برہما یا براہما (Brahma) ہندو مت کی تری مورتی کا پہلا جزو ہے اور خدا کی تخلیقی صفات سے معنون ہے۔ ہندو فلسفے کے مطابق کائنات اور انسانی زندگی پر تین طاقتیں حاوی ہیں۔ جن کا تعلق تخلیق، الوہیت اور موت سے ہے۔ ہندو خدا کی وحدت کو تین حصوں میں منقسم کرکے اس طرح مشخص مانتے ہیں۔ اول برہما یعنی کائنات کا پیدا کرنے والا۔ دوسرا وشنو یعنی پرورش کرنے والا۔ تیسرا شو یعنی موت دینے والا۔ ہندو صرف وشنو اور شو کی پوجا کرتے ہیں۔ گپتا عہد سے برہما کی پرستش کم ہونے لگی، اس کی وجہ یہ ہے کہ ہندومت کے عقائد کے مطابق براہما نے کائنات تخلیق کی اور پھر اس کا کام ختم ہو گیا اور اب وہ متحرک نہیں ہے اس لیے اس کی پرستش کرنے کی اب ضرورت نہیں۔ اب ہندوؤں میں شاید ہی کوئی برہما کی پوجا کرتا ہو۔ ہندو مت کے نزدیک وشنو اس دنیا میں اوتار کی حیثیت سے دس مرتبہ ظاہر ہوا۔ ساتویں موقع پر رام اور آٹھویں مرتبہ کرشن کے نام سے۔ برہما پیدائش کے لیے مستعمل لفظ سے مشتق

  • برہما ’ غیر شخصی ‘ کائنات کا وہ اعلیٰ ترین اور ناقابل اصول ہے جس کی رو سے ہر چیز کا ظہور ہوا اور جس میں سب کچھ واپس لوٹ جاتا ہے۔ اس کا کوئی
برہما
حاکم مطلق
تخلیق، دھرم و موکش کا دیوتا
برہما پہاڑی آرٹ میں
دیوناگریब्रह्मा
سنسکرت نقل حرفیBrahmā
منتراوم برہمائیا نماہ
سواریہنس
تہوارکارتک پورنیما، شریواری برہماتسووم
ذاتی معلومات

جسم نہیں، غیر مادی اور ابدی ہے۔ اس کا کبھی آغاز نہیں ہوا اور نہ کبھی انجام ہوگا۔ مادہ اور شعور ہر دو کا جوہر اسی سے اٹھتا ہے۔ مسبب الاسباب اور کائنات کا پس منظر ہے۔ ’ برہما کبھی آرام نہیں کرتا غیر متعیر ہے ‘ کبھی غیر موجود نہیں ہوتا ہے، اگرچہ اس کا مقام وجود نہیں بتایا جا سکتا ہے ‘۔ شعور اور روح کے بنیادی کائناتی سرچشمہ ہونے کے باعث برہما بنیادی یا کائناتی ذات ہے جو فرد کے روحانی باطن کا سورج بن سکتا ہے۔ چنانچہ کائنات سے لے کر ایٹم تک ہر شے یا وجود کی ذات کا اصل جوہر خود برہما ہے ۔ ( تذکیر و تانیث سے ماورا) ’ محیط کل بالذات قوت ‘۔ برہما کے مصدر برہما ’ برہ ‘ کا لغوی مطلب ’ افزائش یا نشو و نما ‘ ہے۔ اگرچہ رگ وید میں پروہت کے لے ے مستمل براہمن مذکر استعمال ہوا ہے۔ لیکن برہما نہ مذکر اور نہ لاصنف کے طور پر مذکور ہے۔ بعد کے ادب میں برہما کائناتی وحدت کے مساوی قرار پایا۔ برہما کے متعلق تصور کی جڑیں بھی نامعلوم زمانوں سے چلے آنے والے مسئلے سے ہے کہ انسان کا اپنے گرد و پیش اور پھر اور بالائے ارضی کائنات سے کیا تعلق ہے ۔

  • کائناتی وحدت کے تصور کی تشکیل کو واضح اور ادوار میں بانٹا جا سکتا ہے۔ پہلے ویدی دور کا تعلق برہما کی اس تعبیر سے ہے جو اپنشد میں ملتی ہے۔ جب کہ دوسرے دور کا تعلق ویدانت کے تشکیلی دور سے ہے۔ پہلے دور کا آغاز اوئل ویدک عہد سسے ہوا جب فطرت کی بالائے فم قوتوں کا مقابلہ کرنے کی غرض سے مساوی قوت کا جادو پیدا کیا جا رہا تھا ۔
  • جس طرح ہندوؤں کی مذہبی زندگی وحدت کے تصور نے نفوذ کیا، بالکل وہی اثر برہما کے متعلق آتما پر ماتما کے تصور پر ہوا۔ وشنو اور شیو کی دو الگ

معبوتوں کے حوالوں سے تفریق کم ہونے لگی ار وہ ایشور یعنی عالم کل کے مالک کی صورت میں متحد ہو گئے ۔[1]

مزید دیکھیے

ترمیم

حوالہ جات

ترمیم
  1. منو دھرم شاشتر۔ گلوسری ( کشاف اصطلاحات ٰ) ترجمہ ارشد رازی