دنیا بھر میں معصوم بچے جن کے ہاتھوں میں عمر کے موڑ کے حساب سے اسکول کا بیاگ ہونا تھا، جدید دور میں کئی مقامات پر بلڈنگ کی تعمیر میں اینٹ اٹھاکر لے جا رہے ہیں، کوئی پنکچر کی دکان میں کام کر رہا ہے، کوئی ہوٹلوں میں جھوٹے برتن دھونے اور جھاڑو پوچا صاف کرتے ہوئے کئی معصوم ہر علاقے میں نظر آتے ہیں۔ اس کے پیچھے غربت اور خاندان کی معاشی بد حالی، خاندان سے دوری اور وقتیہ طور یہ ایک خواہش کے ساتھ محنت شاقہ ہوتی ہے کہ جب شام کو یہ بچے گھر یا اپنے ٹھکانے جائیں تو اس کی ماں کو اپنی کمائی حوالہ کرے اور ماں کا سہارا بنے یا پھر اپنی ہی روز مرہ کی ضرورتوں کی کفالت کرے۔ ایسے موقعوں پر مزدوری سے متعلق محکمے کے عہدے دار بہت ہی کم قوانین کی روشنی میں اپنے فرائض کی تکمیل کرتے ہوئے بچہ کو گھر لوٹ جانے کی ترغیب دیکر مالکین پر قانونی کارروائی کرتے ہیں،[1] جس سے یہ مسئلہ اپنی سنگینی میں دہا در دہا بر قرار رہتا ہے۔

بھارت کی سڑکوں پر بندر کا تماشا دکھانے والا ایک بچہ وہی کام ایک چلتی ہوئی ٹرین میں کر رہا ہے۔

بھارت میں بچہ مزدوری

ترمیم

بھارت میں بچہ مزدوری عام ہے۔ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ عمر بچے پٹاخوں کی فیکٹری اور کوئلے کی کانوں میں کام کرتے ہیں جو ان کے لیے جان لیوا یا خطرناک ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ بھی سڑک پر جوتا پالش، سڑک پر سامان کی فروخت، دکانوں اور گھروں میں مدد گاروں کے کام وغیرہ کی شکل میں بچوں کا دکھنا ہے، حالانکہ بھارت میں بچہ مزدوری کے خلاف کڑے قانون ہیں۔

اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف نے بھارتی پارلیمان میں منظور ہونے والے 2016ء کے بچہ مزدوری ترمیمی بل کے سلسلے میں تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے خاندانی کام کو قانونی حیثیت مل سکتی ہے اور غریب خاندانوں کے بچوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اقوام متحدہ نے بچوں کی حفاظت کے لیے ایک مضبوط مسودے کے لیے بل کے کچھ دفعات کو ہٹانے اور خطرناک کاروبار وں کی مکمل فہرست کے ساتھ ایک مضبوط نگرانی نظام قائم کرنے کی اپیل کی تھی۔[2]

پاکستان میں بچہ مزدوری

ترمیم

پاکستان کے صوبۂ پنجاب میں بچوں کی مزدوری روکنے کے لیے حکومت نے سات کروڑ کی آبادی کے میں 2005ء تک صرف چوراسی انسپکٹر تعینات کیے تھے۔ یہ تعداد ریاست بھر وسیع پیمانے پھیلی بچہ مزدوری روکنے، قانونی اقدامات کرنے اور متاثرہ بچوں کو چھڑانے میں ناکام تھی۔ بچوں سے خطرناک مزدوری کرانے والوں کے خلاف گذشتہ 2004ء میں صرف تین سو اکیانوے مقدمے چلے۔ ان مقدموں میں صرف تیرہ ہزار روپے جرمانہ کیا گیا۔ خطرناک کام کے لیے کسی بچہ کو مزدور رکھے والے کے لیے جرمانہ کی زیادہ سے زیادہ شرح ڈھائی سو روپے ہے۔[3] اس طرح قانونی چارہ جوئی کے لیے اور بڑے پیمانے پر پھیلی سماجی برائی کو روکنے کے لیے مزید اقدامات اور کڑے قوانین کا ہونا ناگزیر ہے۔

مزید دیکھیے

ترمیم

حوالہ جات

ترمیم