وہ مذہب جس کابانی سید علی محمد باب شیرازی تھا۔ اس مذہب کے ماننے والے بابی کہلاتے ہیں۔ مگر وہ خود اپنے آپ کو اہل بیان کہتے ہیں۔ یہ لوگ قرآن حکیم اور احادیث کی بعض بنیادی باتوں سے اختلاف رکھتے ہیں اور نظریہ الہام کے منکر ہیں۔ اس مذہب کی اشاعت کی اہل تشیع نے سخت مخالفت کی اور بابیوں کے ساتھ سختی کا برتاؤ کیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ انھوں نے ایک سیاسی جماعت کی شکل اختیار کر لی۔ ان کا ایک داعی ملا حسین بشروئی ہار فروش میں شیخ طبری کی درگاہ کو جائے پناہ بنا کر قلعہ بند ہو گیا۔ اس نے شہر زنجان اور قلعے پر بھی قبضہ کر لیا لیکن دونوں جگہ شکست کھائی۔ ناصر الدین قاچار شاہ ایران سے بھی ان لوگوں کا تصادم ہوا جس کے بعد ان پر بہت سختی ہوئی اور وہ ترک وطن کرکے عراق اور روس کے علاقے میں آباد ہو گئے۔ باب کے خلیفہ بہاء اللہ اور صبح ازل کے اختلاف نے ان میں دو فرقے پیدا کر دیے۔ ازلی اور بہائی۔ ازلی بہت کم تعداد میں ہیں لیکن بہا اللہ کے ماننے والے جو اپنے آپ کو بہائی کہتے ہیں، تمام دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں اور انھوں نے یورپ اور امریکا میں تبلیغ کرکے بہت سے لوگوں کو اپنا ہم عقیدہ بنا لیا ہے۔

بابیت
شیراز میں واقع بیت الباب جو تین مذاہب (بابیت، ازلیت اور بہائیت) میں مقدس مقام ہے۔
شیراز میں واقع بیت الباب جو تین مذاہب (بابیت، ازلیت اور بہائیت) میں مقدس مقام ہے۔
شیراز میں واقع بیت الباب جو تین مذاہب (بابیت، ازلیت اور بہائیت) میں مقدس مقام ہے۔

بانی سید علی محمد باب
مقام ابتدا شیراز  ایران
تاریخ ابتدا انیسویں صدی۔
مقدس مقامات بیت الباب، شیراز،  ایران
قریبی عقائد والے مذاہب اسلام، یہودیت، مسیحیت، مندائیت، سکھ مت، زرتشتیت، بہائیت۔
مذہبی خاندان توحیدی مذاہب۔
دنیا میں  عراق قبرص ایران آسٹریلیا میں اقلیت
اور دیگر ممالک میں

مزید دیکھیے

ترمیم