بسون ((کنڑا: ಬಸವಣ್ಣ)‏) ایک لنگایت فلسفی، سیاسی لیڈر، کنڑا زبان کے شاعر اور ہندوستان کے سماجی مصلح تھے۔[2][3][4]

بسو
 

معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1134ء   ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بساونا باگیواڑی   ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات سنہ 1196ء (61–62 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کدال سنگم   ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
رہائش کرناٹک   ویکی ڈیٹا پر (P551) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مذہب لنگایت دھرم [1]  ویکی ڈیٹا پر (P140) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ شاعر ،  فلسفی ،  ریاست کار ،  مذہبی رہنما   ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

بسون نے اپنی شاعری جسے ”وچن“ کہا جاتا ہے، سے سماجی بیداری پھیلائی۔ بسون نے جنسی یا سماجی امتیاز، توہمات اور رسوم جیسے کہ مقدس دھاگا باندھنے کو رد کیا،[5] لیکن اشٹ لنگ نامی ہار متعارف کیا جس پر شیو لنگ کی تصویر بنی تھی۔[6]

وہ ہندومت میں رائج رسوم اور تہواروں کے شدید مخالف تھے۔ وہ خدا کی واحدنیت کے قائل اور بت پرستی و کثرت پرستی کے کٹر حریف تھے۔

حوالہ جات

ترمیم
  1. https://www.encyclopedia.com/religion/dictionaries-thesauruses-pictures-and-press-releases/basava
  2. Basava Encyclopædia Britannica (2012), Quote: "Basava, (flourished 12th century, South India), Lingayat religious reformer, teacher, theologian, and administrator of the royal treasury of the Kalachuri-dynasty king Bijjala I (reigned 1156–67)."
  3. A. K. Ramanujan (1973)۔ Speaking of Śiva۔ Penguin۔ صفحہ: 175–177۔ ISBN 978-0-14-044270-0۔ 25 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 15 اپریل 2018 
  4. Gene Roghair (2014)۔ Siva's Warriors: The Basava Purana of Palkuriki Somanatha۔ Princeton University Press۔ صفحہ: 11–14۔ ISBN 978-1-4008-6090-6 
  5. Carl Olson (2007), The Many Colors of Hinduism: A Thematic-historical Introduction, Rutgers University Press, آئی ایس بی این 978-0813540689, pages 239–240
  6. Fredrick Bunce (2010), Hindu deities, demi-gods, godlings, demons, and heroes, آئی ایس بی این 9788124601457, page 983