کی پیش کردہ باتوں پر یہ کیا چہ میگوئیاں کرتے پھر رہے ہو۔ یہ باتیں کوئی نئی یا نرالی نہیں ہیں، نہ یہی کوئی نادر واقعہ ہے جو تاریخ میں پہلی ہی مرتبہ پیش آیا ہو کہ ایک شخص پر خدا کی طرف سے وحی آئے اور اسے بنی نوع انسان کی رہنمائی کے لیے ہدایات دی جائیں۔ ایسی ہی وحی، اسی طرح کی ہدایات کے ساتھ اللہ تعالٰیٰ اس سے پہلے انبیا علیہم السلام پر پے در پے بھیجتا رہا اور نرالی،اچنبھے کے قابل بات یہ نہیں ہے کہ آسمان و زمین کے مالک کو معبود اور حاکم مانا جائے، بلکہ یہ ہے کہ اس کے بندے ہو کر، اس کی خدائی میں رہتے ہوئے کسی دوسرے کی خداوندی تسلیم کی جائے۔ تم توحید پیش کرنے والے پر بگڑ رہے ہو، حالانکہ مالک کائنات کے ساتھ جو شرک تم کر رہے ہو وہ ایسا جرم عظیم ہے کہ آسمان اس پر پھٹ پڑیں تو کچھ بعید نہیں۔ تمھاری اس جسارت پر فرشتے حیران ہیں اور ہر وقت ڈر رہے ہیں کہ نہ معلوم کب تم پر خدا کا غضب ٹوٹ پڑے۔

اس کے بعد لوگوں کو بتایا گیا ہے کہ نبوت پر کسی شخص کا مقرر کیا جانا اور اس شخص کا اپنے آپ کو نبی کی حیثیت سے پیش کرنا یہ معنی نہیں رکھتا کہ وہ خلق خدا کی قسمتوں کا مالک بنا دیا گیا ہے اور اسی دعوے کے ساتھ وہ میدان میں آیا ہے۔ قسمتیں تو اللہ نے اپنے ہی ہاتھ میں رکھی ہیں۔ نبی صرف غافلوں کو چونکانے اور بھٹکے ہوؤں کو راستہ بتانے آیا ہے۔ اس کی بات نہ ماننے والوں کا محاسبہ کرنا اور انھیں عذاب دینا یا نہ دینا اللہ کا اپنا کام ہے۔ یہ کام نبی کے سپرد نہیں کر دیا گیا ہے۔ لہٰذا اس غلط فہمی کو اپنے دماغ سے نکال دو کہ نبی اس طرح کے کسی دعوے کے ساتھ آیا ہے جیسے دعوے تمھارے ہاں کے نام نہاد مذہبی پیشوا اور پیر فقیر کیا کرتے ہیں کہ جو ان کی بات نہ مانے گا یا ان کی شان میں گستاخی کرے گا وہ اسے جلا کر بھسم کر دیں گے۔ اسی سلسلے میں لوگوں کو یہ بھی بتایا گیا ہے کہ نبی تمھاری بد خواہی کے لیے نہیں آیا ہے، بلکہ وہ تو ایک خیر خواہ ہے جو تمھیں خبردار کر رہا ہے جس راہ پر تم جا رہے ہو اس میں تمھاری اپنی تباہی ہے۔

پھر اس مسئلے کی حقیقت سمجھائی گئی ہے کہ اللہ نے سارے انسانوں کو پیدائشی طور پر راست رو کیوں نہ بنا دیا،اور یہ مجالِ اختلاف کیوں رکھی جس کی وجہ سے لوگ فکر و عمل کے ہر الٹے سیدھے راستے پر چل پڑتے ہیں۔ بتایا گیا کہ اسی چیز کی بدولت تو یہ امکان پیدا ہوا ہے کہ انسان اللہ کی اس رحمتِ خاص کو پا سکے جو دوسری بے اختیار مخلوقات کے لیے نہیں ہے بلکہ صرف اس ذی اختیار مخلوق کے لیے ہے جو جبلی طور پر نہیں، شعوری طور پر اپنے اختیار سے اللہ کو اپنا ولی بنائے۔ یہ روش جو انسان اختیار کرتا ہے اسے اللہ تعالٰیٰ سہارا دے کر،اس کی رہنمائی کر کے، اسے حسن عمل کی توفیق دے کر، اپنی رحمت خاص میں داخل کر لیتا ہے اور جو انسان اپنے اختیار کو غلط استعمال کر کے ان کو ولی بناتا ہے جو در حقیقت ولی نہیں ہیں اور نہیں ہو سکتے، وہ اس رحمت سے محروم ہو جاتے ہیں۔ اسی سلسلے میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ انسان کا اور ساری مخلوقات کا ولی حقیقت میں اللہ تعالٰیٰ ہی ہے۔ دوسرے نہ حقیقت میں ولی ہیں، نہ ان میں طاقت ہے کہ ولایت کا حق ادا کرسکیں۔ انسان کی کامیابی کا مدار اسی پر ہے کہ وہ اپنے لیے اپنے اختیار سے ولی کا انتخاب کرنے میں غلطی نہ کرے اور اسی کو اپنا ولی بنائے جو در حقیقت ولی ہے۔

اس کے بعد یہ بتایا گیا ہے جس دین کو محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پیش کر رہے ہیں وہ حقیقت میں ہے کیا: اس کی اولین بنیاد یہ ہے کہ اللہ تعالٰیٰ چونکہ کائنات اور انسان کا خالق، مالک اور ولیِ حقیقی ہے، اس لیے وہی انسان کا حاکم بھی ہے اور اسی کا یہ حق ہے کہ انسان کو دین اور شریت (اعتقاد و عمل کا نظام) دے اور انسانی اختلافات کافیصلہ کر کے بتائے کہ حق کیا ہے اور نا حق کیا۔ دوسری کسی ہستی کو انسان کے لیے شارع (Lawgiver) بننے کا سرے سے حق ہی نہیں ہے۔ بالفاظ دیگر فطری حاکمیت کی طرح تشریعی حاکمیت بھی اللہ کے لیے مخصوص ہے۔ انسان یا کوئی غیر اللہ اس حاکمیت کا حامل نہیں ہو سکتا اور اگر کوئی شخص اللہ کی اس حاکمیت کو نہیں مانتا تو اس کا اللہ کی محض فطری حاکمیت کو ماننا لا حاصل ہے۔

اسی بنیاد پر اللہ تعالٰیٰ نے ابتدا سے انسان کے لیے ایک دین مقرر کیا ہے۔

وہ ایک ہی دین تھا جو ہر زمانے میں تمام انبیا کو دیا جاتا رہا کوئی نبی بھی اپنے کسی الگ مذہب کا بانی نہیں تھا۔ وہی ایک دین اول روز سے نسل انسانی کے لیے اللہ تعالٰیٰ کی طرف سے مقرر ہوتا رہا ہے،اور سارے انبیا علیہم السلام اسی کے پیرو اور داعی رہے ہیں۔

وہ دین کبھی محض مان کر بیٹھ جانے کے لیے نہیں بھیجا گیا، بلکہ ہمیشہ اس غرض کے لیے بھیجا گیا ہے کہ زمین پر وہی قائم اور رائج اور نافذ ہو اور اللہ کے ملک میں اللہ کے دین کے سوا کسی اور کے ساختہ و پر داختہ دین کا سکہ نہ چلے۔ انبیا علیہم السلام اس دین کی محض تبلیغ پر نہیں بلکہ اسے قائم کرنے کی خدمت پر مامور کیے گئے تھے۔ نوع انسانی کا اصل دین یہی تھا،مگر انبیا کے بعد ہمیشہ یہ ہوتا رہا کہ خودغرض لوگ اس کے اندر اپنی خود پسندی، خود رائی اور خود نمائی کے باعث اپنے مفاد کی خاطر تفرقے برپا کر کے نئے نئے مذہب نکالتے رہے۔ دنیا میں یہ جتنے بھی مختلف مذہب پائے جاتے ہیں سب اسی ایک دین کو بگاڑ کر پیدا کیے گئے ہیں۔

اب محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس لیے بھیجے گئے ہیں کہ ان متفرق طریقوں اور مصنوعی مذہبوں اور انسانی ساخت کے دینوں کی جگہ وہی اصل دین لوگوں کے سامنے پیش کریں اور اسی کو قائم کرنے کی کوشش کریں۔ اس پر خدا کا شکر ادا کرنے کی بجائے اگر تم الٹے بگڑتے ہو اور لڑنے کو دوڑتے ہو تو یہ تمھاری نادانی ہے۔ تمھاری اس حماقت کی وجہ سے نبی اپنا کام نہیں چھوڑ دے گا۔ وہ اس بات پر مامور ہے کہ پوری استقامت کے ساتھ اپنے موقف پر جم جائے اور اس کام کو پورا کرے جس پر وہ مامور ہوا ہے۔ اس سے یہ امید نہ رکھو کہ وہ تمھیں راضي کرنے کے لیے دین میں اسی اوہام و خرافات اور جاہلیت کی رسموں اور طور طریقوں کے لیے کوئی گنجائش نکالے گا جن سے خدا کا دین پہلے خراب کیا جاتا رہا ہے۔

تم لوگوں کو یہ احساس نہیں ہے کہ اللہ کے دین کو چھوڑ کرغیر اللہ کے بنائے ہوئے دین و آئین کو اختیار کرنا اللہ کے مقابلے میں کتنی بڑی جسارت ہے۔ تم اپنے نزدیک اسے دنیا کا معمول سمجھ رہے ہو اور تمھیں اس میں کوئی قباحت نظر نہیں آتی مگر اللہ کے نزدیک یہ بد ترین شرک اور شدید ترین جرم ہے جس کی سخت سزا ان سب لوگوں کو بھگتنی پڑے گی جنھوں نے اللہ کی زمین پر اپنا دین جاری کیا اور جنھوں نے ان کے دین کی پیروی اور اطاعت کی۔

اس طرح دین کا ایک صاف اور واضح تصور پیش کرنے کے بعد فرمایا گیا ہے کہ تم لوگوں کو سمجھا کر راہ راست پر لانے کے لیے جو بہتر سے بہتر طریقہ ممکن تھا وہ استعمال کیا جا چکا۔ ایک طرف اللہ نے اپنی کتاب نازل فرمائی جو نہایت دل نشین طریقے سے تمھاری اپنی زبان میں تمھیں حقیقت بتا رہی ہے اور دوسری طرف محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور ان کے اصحاب کی زندگیاں تمھاری آنکھوں کے سامنے موجود ہیں جنہیں دیکھ کر تم جان سکتے ہو کہ اس کتاب کی رہنمائی میں کیسے انسان تیار ہوتے ہیں۔ اس پر بھی اگر تم ہدایت نہ پاؤ تو پھر دنیا میں کوئی چیز تمھیں راہ راست پر نہیں لا سکتی۔ اس کا نتیجہ تو پھر یہی ہے کہ تمھیں اسی گمراہی میں پڑا رہنے دیا جائے جس میں تم صدیوں سے مبتلا ہو اور اسی انجام سے تم کو دوچار کر دیا جائے جو ایسے گمراہوں کے لیے اللہ کے ہاں مقدر ہے۔

ان حقائق کو بیان کرتے ہوئے بیچ بیچ میں اختصار کے ساتھ توحید اور آخرت کے دلائل دیے گئے ہیں، دنیا پرستی کے نتائج پر متنبہ کیا گیا ہے، آخرت کی سزا سے ڈرایا گیا ہے اور کفار کو ان کی اخلاقی کمزوریوں پر گرفت کی گئی ہے جو ہدایت سے ان کے منہ موڑنے کا اصل سبب تھیں۔ پھر کلام کو ختم کرتے ہوئے دو اہم باتیں ارشاد فرمائی گئی ہیں :

ایک یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا اپنی زندگی کے ابتدائی چالیس سال میں "کتاب" کے تصور سے بالکل خالی الذہن اور ایمان کے مسائل و مباحث سے قطعی ناواقف رہنا اور پھر یکایک ان دونوں چیزوں کو لے کر دنیا کے سامنے آ جانا، آپ کے نبی ہونے کا کھلا ہوا ثبوت ہے۔

دوسرے یہ کہ آپ کا اپنی پیش کردہ تعلیم کو خدا کی تعلیم قرار دینا یہ معنی نہیں رکھتا کہ آپ خدا سے رو در رو کلام کرنے کے مدعی ہیں، بلکہ خدا نے یہ تعلیم تمام انبیا علیہم السلام کی طرح آپ کو بھی تین طریقوں سے دی ہے۔ ایک وحی، دوسرے پردے کے پیچھے سے آواز اور تیسرے فرشتے کے ذریعے سے پیغام۔ یہ وضاحت اس لیے کی گئی ہے کہ مخالفین یہ الزام تراشی نہ کر سکیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خدا سے رو در رو کلام کرنے کا دعویٰ کر رہے ہیں اور حق پسند لوگ یہ جان لیں کہ اللہ تعالٰیٰ کی طرف سے جو انسان نبوت کے منصب پر سرفراز کیا گیا ہو اسے کن طریقوں سے ہدایات دی جاتی ہیں۔