امراؤ سالودیہ

سابقہ راجستھان آئی اے ایس افسر اور 2019ء میں جے پور سے لوک سبھا امیدوار

امراؤ سالودیہ بھارت میں 1978ء بیاچ کے منتخب آئی اے ایس عہدے دار رہے ہیں۔ 2015ء وہ راجستھان میں جواہر کلا کیندر کے ڈائریکٹر جنرل رہے تھے۔ اسی سال اکتوبر کے مہینے میں ریاستی حکومت نے ان کا تبادلہ راجستھان اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن کے صدر نشین کے طور پر ہوا۔ سالودیہ اپنے تجربے اور قابلیت کی وجہ سے ریاستی چیف سیکریٹری کے عہدے کے لیے کوشاں تھے۔ تاہم اس وقت کی راجستھان کی وزیر اعلٰی وسندھرا راجے سندھیا انھیں یہ عہدہ نہیں دینا چاہتی تھی کیوں کہ ان کے وظیفے کے لیے چند مہینے باقی تھے۔ اس کے علاوہ سالودیہ پر اینٹی کرپشن بیورو رشوت ستانی کے ایک معاملے پر تحقیق کر رہی تھی۔ قواعد کی رو سے سالودیہ 30 جون 2016ء کو ریٹائر ہونے والے تھے۔ تاہم سلودیہ نے اس سے کافی پہلے رضاکارانہ استعقا کی درخواست دی اور یہ گزارش کی کہ انھیں 31 مارچ 2016ء کو سبک دوش کیا جائے۔ یہ استعفا اس تاثر کے پیش نظر تھا کہ ان کی ترقی میں حائل سب سے بڑی رکاوٹ ان کا دلت سماج سے تعلق رکھنا ہوا۔ وہ بر سر خدمت چیف سیکریٹری سی ایس راجن کی خدمات میں غیر متوقع توسیع سے کافی دل برداشتہ ہوئے۔ اپنے مکتوب استعفا کے علاوہ انھوں نے اسلام کے قبول کرنے کا اعلان کیا جسے انھوں نے مکمل مساوات کا مذہب قرار دیا۔[1] ان کے قبول اسلام کے ساتھ ان کے اہل خانہ نے بھی اسلام اپنا لیا۔

امراؤ سالودیہ
Umrao Salodia
معلومات شخصیت
قومیت بھارتی
دیگر نام امراؤ خان، امراؤ سالودیہ خان، خان امراؤ سالودیہ
عملی زندگی
پیشہ سابق آئی اے ایس افسر، سابق ڈائریکٹر جنرل، جواہر کلا کیندرا کیندر، سابق صدر نشین، راجستھان اسٹیٹ ٹرانسپورٹ کارپوریشن،
دور فعالیت 31 مارچ، 2016ء کو بطور سابق صدر نشین، راجستھان اسٹیٹ ٹرانسپورٹ کارپوریشن سے اپنے عہدے سے احتجاجًا استعفا۔
وجہ شہرت اپنے عہدے سے دلت ہونے کی وجہ سے ناانصافی کا شکار بتاتے ہوئے احتجاجًا استعفا دینے اور اسلام قبول کرنے کے لیے یہ کافی مقبول ہوئے۔


2019ء کے لوک سبھا انتخابات

ترمیم

امراؤ سالودیہ 2019ء کے بھارت میں منعقد ہونے والے لوک سبھا انتخابات میں ایک بار پھر سرخیوں میں آ گئے۔ اس کی وجہ وہ اخباری سرخیاں رہی ہیں جن کے مطابق انھوں نے انتخابی امیدواری کے لیے ایک بار پھر اپنے دیرینہ مذہب کا دامن پھر سے تھاما۔ یہی سرخیاں سماجی میڈیا کا بھی حصہ بنی۔ تاہم معاملے کا بغور جائزہ لینے سے پتہ چلتا ہے کہ اگر چیکہ امراؤ سالودیہ بر سر عام خود کا تعارف امراؤ خان کے طور پر کرتے آئے ہیں، تاہم ان کے مطابق انھوں نے نام کی تبدیلی کے لیے سرکاری گزٹ اعلامیے کی درخواست طلب کی تھی۔ تاہم جب اجازت نہیں ملی تو انھیں اپنے پہلے والے نام سے ہی پرچہ نامزدگی داخل کرنا پڑا۔ امراؤ نے بہوجن سماج پارٹی کے ٹکٹ پر جے پور لوک سبھا حلقے سے اپنا پرچہ نامزدگی داخل کیا۔[2] [3]

2019ء کے انتخابات میں جے پور سے بی جے پی کے رام چرن بوہرا منتخب ہوئے۔ انھیں 92,4065 ووٹ حاصل ہوئے اور وہ فاتح ہو کر لوک سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔ اس کے بر عکس سالودیہ کو 7,867 ووٹ حاصل ہوئے اور وہ انتخاب ہار گئے۔ [4]

حوالہ جات

ترمیم
  1. https://www.indiatoday.in/india/rajasthan/story/rajasthan-ias-umrao-salodia-quits-converts-to-islam-279812-2015-12-31
  2. "अब बसपा से नामांकन करते हुए लिखा-हिन्दू"۔ 21 اپریل 2019 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 20 دسمبر 2021 
  3. "آرکائیو کاپی"۔ 24 اپریل 2019 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 24 اپریل 2019 
  4. "آرکائیو کاپی"۔ 30 مئی 2019 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 30 مئی 2019