مرکزی مینیو کھولیں

اسلامی جمہوریہ ایران کی زمینی فوج (فارسی: نیروی زمینی ارتش جمهوری اسلامی ایران)، اسلامی جمہوریہ ایران کی بری فوج ہے اور ایرانی مسلح افواج کی ایک شاخ ہے۔ ایران میں اسے ارتش بھی (فارسی=فوج) کہا جاتا ہے , 2007 کی رپورٹ کے مطابق باقاعدہ ایرانی فوج کی تعداد تقريبا 350,000تھی (220,000 کانسکرپٹ اور 130000 پیشہ ور) 350,000 ريزرو اور فوجیوں کی کل تعداد تقريبا 700000 تھی۔ کانسکرپٹوں کو 21 ماہ کے لیے خدمات انجام دینی ہوتی ہيں جس دوران پیشہ ور فوجی تربیت دی جاتی ہے۔ ایران نے ايک ساتھ دو متوازی زمینی افواج برقرار رکھی ہوئی ہيں : باقاعدہ ارتش (فوج) اور اسلامی انقلاب کی محافظ فوج جسے سیپاہ بھی کہا جاتا۔

اسلامی جمہوریہ ایران کی زمینی فوج
نیروی زمینی ارتش جمهوری اسلامی ایران
IRI.Army Ground Force Seal.svg
اسلامی جمہوریہ ایران کی زمینی فوج کا نشان
فعال 1923−اب تک
ملک Flag of Iran.svg ایران
حجم 350,000 حاضر سروس
350,000 ريزرو
حصہ ارتش
فوجی چھاؤنی /ایچ کیو تہران
نصب العین ايک سب ، سب ايک، سب ايران کے
برسیاں 18 اپریل
سازوسامان 3,000 ٹينک
1,550 بکتر بند لڑاکا گاڑياں
2,118 توپخانہ
365 خودکار توپخانہ
1,500+ ملٹپل راکٹ لانچر
260 ہيلی کاپٹر
80+ لڑاکا ہيلی کاپٹر
400+ بغير پائلٹ جہاز
معرکے
کمان دار
کمانڈر برگيڈيئر جنرل احمد رضا پوردستان

تاريخترميم

زمانہ قديمترميم

فارسی سلطنت کے قیام کے بعد سے ایک قومی فوج ایران میں موجود ہے۔ قومی فوج سلطنت کی طاقت رہی اور کمزوری کے اوقات میں فوج نے عارضی طور جنگجو اور کانسکرپٹ بھرتی کیے۔ سب سے پہلے کل وقتی فوجی اور شاہی باڈی گارڈز لافانی کہلائے جانے والے فوجی تھے، یہ 580 قبل مسیح میں سائرس اعظم کی طرف سے قائم کیے گئے۔ بعد ازاں ان کو ساسانيدسلطنت کے جونشاپور شہنشاہ (بادشاہوں کا بادشاہ) کی طرف ملک میں افراتفری کے باعث ایک مدت کے بعد تبدیل کر دیا گیا۔ ایران پر اسلامی حملے اور بالآخر اسلامی ایرانی سلطنتوں کے قيام کے بعد ایک نئی کل وقتی فوج صفوی سلطنت میں قزلباش کے نام سے قائم کی گئی۔ قاجر دور میں روایتی ایرانی فوج کو مغربی ماڈلز پر ڈھالنے کی کئی کوششیں کی گئيں۔ ان کوششوں کو محدود کامیابی ملی۔

پہلوی دورترميم

 
شاہی ایرانی زمینی فوج کا نشان

"1918 ء میں قاجر مسلح افواج چار، الگ الگ، غیر ملکی کمان شدہ فوجی یونٹوں پر مشتمل تھی۔ کئی صوبائی اور قبائلی افواج بھی ہنگامی صورت حال سے نپٹنے کيلئے بلائی جاتيں تھيں، لیکن ان کی وفاداری انتہائی مشکوک تھی۔ صوبائی اور قبائلی افواج حکومت کی ماتہتی کی کوششوں کی مخالفت کرتی تھيں , خاص طور پر تہران حکومت کو بیرونی طاقتوں کے ماتحت سمجھا جاتا تھا۔ غیر ملکی افسران کی ایرانی فوج پر کمان نے ان نے افواج کے شکوک ميں اضافہ کيا ."

"وفادار، کارروائی کيلئے تيار اور اچھی طرح تربیت یافتہ، سب سے زیادہ مؤثر حکومتی فوجی یونٹ 8000-آدمیيوں پر مشتمل فارسی کعثسکک بریگیڈ تھا۔ یہ 1879ء میں بنایا گيا تھا اور انقلاب اکتوبر 1917 ء تک روسی شاہی فوج کے افسران کی کمان ميں رہا۔ اس کے بعد اس کی کمان ایران کے ہاتھ میں آگئی اور بریگیڈ نئی ایرانی مسلح افواج کی نمائندگی کرنے لگا۔ سویڈش افسران نے 8,400 آدمیيوں پر مشتمل گينڈرميئر کمان کیا (بعد میں شاہی گينڈرميئر اور 1979 ء کے بعد اسلامی ایران گينڈرميئر)جو داخلی سیکورٹی فورس کے طور پر 1911 ء میں منظم کيا گيا۔ 6000 آدمیيوں پر مشتمل جنوبی فارس رائفلس برطانیہ کی طرف سے مالی امداد کے نتيجے ميں وجود ميں آئی اور 1916ء ميں اپنے قیام سے برطانوی افسروں کی کمان ميں رہی۔ اس کا بنیادی کام مبینہ طور پر جرمن ایجنٹوں کی طرف سے پہلی جنگ عظیم کے دوران ابھاری گئی قبائلی افواج کا مقابلہ کرنا تھا۔2000 آدمیيوں پر مشتمل ایک فورس قاجر محل گارڈ جو کے نظام کہلاتی تھی سویڈش آفیسر کی کمان ميں وجود ميں آئی تاہم یہ باہمی چپقلشوں کی سے وجہ تیزی سے تعداد میں کم ہوتی چلی گئی۔ لہٰذا، پہلی جنگ عظیم کے دوران، 24,400 فوجیوں پرمشتمل چار، علاحدہ، فوجی یونٹيں ایرانی تاریخ میں کمزور ترین افواج میں سے ایک ٹھريں " .

1925، ميں نئے پہلوی خاندان کے عروج کے بعد، شاہی ایرانی فوج حکومت کی ترجیح بن گئی۔ 1941 تک اس ميں 125000 فوجی تھے —اصل سائز کا پانچ گنا — اس کواچھی طرح تربیت یافتہ اور پُوری طرح سے لیس سمجھا جاتا تھا۔ تاہم فوج کی توجہ زيادہ تر اندرونی سیکورٹی کارروائیوں پر مرکوز تھی، فآرروک کے مطابق 'يہ ايک لڑاکا ،اچھی طرح کمان شدہ اور سوویت اور مغربی فوجی آلات سے لیس فوج تھی۔

1941 میں ایران پر سوویت یونین اور برطانوی حملے کا آغاز ہوا جو 25 اگست سے 17 ستمبر تک جاری رہا۔ لندن اور ماسکو کا اصرار تھا کہ شاہِ ایران جرمن لوگوں کی آبادی کے بڑے حصے کو ملک ِبدر کر دے اور ایران کے راستے سوویت یونین کو سامان جنگ کی ترسیل کرنے کی اجازت دے , دونوں مطالبات رضا شاہ پہلوی کے لیے ناقابل قبول تھے۔ اس کو جرمنی سے ہمدردی تھی اور ایران نے دوسری جنگ عظیم میں اپنی غیر جانبداری کا اعلان کيا تھا۔ ایران کامحل وقوع اتحادی جنگی کارروائیوں کے لیے ضروری تھا اس ليے لندن اور ماسکو نے تہران کی غیر جانبداری کی خلاف ورزی کرنے کا انتخاب کیا۔ "برطانوی پائی فورس" نے لیفٹیننٹ جنرل ایڈورڈ قنان کی کمان ایران پر جنوب کی طرف حملہ کيا۔ پائی فورس 8ويں اور 10ويں انڈین انفنٹری ڈویژن اور تین دیگر انفنٹری بریگیڈوں پرمشتمل تھی۔ دریں اثناء، سوویت یونین نے شمال سے حملہ کر دیا۔ سوویت یونین کی ٹرانس کہکيشين فرنٹ کی تین افواج، 44ويں، 47ويں اور 53ويں افواج نے جنرل دڈمٹری تيموفيوچ کوزلوف،کی کمان ميں ایران کے شمالی صوبوں پر قبضہ کر لیا۔ شاہی ایرانی فوج حملے کے جواب میں نو انفنٹری ڈویژن حرکت ميں لائی۔

اتحادی فوج کے خلاف فوج تین دن میں مغلوب ہو گئی جبکہ نوخیز شاہی ایرانی فضائیہ اور ایرانی شاہی بحریہ کو بھاری نقصان کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ ہزاروں کانسکرپٹ بگھوڑے ہو گئے۔ اپنے ادارتی پاور بیس برباد ہونے پر رضا شاہ پہلوی اپنے نوجوان بیٹے محمد رضا شاہ پہلوی کے حق میں دستبردار ہوگيا۔ پاور بیس اور فوج کی غیر موجودگی میں، محمد رضا شاہ پہلوی کو تعمیر نو کے ایک تقریبا ناممکن ٹاسک کا سامنا کرنا پڑا۔ ایران میں بڑی حد تک اس تصور کے پیش نظر فوج کے لیے کوئی مقبول ہمدردی تھی کہ اسے سفاکانہ اور آمرانہ حکومت کو برقرار رکھنے کے لیے کے ایک آلے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ نوجوان شاہ نے فوج کو یورپی اثر سے نکالنے کيلئے، 1942 میں تنظیم نو کی کوششوں میں مشورہ اور مدد مانگنے کے لیے ریاست ہائے متحدہ امریکا سے ایک فوجی مشن بھیجنے کے لیے درخواست کی۔ امریکی مشورے کے ساتھ ترجیح مقدار کی بجائے معیار پر رکھی گئی۔

امریکی تربیت کا نتیجہ یہ نکلا کہ ایرانی فوج چھوٹی لیکن زیادہ پر اعتماد فوج بن گئی جس نے کاميابی سے 1946 میں آذربائیجان میں ایک سوویت نواز، علیحدگی پسند بغاوت کو کچل ديا۔ ایران پر قبضے کے تین سال کے دوران سٹالن نے سوویت سیاسی اثر و رسوخ آذر بائیجان اور شمال مغربی ایران میں کرد علاقوں تک پھيلا ديا تھا۔ 12 دسمبر 1945 کو ہفتوں پرتشدد جھڑپوں کے بعد ایک سوویت حمایت یافتہ علیحدگی پسند تنظیم عوامی جمہوریہ آذربائیجان وجود ميں آئی۔ کُرد پیپلز ریپبلک بھی 1945ء میں قائم ہوئی۔ دوبارہ کنٹرول قائم کرنے کے لیے بھیجے گئے ایرانی فوج دستوں کا راستہ سوویت ریڈ آرمی یونٹوں کی طرف سے بلاک کر دیا گیا۔ 2 مارچ 1946میں دشمنی کے خاتمے کے چھ ماہ بعد انخلا کی ڈیڈ لائن پر انگریزوں نے واپسی شروع کر دی، لیکن ماسکو نے "سوویت یونین کی سلامتی کو لاحق سيکيورٹی خطرات کا حوالہ دے کر انکار کر دیا جس سے 1946 کے "ایران بحران" کا آغاز ہوا۔ سوویت فوجوں نے مئی 1946ء تک ایران سے انخلا نہیں کیا جس پر نو تشکیل یافتہ ایران نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو سرکاری شکایت درج کروائی۔ 1925 کے برعکس، 1946 میں ایرانی مجلس شاہ کے فوجی منصوبوں کے حوالے سے شکوک میں مبتلا تھی۔ بہت سے اراکین پارلیمنٹ کے خيال ميں فوج ایک بار پھر سیاسی قوت کے طور پر استعمال کی جائيگی۔ شاہ کے ممکنہ غلبے پر قابو پانے کے لیے انہوں نے ملک کا فوجی بجٹ محدود کرديا۔

"ملٹری بيلنس" (عالمی فوجی شمارياتی رسالہ) کے 1966-67 ایڈیشن سے 1969ء-70 تک کے ایڈیشن میں، انٹرنيشنل انسٹيٹيوٹ آف سٹريٹيجک سٹڈيز نے ایرانی فوج کے پاس ایک آرمرڈ ڈویژن، سات انفنٹری ڈویژن اور ایک آزاد آرمرڈ بریگیڈ درج کيا ہے۔ 1971ء-72 ایڈیشن کی میں، دو آرمرڈ ڈویژن، پانچ انفنٹری ڈویژن، ایک آزاد آرمرڈ بریگیڈ اور دیگر آزاد بریگیڈز شامل تھے۔ اس کے بعد دو سال کے اندر اندر، لسٹنگ کو تیزی سے تین آرمرڈ ڈویژن اور تین انفنٹری ڈویژن میں تبدیل کر دیا گیا۔ تین عشروں کی ڈرامائی اصلاحات اور مغربی رہنمائی ميں ایرانی فوج 1979ء میں دنيا کی پانچویں سب سے طاقتور فوج بن گئی۔ 1970ء کے عشرے ميں شاہی ایرانی زمینی فوج کی قوت میں تيزی سے اضافہ ہوا اس مدت کے دوران ایران نے "شاہی ایرانی فوجی ایوی ایشن" قائم کی جو مختلف اقسام کے امریکی ہيلی کاپٹروں سے لیس تھی۔

1970 کی دہائی کے اوائل میں اومان کے سلطان برطانوی حمایت کے ساتھ دہوفر بغاوت کيخلاف جنگ کر رہے تھے۔ سلطان قابوس کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں شاہ نے 1973ء میں سلطان کی مسلح افواج کی مدد کے لیے ایک بریگیڈ فوج اور ہیلی کاپٹروں کوبھیجا۔ ایرانی بریگیڈ نے سب سے پہلے سالالہ ٹہومرااٹ سڑک محفوظ بنائی۔ 1974ء میں ایرانی اعانت شاہی ایرانی ٹاسک فورس بننے کے ساتھ وسیع ہوئی۔ اس نے ایک اور دفاعی لائن،جس کا کا کوڈ نام "داماوانڈ رکھا گيا،مانسٹاون سے چند میل دور سارفااٹ کے مشرقی ساحل تک جنوبی یمن کی سرحد کے قریب قائم کرنے کی کوشش کی۔ بھاری باغی فائر جس میں جنوبی یمن کے اندر سے کيا جانيوالا توپ خانے کا فائر شامل تھا نے کئی ماہ تک يہ مقصد مکمل نہ ہونے ديا۔ آخرکار، رہکیوٹ کا قصبہ جو پی ايف ايل او نے بطور علاقائی دار الحکومت کنٹرول ميں رکھا ہوا تھا ايرانی فوج کے قبضے ميں چلا گيا۔ ایرانی ٹاسک فورس اومان میں دسمبر 1975 تک 3000 کی نفری کيساتھ موجود رہی۔ 1979ء تک فوج بڑے پیمانے پر خودکار اور بکتر بند ہو گئی تھی اور 285,000 فوجیوں پر مشتمل تھی۔ اس کو صدر دفتر تہران، جب کے جنوب میں شیراز اور کرمانشاه میں عراقی سرحد کے قریب تین کوروں میں منظم کیا گيا جبکے خلیج فارس کے مشرقی سرے چابھار کمپلیکس میں ایک اضافی چوتھی کور قائم کرنے کا منصوبہ بھی زيرِ غور تھا۔ فوج ميں مندرجہ ذیل اہم فارمیشنوں شامل تھيں :

  • تین آرمرڈ ڈویژن (واں 16، 92واں، 81واں) (ممکنہ طور پر 88واں آرمرڈ ڈویژن سيستان بلوچستان میں منظم کيا جانا تھا):ہر ایک کے ساتھ چھ ٹینک بٹالین اور پانچ بکتر بند انفنٹری بٹالین
  • تین انفنٹری ڈویژن (بشمول 28 واں انفنٹری ڈویژن اور 77واں انفنٹری ڈویژن)
  • دو شاہی ایرانی گارڈ کے ڈویژن
  • چار آزاد بریگیڈ (1آرمرڈ، 1 انفنٹری، 55واں چھاتہ بردار بریگیڈ اور 1 سپيشل فورسز بریگیڈ )
  • شاہی ایرانی فوج ایوی ایشن 200 ہیلی کاپٹروں اور طیاروں کے ساتھ۔ ان لڑاکا یونٹس ميں 85 فیصد آپریشنل حاضری تھی۔

اسلامی جمہوریہ ایرانترميم

 
فوجی پريڈ کرتے ہوئےايرانی فوجی

فوری طور پر 1979ء کے اسلامی انقلاب کے بعد فوج کے بے شمار مغربی تربیت یافتہ سینئر افسران کو سزائيں دينے اور ہٹائے جانے کا کا ایک سلسلہ شروع ہوا۔ آخری شاہی ایرانی فوج کے سربراہ جنرل غلام علی اويسی تھے، جنہيں پیرس میں اپنے بھائی کے ساتھ 1984 میں قتل کر دیا گیا تھا۔ انہيں جنرل گاريباگھی جو اسلامی جمہوریہ کے اتحادی تھے نے تبديل کيا اور شاہی ایرانی فوج کا نام بدل کر اسلامی جمہوریہ ایران فوج رکھ دیا گيا۔

ایرانی شاہی گارڈ کے دو ڈویژنوں کو ملا کر 21واں انفنٹری ڈویژن بنايا گيا۔ اس ہٹائے جانے کے سلسلے کی وجہ سے جب عراق کے حملے کے بعد ایران عراق جنگ شروع ہوئی تو فوج کی حالت نہايت غير تسلی بخش تھی ۔

ایران عراق جنگترميم

 
ايران عراق جنگ کے دوران اگلے مورچوں پے موجود ايرانی فوجی جوان

ایران عراق جنگ 1980ء سے 1988ء تک جاری رہی۔

جولائی 1985ء میں انٹرنيشنل انسٹيٹيوٹ آف سٹريٹيجک سٹڈيز نے ایرانی فوج کے تين ہیڈکوارٹرز کی شناخت کی جسميں پہلے ڈویژن کی سطح کے اوپر کوئی ہیڈکوارٹر موجود نہيں تھا۔ دیگر ذرائع کے مطابق ایرانی فوج کے تین فوجی ہیڈ کوارٹر 1ويں فوج (ہیڈکوارٹر کرمانشاه)، 2ويں فوج (ہیڈکوارٹر تہران) اور تیسری فوج (ہیڈکوارٹر شیراز) کے طور پر شناخت کيے گئے۔

1987ء میں ایران عراق جنگ کے خاتمے کے قريب ارتش ميں مندرجہ ذیل تبديلياں کی گئيں :

  • تین ميکنائيسڈ ڈویژن

جن میں سے ہر ایک ڈویژن تین آرمرڈ اور چھ ميکنائيسڈ بٹالینز پرمشتعمل اور 3 بریگیڈوں ميں تقسيم شدہ۔

  • سات انفنٹری ڈویژن (21واں، 64واں اور 77واں انفنٹری ڈویژن)
  • ایک ڈویژن پر مشتمل اسپیشل فورسز کے چار بریگیڈ
  • ایک چھاتہ بردار بریگیڈ (55واں چھاتہ بردار بریگیڈ)
  • ایک فضائی مدد کمانڈ

اور کچھ انفنٹری اور ایک ساحلی فورس پرمشتعمل آزاد بریگیڈز

جنگ کے بعدترميم

جنگ کے تجربات سے ڈھلے نئے کمانڈروں نے غیر ملکی فراہم کردہ آلات اور تربیت پر انحصار کم کرديا۔ جنگ کے بعد فوج کل راز داری کے تحت ایک ڈرامائی تنظیم نو سے گزری۔ ابھی تک انقلاب سے پہلے کی روايات کی حامل ارتش کی صلاحیت تیزی سے دوبارہ بڑھنا شروع ہو گئی۔ انٹرنيشنل انسٹيٹيوٹ آف سٹريٹيجک سٹڈيز کے مطابق 1992ء اور 1995ء کے درمیان کسی مقام پر ایک اضافی فوجی ہیڈ کوارٹر بنایا گیا۔ اس کے بعد 1997 وسط اور وسط-1999 کے درمیان لسٹنگ ميں تعداد کو چار کور کر دیا گیا۔

ايرانی زمینی فوج کے افسران اور جوانوں کے رينکترميم

ايرانی زمینی فوج کے کميشنڈ افسران کے رينک
جنرل ليفٹيننٹ جنرل ميجر جنرل برگيڈيئر جنرل سيکنڈ برگيڈيئر جنرل کرنل ليفٹيننٹ کرنل ميجر کيپٹن فرسٹ ليفٹيننٹ سيکنڈ ليفٹيننٹ تھرڈ ليفٹيننٹ
فارسی: ارتشبد فارسی: سپهبد فارسی: سرلشکر فارسی: سرتیپ فارسی: سرتیپ دوم فارسی: سرهنگ فارسی: سرهنگ دوم فارسی: سرگرد فارسی: سروان فارسی: ستوان یکم فارسی: ستوان دوم فارسی: ستوان سوم
ايرانی زمینی فوج کے جوانوں کے رينک
کمانڈ سارجنٹ ميجر سارجنٹ ميجر (سٹاف) سارجنٹ فرسٹ کلاس/فرسٹ سارجنٹ سٹاف سارجنٹ سارجنٹ کارپورل پرائيوٹ فرسٹ کلاس پرائيوٹ (ايی 2) پرائيوٹ
فارسی: استوار یکم فارسی: استوار دوم فارسی: گروهبان یکم فارسی: گروهبان دوم فارسی: گروهبان سوم فارسی: سرجوخه فارسی: سرباز یکم فارسی: سرباز دوم فارسی: سرباز

2006 اور 2008 ميں سٹيٹسترميم

جین کی 2006 کی رپورٹ کے مطابق فوج کو تین فوجی سطح ہیڈ کوارٹر کے ذریعے جو 15 ڈویژنوں پرمشتمل ہيں کے زريعے کمان کيا جاتا ہے۔ انٹرنيشنل انسٹيٹيوٹ آف سٹريٹيجک سٹڈيز کے 2008ء کے ملٹری بيلنس کے ايڈيشن کے مطابق فوج میں 12 کور لیول علاقائی ہیڈکوارٹر، کچھ آزاد بریگیڈ ،پانچ آرمرڈ ڈویژن، اسپیشل فورسز بریگیڈ، اِس کے علاوہ ایک چھاتہ بردار بریگیڈ کے ساتھ دو کمانڈو ڈویژن ہيں۔ آرٹلری کے چھ گروپ اور ایوی ایشن بھی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ڈویژنوں کی تعداد کچھ سالوں سے تبدیل نہیں ہوئی۔ اکثر قابلِ ذکر فارمیشنوں میں 1993-94 کے درميان قائم ہونيوالا 23واں اسپیشل فورسز ڈویژن اور 55واں چھاتہ بردار ڈویژن شامل ہیں۔ جین کے سينٹينل سیکورٹی جائزے کی رپورٹ کے مطابق 23واں اسپیشل فورسز ڈویژن ایرانی فوج کی سب سے زیادہ پیشہ ور فارمیشنوں ميں سے ايک ہے اور اس کے تمام کے تمام 5000 اہلکار پیشہ ور فوجی ہيں۔ باقاعدہ آرمرڈ ڈویژن بشمول 92واں آرمرڈ ڈویژن، تین بریگیڈز میں ذیلی طور پر منقسم ہیں۔ گلوبل سيکيورٹی ويب سائٹ کا اپنے صفحہے پر ایرانی فوج کے حوالے سے کہنا ہے کہ:

  • ساخت، جنگی ترتیب اور یونٹوں کے حوالے سے ایرانی افواج کے بارے ميں موجود معلومات ميں بہت تضاد ہے۔ یہ واضح نہیں ہيں۔ ڈویژنوں کو بعض اوقات برگيڈوں سے کنفيوز کرديا جاتا ہے، يونٹوں کی اکثر معلومات پرانی ہونے کے بعد شائع کی جاتی ہيں . ایران عراق جنگ کے دوران کچھ بریگیڈز نئے ڈویژن بنے جو ہو سکتا ہے جنگ کے اختتام کے بعد اپنی پرانی حیثیت ميں واپس ہو گئے ہوں۔
  • تاہم فوج کے پاس آزاد بریگیڈز اور گروپوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے ان چھوٹی آزاد فارمیشنوں کی تعداد اور سائز پر کوئی قابل اعتماد ڈیٹا موجود نہيں ہے۔ ان میں ایک لاجسٹکس بریگیڈ، ایک انفنٹری بریگیڈ، ایک چھاتہ بردار بریگیڈ، اسپیشل فورسز (تکاور) بریگیڈز اور پانچ آرٹلری بریگیڈ/رجمنٹيں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ساحلی ڈیفنس یونٹ، ایئر ڈیفنس کے گروپوں سميت چار سے چھ آرمی ایوی ایشن یونٹس اور ایک بڑھتی ہوئی تعداد میں لاجسٹکس اور سپلائی فارمیشنيں بھی موجود ہيں۔
  • اس کے علاوہ اور بھی ابہام شدہ رپورٹيں موجود ہيں۔ بعض ذرائع کا دعوی ہے کہ ایران عراق جنگ کے بعد باقاعدہ فوج میں ہلکی ايئر موبائل گروپ فارمیشنيں بھی تخلیق کی گئيں ہيں۔ ان ميں 29واں اسپیشل فورسز ڈویژن جو 1993-1994 میں قائم کیا گیا اور 55واں چھاتہ بردار ڈویژن شامل ہيں۔ دیگر ذرائع کا دعوی ہے کہ سپاہ پاسدارانِ انقلاب اور ايرانی زمینی فوج کی کمانڈو فورسز 30000 فوجیوں کی ایک مشترکہ کور کا حصہ ہیں جن کے پاس مربوط ہیلی کاپٹر لفٹ کے ساتھ ساتھ ہوائی حملے کی صلاحیتوں ہیں۔ چھاتہ بردار اور اسپیشل فورسز کے ان فوجیوں کی شیراز میں ایک ساتھ تربیت ہوتی ہے۔

ایرانی فوج کے زیادہ تر فوجی اچھی طرح تربیت یافتہ اور پر عزم ہیں، لیکن ان کا سامان پرانا یا متروک ہے۔ زیادہ تر پرانا مغربی طرز کا سامان یا مقامی طور پر تیار کردہ کم معیار کا نيا ساز و سامان ان کے استعمال ميں ہے۔ کمانڈر عام طور پر فوجيوں کو فوجی صلاحیتوں کی بجائے وفاداری کی بنیاد پر اعلی سطحی عہدوں پر مقرر کر تے ہيں۔ 2010 میں ایرانی فوج تامان الایمی جنرل (طرح جامع ساختاری ثامن الائمه) منصوبہ بندی کے تنظيمی مرحلے سے گزری ہے اس کی منصوبہ بندی ميں ڈویژن مرکز ماڈل سے ایک بریگیڈ کے مرکز ماڈل، ایک فوجی اڈے کی دوبارہ پوزیشن، نئے یونٹس اور موجودہ فوجی یونٹوں ميں اضافہ اور فوجی یونٹوں کی نقل و حرکت شامل ہیں۔ ايسے موجودہ ڈویژنوں سے کچھ بریگیڈز الگ کر کے نئے بریگیڈز قائم کيے گئے۔ 31 مارچ 2012 تک فوج بھر میں 31 نئے آزاد بریگیڈ قائم کيے گئے ہيں۔ بری فوج کے کمانڈر برگيڈيئر جنرل احمد رضا پوردستان ہيں۔

سامانِ حرب وضربترميم

 
ایرانی ساختہ ذوالفقار ٹينک

ایک اندازے کے مطابق ایران کے اہم جنگی ٹینکوں میں شامل ~ 1500 یا ممکنہ طور پر زیادہ مقامی ذو الفقار مين بيٹل ٹينک، 480 ٹی-72, 150 1يم60 اے ٹينک، 75 ٹی-62 ٹينک، 100 چيفٹن مارک 3/مارک 5 مين بيٹل ٹينک، ٹی-54/ٹی-55/ٹائپ-59 اور 150 1يم-47/1يم-48 ٹينک ہيں - ذو الفقار نامی جنگی ٹينک ایران کی دفاعی صنعت کی حالیہ پيداوار ہے اور اس کا نام حضرت علی علیہ السلام کی دو دھاری تلوار کے نام پے رکھا گيا۔ يہ ٹينک بری فوج کے نائب کمانڈر بریگیڈئیر جنرل میر یونس معصومزادہ کی تحقیق کے نتيجہے ميں امریکی 1يم-60 ٹینک کے اہم اجزاء سے تیار کیا گیا ہے۔ ٹینک کو 1993ء میں ٹیسٹ کیا گیا ہے۔ مزيد چھہ ٹينک ٹيسٹ کيلئے 1997 ميں بنائے گئے۔ انٹرنيشنل انسٹيٹيوٹ آف سٹريٹيجک سٹڈيز کا تخمینہ ہے کہ تقریباً 150 ذو الفقار 1 ٹينک ایران کی بری فوج کے زيرِ استعمال ہيں۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے اہم حملہ آور ہیلی کاپٹروں ميں سے ايک "1ے ايچ-1 جے سی کوبرا" ہے انٹرنيشنل انسٹيٹيوٹ آف سٹريٹيجک سٹڈيز کے 2009 میں لگائے گئے اندازے کے مطابق ان کی تعداد 50 کے قريب ہے۔ يہ اگرچہ 202 کی تعداد میں ایران کو 1979 کے ایرانی انقلاب سے پہلے دیے گئے تھے۔ ایران ایک نامعلوم تعداد میں پناخا 2091، جو 1ے ايچ-1 کی بغير لائسنس مقامی طور پر تيار کی گئی قسم ہے بھی استعمال کرتا ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی بری فوج کے اہم ٹرانسپورٹ ہیلی کاپٹر سی ايچ-47 سی چنوک ہيں۔ اگرچہ 57 1979 کے ایرانی انقلاب سے پہلے دیے گئے سی ايچ-47 سی چنوک ميں سے 20 قابلِ استعمال ہيں۔ بری فوج نے ان میں سے ایک کو 2011 میں حادثے ميں کھو دیا۔

مزيد ديکھیےترميم