مرکزی مینیو کھولیں

بلوچستان نیشنل پارٹی (عوامی)

بلوچستان نیشنل پارٹی (عوامی) بلوچستان، پاکستان کی ایک سیاسی جماعت ہے۔[1][2] اسرار اللہ زہری جماعت کے صدر ہیں۔

بلوچستان نیشنل پارٹی (عوامی)
مخفف بی این پی(ع)
سینیٹ
0 / 104
قومی اسمبلی
0 / 342
بلوچستان اسمبلی
1 / 65
سیاست پاکستان

بی این پی عوامی بلوچستان کی قوم پرست سیاسی جماعت ہے

تاریخترميم

بلوچستان نیشنل پارٹی 1998ء میں دو گروپوں میں تقسیم ہو گئی ۔میر اسرار اللہ زہری کی قیادت میں نئے گروپ نے بی این پی (عوامی) کے نام سے کام کرنا شروع کر دیا۔ بلوچستان کے بلوچ علاقوں خصوصاً مکران ڈویژن میں اثر ورسوخ رکھتی ہے۔ 2002ءکے انتخابات میں مکران ڈویژن سے بلوچستان اسمبلی کی کئی نشستوں پر کامیابی حاصل کی اور پرویز مشرف کے دور میں بلوچستان کی مخلوط حکومت کا حصہ رہی ۔2008ءکے انتخابات میں صوبائی اسمبلی کی 7نشستوں پر کامیابی حاصل کی اور دوبارہ حکومت کا حصہ بنی۔ بی این پی کے سینٹ میں بھی دواراکین ہیں۔

قیادتترميم

بی این پی عوامی کے صدر وفاقی وزیر ڈاک میر اسرار اللہ زہری اور جنرل سیکرٹری صوبائی وزیر زراعت اسد بلوچ ہیں۔

موقفترميم

یہ پارٹی وفاق اور صوبے میں حکومت کا حصہ ہے۔ پاکستان کے اندر رہتے ہوئے مکمل صوبائی خود مختاری کی حامی ہے اور قرارداد پاکستان اور1973ءکے آئین کے مطابق حق حاکمیت اور اختیارات چاہتی ہے۔ 26اگست 2006ءکو نواب اکبر بگٹی کے قتل اور 9اپریل2009ءکو تحصیل تربت میں تین بلوچ قوم پرست رہنماﺅں غلام محمد بلوچ، لالہ منیر اور شیر محمد بلوچ کے قتل کے بعد غیر جانبدارانہ تحقیقات نہ ہونے کی صورت میں مستعفی ہونے کا اعلان کیا لیکن ان دونوں مواقع پر کیے گئے اعلانات پر عملدرآمد نہیں ہوا۔

حوالہ جاتترميم

  1. Irfan Ghauri (24 ستمبر 2016)۔ "After deadline: Defiant parties risk by-poll race ouster"۔ دی ایکسپریس ٹریبیون۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 24 ستمبر 2016۔
  2. "Balochistan National Party"۔ 16 اپریل 2013۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 24 ستمبر 2016۔