بیروت لبنان کا دار الحکومت، عظیم ترین شہر اور اہم بندرگاہ ہے۔ اس کی آبادی 938،940 [1]اور 1،303،129 [2]سے 2،012،000 [3]کے درمیان ہے۔ شہر کی اصل آبادی کا علم اس لیے نہیں کیونکہ 1932ء کے بعد سے لبنان میں کوئی مردم شماری نہیں ہوئی۔

نجمہ اسکوائر، بیروت
جنگ زدہ بیروت

تاریخترميم

بیروت علاقے کا سابق تجارتی مرکز ہے اور اسے لبنان کی خانہ جنگی سے قبل یہ شہر "مشرق وسطی کا پیرس" کہلاتا تھا۔ 2006ء میں اسرائیل کی شہر پر بمباری اور 2005ء میں سابق وزیر اعظم رفیق حریری کی ہلاکت کے باوجود حالیہ سالوں میں تعمیر نو کے مراحل سے گزر رہا ہے۔

بین الاقوامی اہمیتترميم

شہر میں کئی بین الاقوامی تنظیموں کے دفاتر ہیں جن میں اقوام متحدہ کے اقتصادی و سماجی کمیشن برائے مغربی ایشیا (ESCWA) کا صدر دفتر بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ بین الاقوامی انجمن برائے محنت کشاں (ILO) اور اقوام متحدہ کی انجمن برائے تعلیم، سائنس و ثقافت (UNESCO) کے علاقائی دفاتر بھی بیروت میں واقع ہیں جو عرب دنیا کا احاطہ کرتے ہیں۔

جڑواں شہرترميم

نگار خانہترميم

حوالہ جاتترميم

  1. "اقوام متحدہ کی سالانہ اعداد و شمار کی کتاب برائے سال 2003ء، صفحہ نمبر 53" (PDF). 05 جنوری 2007 میں اصل (PDF) سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 10 جنوری 2007. 
  2. "لبنانی وزارت ماحولیات، باب اول صفحہ 11" (PDF). 11 مارچ 2007 میں اصل (PDF) سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 10 جنوری 2007. 
  3. انسائیکلو پیڈیا آف نیشنز

بیرونی روابطترميم

بلدیہ بیروتآرکائیو شدہ [Date missing] بذریعہ beirut.gov.lb [Error: unknown archive URL]

بیروت کے ہوٹل، نقشہ جات کے ساتھآرکائیو شدہ [Date missing] بذریعہ lebanon-hotels.com [Error: unknown archive URL]

جدید بیروت کی تصاویرآرکائیو شدہ [Date missing] بذریعہ discoverlebanon.com [Error: unknown archive URL]

1975ء سے 1990ء تک جاری رہنے والی خانہ جنگی اور 2006ء میں اسرائیلی حملے کی تصاویر

  یہ ایک نامکمل مضمون ہے۔ آپ اس میں اضافہ کر کے ویکیپیڈیا کی مدد کر سکتے ہیں۔