رام، ہندو دیوتاؤں میں سے سب سے زیادہ پوجا کیے جانے والا دیوتا ہے جس کو سچائی اور بہادری کا مجسمہ مانا جاتا ہے۔ہندوروایات میں تین راموں کا تذکرہ ملتا ہے پرشورام، بلارام اور رام چندر۔ ان کا نام خاص طور پر رام چندر سے منسوب کیا جاتا ہے جو وشنو کا ساتواں اوتار ہے ۔[2] ہندوؤں کی مقدس کتاب رامائن کے مطابق شمالی ہند کی ایک ریاست اجودھیا (اودھ) پر سوریہ ونش خاندان کا ایک اکشتری راجا دشرتھ راج کرتا ۔ اس کی تین بیویاں تھیں اور چار بیٹے جن میں سے دو جڑواں تھے ؛ رام چندر، لکشمن، شتروگھن اور بھرت تھے۔ رام چندر جی اپنی شہ زوری، دلیری اور نیک دلی کے سبب رعایا عوام میں بہت ہر دل عزیز تھے۔ ان کی شادی متھلا پوری (موجودہ جنک پور موجودہ نیپال) کے راجا جنک کی بیٹی سیتا سے ہوئی تھی۔ راجا دسرتھ کی چھوٹی رانی کیکئی نے کسی جنگ میں راجا کی جان بچائی تھی جس پر راجا نے وعدہ کیا تھا کہ اس کے بدلے میں وہ اس کی ایک خواہش پوری کرے گا۔

رام
राम
ملحقہوشنو کا ساتواں اوتار
مسکناجودھیا اور سنتانک
متونرامائن
تہواررام نوامی، ویوا پنچہمی، دیوالی، دشہرہ
ذاتی معلومات
شریک حیاتسیتا[1]
والدین

راجا دشرتھ نے رام چندر کو اپناجانشین بنانے کا ارادہ ظاہر کیا اور ولی عہد بنانا چاہا۔ لیکن کیکیئی نے اسے اپنا عہد یا دلایا کہ وہ اس لڑکے بھرت کو اپنا ولی عہد نامزد کرے۔ اور رام چندر جی کو چودہ برس کا بن باس دے دیا جائے۔ راجا نے رام چندر جی کو کیکئی کی خواہش اور اپنے عہد سے آگاہ کیا تو سعادت مند اور وفا کیش بیٹے نے سر تسلیم خم کر دیا اور جنوبی ہند کے جنگلوں میں چلا گیا۔ اس برے وقت میں اس کی بیوی سیتا اور بھائی لکشمن نے اس کا ساتھ دیا۔

ایک دن لنکا کے راجا، راون کا اس جنگل سے گزر ہوا اور سیتا کو اٹھا کر لے گیا۔ رام چندر نے بندروں کے راجا سکریو کی فوج جس کا سپہ سالار ہنومان تھا کی مدد سے لنکا پر چرھائی کی اور راون کو ہلاک کرکے سیتا کو رہا کرایا۔ دشہرا کا تہوار اسی فتح کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ اس عرصے میں 14 سال پورے ہو گئے تھے۔

سیتا کو بچانے کے بعد رام نے اس سے یہ کہا:[3]

میں نے تمہیں ایک انعام کے تور حاصل کیا ہے اپنے دشمن اور تمہارے گرفتگار کو جنگ میں ہرا کر۔ میں نے اپنی عزت کو پھر حاصل کر لیا اور اپنے دشمن کو سزا دے دی۔ لوگوں نے میری طاقت کو دیکھ لیا اور میں خوش ہوں کہ مجھے اپنی محنت کا پھل مل گیا۔ میں یہاں راون کو قتل کرنے آیا تھا اور اپنی بےعزتی کو مٹانے کے لیے۔ یہ محنت تمہارے خاطر نہیں کی۔

رام پھر سے کہتا ہے:

مجھے تمہاری عزت پر شک ہے۔ راون نے تمہارے ساتھ زنا ضرور کیا ہو گا۔ تمہاری شکل دیکھنے ہی سے میری اب طبیعت خراب ہوتی ہے۔ جاناکا کی بیٹی، میں تجھے اجازت دیتا ہوں جہاں جانا چاہتی ہے اب جا۔ میں خوش ہوں میں نے تمہیں حاصل کر لیا ہے کیونکہ یہ ہی میرا ارادہ تھا۔ میں سوچ نہیں سکتا کہ راون نے تمہاری جیسے خوبصورت عورت سے زنا نہ کیا ہو۔

رام چندر جی سیتا اور لکشمن کے ہمراہ ایودھیا واپس آ گئے۔ جہاں ان کا سوتیلا لیکن نیک نہاد بھائی بھرت ان کے کھڑاویں تخت پر رکھ کر ان کے نام سے راج کر رہا تھا۔ ان کی آمد کی خوشی میں گھر گھر چراغاں کیا گیا۔ دیپاولی کا تہوار اسی واقعے کی یادگار ہے۔ ہندو، رام چندر کو وشنو بھگوان کا ساتواں اوتار مانتے ہیں۔ محقیقین تا حال ان کے زمانے کا تعین نہیں کر سکے۔

پیدائشترميم

رام کی پیدائش کی یہ کہانی ہے کہ اس کے باپ نے ایک دانشمند شرنگ کے نام سے اس کی تین بیویوں پر پترشتی یاجنا کرنے کا حکم دیا تاکہ وہ حاملہ بھری ہو جائیں۔ رام وشنو کی ایک آواز تھی۔ جب برہما کو اس کی پیدائش کی خبر ملی تو اس نے سوچا کے اس کے لیے دنیا میں کوئی موزوں ہم دوست نہیں ہیں۔ تو اس نے دیواتوں کو حکم دیا کہ رنڈیوں، اپساروں، یاکشائوں اور ناگائوں کی غیر شادی شدہ بیٹیوں، روکھساوں، ودھیادھروں، گندھارواں، کیناروں اور ونارثوں کی بیویوں سے زنا کریں تاکہ ونارث پیدا ہوئیں جو رام کے ہم دوست ہونے کے قابل ہوں ہوں۔[4]

خاندانترميم

رام کی بہن کا نام سیتا تھا۔ رام نے اس سے ہی بعد میں شادی کی اور بچے پاے۔[5] یہ شادی آریا کے شادی کی رسموں کے مطابق ہے۔ رام کثیر الازواج تھا۔ اس کے پاس اپنی بےشمار بیویوں کے علاوہ بہ ذات عورتیں بھی تھیں۔[6]

مزید دیکھیےترميم

حوالہ جاتترميم

  1. ^ ا ب پ James G. Lochtefeld 2002، صفحہ 555.
  2. augustyn، adam (feb 7, 2020). "Rama". encyclopaedia britanncia. encyclopaedia britanncia. اخذ شدہ بتاریخ https://www.britannica.com/topic/Rama-Hindu-deity. 
  3. Yudhakanda Sarga II5 slokas 1-23.
  4. Ambedkar, B. R., and Vasant Moon. Dr. Babasaheb Ambedkar: writings and speeches. New Delhi: Dr. Ambedkar Foundation, 2014. p.323-325
  5. Fausbøll, V. 1871. The Dasaratha-Jataka: Being the Buddhist story of King Rama. The original Pali text with a translation and notes by V. Fausbøll. Kopenhagen: Hagerup. p.13) https://archive.org/details/dasarathajatakab00fausuoft.
  6. Ayodhyakanda Sarga VIII sloka 12