انوراگ ٹھاکر (انگریزی: Anurag Thakur) (ولادت: 24 اکتوبر 1974ء) بھارت کی ریاست ہماچل پردیش کے حمیر پور لوک سبھا حلقہ سے لوک سبھا رکن ہیں اور وہ وزارت مالیات، حکومت ہند میں وزیر ریاست بھی ہیں۔ وہ سابق وزیر اعلیٰ ہماچل پردیش پریم کمار دھومل کے بیٹے ہیں۔ وہ پہلی دفعہ 2008ء میں ضمنی انتخابات میں لوک سبھا کے لیے منتخب ہوئے تھے۔ وہ بھارتیہ جنتا پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں۔[2] وہ چار مرتبہ رکن لوک سبھا رہ چکے ہیں۔ 2019ء میں انھیں سنسد رتن اعزاز سے نوازا جا چکا ہے۔

انوراگ ٹھاکر
تفصیل=
تفصیل=

وزیر اطلاعات و نشریات
آغاز منصب
7 جولائی 2021ء
وزیر اعظم نریندر مودی
پرکاش جاوڈیکر
 
وزیر برائے امور نوجوانان اور کھیل
آغاز منصب
7 جولائی 2021ء
وزیر اعظم نریندر مودی
کرن ریجیجو
 
وزارت مالیات، حکومت ہند
مدت منصب
31 مئی 2019ء – 7 جولائی 2021ء
وزیر اعظم نریندر مودی
وزیر نرملا سیتارمن
 
بھاگوت کراڈ
پنکج چودھری
رکن اسمبلی, لوک سبھا
آغاز منصب
25 مئی 2008ء
پریم کمار دھومل
 
ووٹ 3,99,572 (40.41%)
بورڈ آف کنٹرول فار کرکٹ ان انڈیا کے 33 ویں صدر
مدت منصب
22 مئی 2016ء – 2 جنوری 2017ء
ششانک منوہر
سی کے کھنہ
بھارتیہ جنتا یووا مورچہ
مدت منصب
2011 – 2016
امیت ٹھاکر
پونم مہاجن
معلومات شخصیت
پیدائش 24 اکتوبر 1974ء (50 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
حمیرپور، ہماچل پردیش   ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
رہائش سمیر پور, حمیرپور, ہماچل پردیش
شہریت بھارت [1]  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی [1]  ویکی ڈیٹا پر (P102) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ سیاست دان [1]،  کرکٹ کھلاڑی   ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان ہندی   ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کھیل کرکٹ   ویکی ڈیٹا پر (P641) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عسکری خدمات
وفاداری  بھارت
شاخ  Indian Army
یونٹ علاقائی فوج
ویب سائٹ
ویب سائٹ باضابطہ ویب سائٹ  ویکی ڈیٹا پر (P856) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

وہ مئی 2015ء تا فروری 2017ء بھارتی کرکٹ کنٹرول بورڈ کے صدر رہ چکے ہیں۔[3]

ابتدائی زندگی اور تعلیم ترمیم

ان کی ولادت 24 اکتوبر 1974ء کو حمیرپور، ہماچل پردیش میں ہوئی۔ان کے والد پریم کمار دھومل اور والدہ شیلا دیوی ہیں۔[4]۔

حوالہ جات ترمیم

  1. ^ ا ب پ https://eci.gov.in/files/category/97-general-election-2014/
  2. N. Kesavan (2017-01-02)۔ "The rise and fall of Anurag Thakur"۔ The Hindu (بزبان انگریزی)۔ ISSN 0971-751X۔ اخذ شدہ بتاریخ 24 ستمبر 2018 
  3. "Anurag Thakur, former BCCI president, apologises to Supreme Court"۔ hindustantimes.com (بزبان انگریزی)۔ 2017-03-06۔ اخذ شدہ بتاریخ 24 ستمبر 2018 
  4. Nora Chopra (20 نومبر 2011)۔ "Anurag or Varun for UP? BJP cannot make up its mind"۔ The Sunday Guardian۔ 27 اگست 2016 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 14 مئی 2014