مرکزی مینیو کھولیں
  
لبنان
لبنان
پرچم
لبنان
نشان

Lebanon (orthographic projection).svg 

ترانہ:لبنانی قومی ترانہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں ترانہ (P85) ویکی ڈیٹا پر
زمین و آبادی
متناسقات 33°50′00″N 35°46′00″E / 33.833333°N 35.766667°E / 33.833333; 35.766667  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں متناسقاتی مقام (P625) ویکی ڈیٹا پر[1]
پست مقام بحیرہ روم (0 میٹر)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پست ترین مقام (P1589) ویکی ڈیٹا پر
رقبہ 10452 مربع کلومیٹر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں رقبہ (P2046) ویکی ڈیٹا پر
دارالحکومت بیروت  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں دارالحکومت (P36) ویکی ڈیٹا پر
سرکاری زبان عربی[2]،  فرانسیسی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں سرکاری زبان (P37) ویکی ڈیٹا پر
آبادی 4467390 (2013)[3]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں آبادی (P1082) ویکی ڈیٹا پر
اوسط عمر
73.959 سال (1999)[4]
74.447 سال (2000)[4]
74.934 سال (2001)[4]
75.418 سال (2002)[4]
75.892 سال (2003)[4]
76.351 سال (2004)[4]
76.786 سال (2005)[4]
77.187 سال (2006)[4]
77.553 سال (2007)[4]
77.881 سال (2008)[4]
78.173 سال (2009)[4]
78.43 سال (2010)[4]
78.656 سال (2011)[4]
78.86 سال (2012)[4]
79.05 سال (2013)[4]
79.231 سال (2014)[4]
79.409 سال (2015)[4]
79.584 سال (2016)[4]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں اوسط عمر (P2250) ویکی ڈیٹا پر
حکمران
صدر لبنان  میشل عون  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں سربراہ ریاست (P35) ویکی ڈیٹا پر
وزیر اعظم لبنان  سعد حریری (18 دسمبر 2016–4 نومبر 2017)[5]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں سربراہ حکومت (P6) ویکی ڈیٹا پر
قیام اور اقتدار
تاریخ
یوم تاسیس 22 نومبر 1943  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاسیس (P571) ویکی ڈیٹا پر
عمر کی حدبندیاں
شادی کی کم از کم عمر 18 سال،  17 سال  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شادی کی کم از کم عمر (P3000) ویکی ڈیٹا پر
الحاق اور رکنیت
Flag of the United Nations.svg اقوام متحدہ (24 اکتوبر 1945–)
Flag of the Arab League.svg عرب لیگ (22 مارچ 1945–)
Flag of OIC.svg تنظیم تعاون اسلامی
بین الاقوامی بنک برائے تعمیر و ترقی (14 اپریل 1947–)
بین الاقوامی انجمن برائے ترقی (10 اپریل 1962–)
بین الاقوامی مالیاتی شرکت (28 دسمبر 1956–)
کثیرالفریق گماشتگی برائے ضمانت سرمایہ کاری (19 اکتوبر 1994–)
بین الاقوامی مرکز برائےتصفیہ تنازعات سرمایہ کاری (25 اپریل 2003–)
انٹرپول[6]
تنظیم برائے ممانعت کیمیائی ہتھیار[7]
Flag of UNESCO.svg یونیسکو (4 نومبر 1946–)[8]
Flag of UPU.svg عالمی ڈاک اتحاد[9]
عالمی ٹیلی مواصلاتی اتحاد (12 جنوری 1924–)[10]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں رکن (P463) ویکی ڈیٹا پر
مشترکہ سرحدیں
سوریہ (Lebanon–Syria border)
اسرائیل (Israel–Lebanon border اور Blue Line)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مشترکہ سرحدیں (P47) ویکی ڈیٹا پر
خام ملکی پیداوار
 ← کل
51844487742.0232 امریکی ڈالر (2017)[11]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں فی کس جی ڈی پی (P2131) ویکی ڈیٹا پر
 ← فی کس 3741.485 بین الاقوامی ڈالر (1990)[12]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں PPP GDP per capita (P2299) ویکی ڈیٹا پر
جی ڈی پی تخمینہ
 ← فی کس 1241 امریکی ڈالر (1988)[13]
1015 امریکی ڈالر (1989)[13]
1050 امریکی ڈالر (1990)[13]
1704 امریکی ڈالر (1991)[13]
2070 امریکی ڈالر (1992)[13]
2737 امریکی ڈالر (1993)[13]
3226 امریکی ڈالر (1994)[13]
3863 امریکی ڈالر (1995)[13]
4457 امریکی ڈالر (1996)[13]
5093 امریکی ڈالر (1997)[13]
5538 امریکی ڈالر (1998)[13]
5509 امریکی ڈالر (1999)[13]
5334 امریکی ڈالر (2000)[13]
5253 امریکی ڈالر (2001)[13]
5436 امریکی ڈالر (2002)[13]
5425 امریکی ڈالر (2003)[13]
5473 امریکی ڈالر (2004)[13]
5390 امریکی ڈالر (2005)[13]
5434 امریکی ڈالر (2006)[13]
6086 امریکی ڈالر (2007)[13]
7109 امریکی ڈالر (2008)[13]
8480 امریکی ڈالر (2009)[13]
8858 امریکی ڈالر (2010)[13]
8734 امریکی ڈالر (2011)[13]
8959 امریکی ڈالر (2012)[13]
8807 امریکی ڈالر (2013)[13]
8660 امریکی ڈالر (2014)[13]
8529 امریکی ڈالر (2015)[13]
8571 امریکی ڈالر (2016)[13]
8808 امریکی ڈالر (2017)[13]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں nominal GDP per capita (P2132) ویکی ڈیٹا پر
کل ذخائر 140193600 امریکی ڈالر (1960)[14]
161550900 امریکی ڈالر (1961)[14]
206563420 امریکی ڈالر (1962)[14]
206512480 امریکی ڈالر (1963)[14]
233028080 امریکی ڈالر (1964)[14]
251644720 امریکی ڈالر (1965)[14]
282747660 امریکی ڈالر (1966)[14]
282162800 امریکی ڈالر (1967)[14]
388526600 امریکی ڈالر (1968)[14]
348892800 امریکی ڈالر (1969)[14]
404917180 امریکی ڈالر (1970)[14]
598829651 امریکی ڈالر (1971)[14]
922647621 امریکی ڈالر (1972)[14]
1507046654 امریکی ڈالر (1973)[14]
2997376774 امریکی ڈالر (1974)[14]
2494061145 امریکی ڈالر (1975)[14]
2544358607 امریکی ڈالر (1976)[14]
3089266497 امریکی ڈالر (1977)[14]
3918138374 امریکی ڈالر (1978)[14]
6253129755 امریکی ڈالر (1979)[14]
7024574525 امریکی ڈالر (1980)[14]
5182114834 امریکی ڈالر (1981)[14]
6821644187 امریکی ڈالر (1982)[14]
5420707181 امریکی ڈالر (1983)[14]
3514703718 امریکی ڈالر (1984)[14]
4089410432 امریکی ڈالر (1985)[14]
4092905137 امریکی ڈالر (1986)[14]
4832307035 امریکی ڈالر (1987)[14]
4761143788 امریکی ڈالر (1988)[14]
4636190478 امریکی ڈالر (1989)[14]
4210389197 امریکی ڈالر (1990)[14]
4536363879 امریکی ڈالر (1991)[14]
4569657895 امریکی ڈالر (1992)[14]
5862881281 امریکی ڈالر (1993)[14]
7418500692 امریکی ڈالر (1994)[14]
8099940555 امریکی ڈالر (1995)[14]
9337093843 امریکی ڈالر (1996)[14]
8652574859 امریکی ڈالر (1997)[14]
9210344450 امریکی ڈالر (1998)[14]
10452318091 امریکی ڈالر (1999)[14]
8474638714 امریکی ڈالر (2000)[14]
7563692685 امریکی ڈالر (2001)[14]
10404665785 امریکی ڈالر (2002)[14]
16367322612 امریکی ڈالر (2003)[14]
15773807260 امریکی ڈالر (2004)[14]
16617970571 امریکی ڈالر (2005)[14]
19238866681 امریکی ڈالر (2006)[14]
20598784123 امریکی ڈالر (2007)[14]
28265311819 امریکی ڈالر (2008)[14]
39131823200 امریکی ڈالر (2009)[14]
44475630274 امریکی ڈالر (2010)[14]
47859469368 امریکی ڈالر (2011)[14]
52530986923 امریکی ڈالر (2012)[14]
47855927736 امریکی ڈالر (2013)[14]
50668864745 امریکی ڈالر (2014)[14]
48531390405 امریکی ڈالر (2015)[14]
53905512324 امریکی ڈالر (2016)[14]
55411532096 امریکی ڈالر (2017)[14]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں کل ذخائر (P2134) ویکی ڈیٹا پر
اشاریہ انسانی ترقی
اشاریے
0.757 (2017)[15]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں انسانی ترقیاتی اشاریہ (P1081) ویکی ڈیٹا پر
شرح بے روزگاری 6 فیصد (2014)[16]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں unemployment rate (P1198) ویکی ڈیٹا پر
دیگر اعداد و شمار
منطقۂ وقت 00 (معیاری وقت)
متناسق عالمی وقت+03:00 (روشنیروز بچتی وقت)
مشرقی یورپی وقت (معیاری وقت)
مشرقی یورپی گرما وقت (روشنیروز بچتی وقت)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں منطقہ وقت (P421) ویکی ڈیٹا پر
ٹریفک سمت دائیں[17]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں ڈرائیونگ سمت (P1622) ویکی ڈیٹا پر
ڈومین نیم lb.  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں ٹی ایل ڈی (P78) ویکی ڈیٹا پر
سرکاری ویب سائٹ باضابطہ ویب سائٹ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں باضابطہ ویب سائٹ (P856) ویکی ڈیٹا پر
آیزو 3166-1 الفا-2 LB  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں ISO 3166-1 alpha-2 code (P297) ویکی ڈیٹا پر
بین الاقوامی فون کوڈ +961  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں ملکی ڈائیلنگ کوڈ (P474) ویکی ڈیٹا پر

لبنان (سنیےi/ˈlɛbənɒn/ or /ˈlɛbənən/; عربی: لبنان Libnān یا Lubnān، لبنانی عربی: [lɪbˈne:n]), سرکاری نام لبنانی جمہوریہ[nb 1] (عربی: الجمهورية اللبنانية al-Jumhūrīyah al-Libnānīyah، لبنانی عربی: [elˈʒʊmhu:ɾɪjje l.ˈlɪbne:nɪjje]) مشرق وسطیٰ میں مشرقی بحیرہ روم کا ایک اہم عرب ملک ہے۔ یہ بحیرہ روم کے مشرقی کنارے پر ایک چھوٹا سا ملک ہے جو زیادہ تر پہاڑی علاقے پر مشتمل ہے۔ اس کے شمال اور مشرق میں شام، جنوب میں اسرائیل اور مغرب میں بحیرہ روم واقع ہے۔ یہ خوبصورت ملک اپنے خوشبودار سیبوں، دیودار کے قدیم درختوں اور زیتون کے باغات کے لیے مشہور ہے۔ اس کے جھنڈے پر بھی دیودار کا درخت بنا ہوا ہے جو لبنان کا قومی نشان بھی ہے۔ لبنان ایک مسلم اکثریتی ملک ہے مگر مسیحی دولت اور اقتدار پر قابض ہیں جو لبنان کی خانہ جنگی کی ایک بنیادی وجہ ہے۔ 1932 کے بعد مردم شماری بھی نہیں ہونے دی گئی جس کے بعد ممکنہ طور پر مسلمانوں کو اقتدار میں زیادہ حصہ مل سکتا ہے۔ 1975 کی خانہ جنگی سے پہلے لبنان کو مشرق وسطیٰ کا پیرس اور مشرق وسطیٰ کا سوئٹزرلینڈ کہا جاتا تھا۔ اس وقت لبنان کی بینکاری اور سیاحت اپنے عروج پر تھی۔

فہرست

تاریخترميم

لبنان کا تقریباً تمام علاقہ ساحل سمندر سے بہت قریب ہے اور قبل از تاریخ سے آباد رہا ہے۔ اس کی تاریخ بجا طور پر انسانی تاریخ کہلائی جا سکتی ہے۔ انسان کے لکھنے کا آغاز یہیں سے ہوا۔ پہلے پہل جہاز رانی بھی انہوں نے شروع کی۔ لبنان کے پہلے دور کے لوگ فنیقی کہلاتے ہیں اور یہی فنیقی تھے جنہوں نے حروف ایجاد کیے۔ انہیں سامی بھی کہا جاتا ہے۔ یہاں بے شمار انبیا مبعوث ہوئے۔ کئی تہذیبوں نے جنم لیا۔ پچھلے کچھ سالوں میں بیروت کی تعمیر نو کے دوران جہاں بھی کھدائی کی جاتی تھی، کسی قدیم تہذیب کے آثار برامد ہو جاتے تھے۔ قدیم تہذیبوں کے آثار بیروت، صیدا، بعلبک، صور اور تریپولی سے ملتے ہیں۔ 3000 سال قبل فنیقی اپنے عروج پر تھے جو اعلیٰ درجے کے جہاز ران اور تاجر تھے۔ انہوں نے حروف کا استعمال شروع کیا جس کے حروف تہجی تھے۔ ان کی تجارت اسیریا اور بابل کے ساتھ تھی۔ مگر تعلقات اچھے نہ تھے اور کئی دفعہ جنگ کی نوبت بھی آتی تھی۔ اس علاقے کو فارس والوں نے کئی مرتبہ فتح کیا۔ سکندر اعظم کی فوجوں نے اسے تاراج کیا۔ پہلی صدی عیسوی میں رومن افواج ان پر چڑھ دوڑیں۔ مسلمانوں نے بھی انہیں فتح کیا۔ جدید دور میں فرانس نے اس پر قبضہ کیا مگر یہ مکمل طور پر کسی کے قابو نہیں آئے لیکن انہوں نے ان تمام تہذیبوں سے بہت کچھ حاصل کیا۔ اسی کیے آج لبنان ایک ایسا ملک ہے جس میں آپ مختلف نسلوں اور مذاہب کے لوگ دیکھ سکتے ہیں۔ یہ ملک ایشیا کے آخری سرے پر یورپ کے قریب واقع ہے اس لیے اسے ہم مختلف تہذیبوں کا مرقع کہہ سکتے ہیں۔ ایک بات جو ان میں برقرار ہے وہ ان کی آزادی سے محبت اور جنگجو ہونا ہے۔

 
شہر صور (Tyre) کے کھنڈر

چونکہ یہ ایک دشوار پہاڑی علاقہ تھا اس لیے ہر دور میں اس میں حکومت وقت کے مخالفین پناہ لیتے تھے۔ کبھی مارونی مسیحی یہاں پناہ لیتے تھے تو کبھی دروز لوگ اسے اپنا گھر قرار دیتے تھے اور کبھی مسلمان شیعہ اس میں حکومت وقت سے جان بچانے کے لیے پناہ لیتے تھے۔ عثمانی سلطنت کے دور میں یورپی اقوام نے ایک معاہدہ کے تحت یہاں تبلیغ کی اجازت لے لی تھی جو ترکی خلافت نے دی تھی۔ اس کا نقصان یہ ہوا کہ ترکی خلافت کے زمانے ہی میں یہاں ایک آزاد مارونی مسیحی علاقہ قائم ہو گیا تھا۔ 1120-1697 کے دوران مان خاندان کی حکومت رہی جس نے اسے صلیبیوں سے بچائے رکھا۔ 1697-1842 کے دوران شہاب خاندان کی حکومت تھی۔ اس دوران اس علاقے کی تجارت میں بہت اضافہ ہوا۔ خاص طور پر ریشم کی تجارت یورپ سے ہوتی تھی۔ چونکہ اشیائے تجارت فرانس کی بندرگاہ مارسیلز (ماغسائی) کے راستے ہوتی تھی اس لیے آہستہ آہستہ اس علاقے میں فرانسیسی اثرورسوخ بڑھنا شروع ہو گیا۔ فرانس اور برطانیہ نے لبنان کے حکمران شہاب خاندان کے خلاف ایک طرف تو ترکی کو ابھارا اور دوسری طرف لبنان کے مارونی مسیحیوں، دروز اور مسلمانوں میں پھوٹ ڈلوانے کے لیے لبنان میں دولت خرچ کی حتیٰ کہ لبنان میں بغاوت اور خانہ جنگی پھوٹ پڑی۔ جس کا فائدہ عثمانیوں نے اٹھایا اور لبنان پر اپنا اقتدار مکمل طور پر قائم کر لیا مگر فرانس کے اثر کے ساتھ ساتھ۔ عثمانیوں نے لبنان کو مسیحی اور دروز ضلعوں میں تقسیم کر دیا۔ مگر خانہ جنگی کو ختم نہیں کیا جا سکا جس کی بنیادی وجہ فرانس کی مارونی مسیحیوں کی مسلسل امداد تھی۔ پہلی جنگ عظیم کے بعد عثمانی خلافت ختم ہو گئی اور لبنان کے پانچوں اضلاع کو جمعیت الاقوام یا لیگ آف نیشنز (جو بعد میں اقوام متحدہ بن گئی) نے فرانس کو سونپ دیا۔ فرانس نے حسب سابق مارونی مسیحیوں کو ہر معاملہ میں آگے رکھا۔ اس وقت لبنان میں مسلمان ستاون فیصد، مسیحی چالیس فیصد اور دروز تین فیصد تھے۔ اقتدار مسیحیوں کو سونپنے کے لیے فرانس نے مسیحیوں کو تو چالیس فیصد شمار کیا مگر مسلمانوں کو الگ الگ قوم (شیعہ اور سنی) کی حیثیت سے شمار کیا۔ یوں مسیحی چالیس فیصد، شیعہ مسلمان تیس فیصد اور سنی مسلمان ستائیس فیصد ٹھیرے۔ یہ اعداد و شمار 1932 کی مردم شماری کے مطابق ہیں جس کے بعد آج تک لبنان میں کوئی مردم شماری نہیں ہونے دی گئی کیونکہ اب مسلمان بڑی واضح اکثریت میں ہیں۔ ان اعداد و شمار کی بنیاد پر فیصلہ ہوا کہ چونکہ مسیحی اکثریت میں ہیں اس لیے صدر مسیحی ہوگا۔ یاد رہے کہ لبنان کے قوانین کے مطابق صدر کے پاس ہی اصل طاقت ہوتی ہے۔ وزیر اعظم اور سپیکر سنی اور شیعہ مسلمان ہوں گے۔ لبنان نے 1943 میں فرانس سے آزادی حاصل کی جس وقت فرانس پر جرمنی نے قبضہ کر لیا تھا۔[18]

جغرافیہ اور موسمترميم

 
وادی کدیشہ۔لبنان

لبنان بحیرہ روم کے کنارے واقع مشرق وسطیٰ کا ایک ملک ہے جس کا زیادہ حصہ سمندر کے کنارے کے قریب ہے۔ سردیوں میں درجہ حرارت صفر درجہ سینٹی گریڈ تک ہوتا ہے اور بعض اوقات شدید برف باری ہوتی ہے اور پہاڑ اور درخت برف سے ڈھک جاتے ہیں۔ گرمیاں عام طور پر گرم اور خشک ہوتی ہیں۔ لبنان کا زیادہ علاقہ پہاڑی ہے۔ صرف وادی بقاع کا علاقہ میدانی ہے جہاں زراعت ہوتی ہے۔ اپنے ارد گرد کے ممالک کی نسبت لبنان میں بارش کی سالانہ اوسط زیادہ ہے جس کی وجہ سے وہ ایک سرسبزوشاداب ملک ہے۔ کسی زمانے میں وہاں دیودار کے گھنے جنگل تھے جو کسی حد تک اب بھی پائے جاتے ہیں۔ لبنان میں بعض درخت پانچ ہزار سال پرانے ہیں جن کو ایک قومی ورثہ قرار دیا گیا ہے۔ لبنان کے جنوب میں اسرائیل ہے جس کے ساتھ لبنانی سرحد 79 کلومیٹر ہے اور مشرق اور شمال میں شام واقع ہے جس کے ساتھ لبنانی سرحد 375 کلومیٹر ہے۔ ,[19]

معیشتترميم

لبنان کی سرزمین زراعت کے لیے موزوں ہے مگر زراعت پر انحصار نہیں کرتی۔ افرادی قوت کا صرف 12 فی صد زراعت سے متعلق ہے جو خام ملکی پیداوار ( GDP) کا صرف 11.7 فی صد پیدا کرتے ہیں۔ صنعت بھی لبنان کے لیے کبھی مناسب نہیں رہا کیونکہ اس کے پاس خام مال کی کمی ہے اور تیل کے لیے بھی دوسرے عرب ممالک پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔ صنعت کا خام ملکی پیداوار میں حصہ 21 فی صد ہے جبکی وہ 26 فی صد افراد کو روزگار فراہم کرتا ہے۔ نتیجتاً لبنان نے اشیاء کی جگہ خدمات کی پیداوار میں بہت ترقی کی جیسے بینکاری، سیاحت، تعلیم وغیرہ۔ خام ملکی پیداوار کا 67 فی صد پیدا کر کے یہ شعبہ 65 فی صد افرادی قوت کو روزگار فراہم کرتا ہے۔ یہ شعبہ بڑا حساس ہے اور خراب ملکی اور بین الاقوامی صورت حال سے فوراً اثر قبول کرتا ہے۔ اس لیے 1975 تک تو لبنان نے بڑی ترقی کی۔ ساٹھ کی دہائی میں لبنان کے دار الحکومت بیروت کو ایشیا کا پیرس کہا جاتا تھا۔ مگر 1975 کی خانہ جنگی نے اس شعبہ کو برباد کر دیا۔ خانہ جنگی ختم ہونے کے بعد کچھ عرصہ میں پھر لبنان نے زبردست ترقی کی مگر حالیہ لبنان۔ اسرائیلی جنگ (2006) نے پھر لبنان کی ترقی کے عمل کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

انتظامی تقسیمترميم

محافظات اور اقضيۃ (صوبے اور اضلاع)ترميم

 
محافظات لبنان

لبنان ایک چھوٹا سا ملک ہے۔ چند گھنٹے میں آپ ملک کے ایک سرے سے دوسرے تک جا سکتے ہیں مگر حقیقتاً لبنان مختلف قومیتوں اور نسلوں پر مشتمل ہے اور اکثر ان کے علاقے بھی الگ الگ ہیں۔ مثلاً جنوب کے علاقے میں نوے فی صد شیعہ رہتے ہیں، جبل لبنان میں سنی اور کچھ مسیحی ہیں اور بیروت ایک مشترکہ علاقہ ہے۔ لبنان کے چھ حصے ہیں جن کو محافظات کہا جاتا ہے۔ ہر محافظۃ (ہم اسے صوبہ کہہ سکتے ہیں) کو اقضيۃ (اضلاع) میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ ہر قضاء (ضلع) کو مختلف بلدیہ میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ان کی تفضیل کچھ اس طرح ہے۔

1. محافظۃ بيروت

بیروت کا کوئی قضاء یا
ضلع نہیں ہے بلکہ یہ خود ہی
اس محافظۃ کا اکلوتا ضلع ہے۔

2. محافظۃ جبل لبنان
  • قضاء جبيل
  • قضاء كسروان
  • قضاء المتن
  • قضاء بعبدا
  • قضاء عاليۃ
  • قضاء الشوف
3. محافظۃ الشمال
  • قضاء طرابلس
  • قضاء المنيۃ - الضنيۃ
  • قضاء زغرتا - الزاويۃ
  • قضاء البترون
  • قضاء الكورۃ
  • قضاء عكار
  • قضاء بشري
4. محافظۃ البقاع
  • قضاء بعلبك
  • قضاء الھرمل
  • قضاء زحلۃ
  • قضاء البقاع الغربي
  • قضاء راشيا
5. محافظۃ النبطيۃ
  • قضاء النبطيۃ
  • قضاء حاصبيا
  • قضاء مرجعيون
  • قضاء بنت جبيل
6. محافظۃ الجنوب
  • قضاء صيدا - الزھراني
  • قضاء صور
  • قضاء جزين

مشہور شہرترميم

لبنان کے مشہور شہروں میں بیروت، صور، صیدا، تریپولی اور بعلبک شامل ہیں۔ بیروت سب سے بڑا شہر ہے۔ یہ تمام شہر انتہائی قدیم زمانے سے قائم ہیں۔ چونکہ لبنان ایک بڑا ملک نہیں اس لیے یہ شہر ایک دوسرے سے زیادہ فاصلہ پر نہیں ہیں۔

ثقافتترميم

لبنانی ثقافت بہت سی تہذیبوں کا مرقع ہے۔ ان میں فنیقی، اسیریا، فارسی، یونانی، رومی، عرب، ترک، فرانسیسی اور خود پرانی لبنانی ثقافت شامل ہے۔ مسیحیت اور اسلام دونوں کے رسم و رواج نظر آتے ہیں۔ زبانوں میں نمایاں عربی مگر ساتھ ساتھ آرمینیائی، فرانسیسی اور انگریزی کا اثر ہے۔ نوے فیصد سے زیادہ لوگ پڑے لکھے ہیں۔ لبنان کے کھانے بھی بہت مشہور ہیں۔ مسیحی آبادی میں ناچ گانے کا بھی رواج ہے جو مسلمانوں میں بھی پھیل رہا تھا مگر حزب اللہ کی تبلیغ سے اب یہ پھیلاؤ رک چکا ہے۔ لبنان کی موسیقی عرب دنیا میں بہت مقبول تھی مگر اب اس کی جگہ مصری موسیقی اور فلم لے چکی ہے۔ آرٹ کے علاوہ لبنانی شاعری اور ادب بھی اچھا مقام رکھتی ہے۔ مشہور فلسفی اور شاعر جبران خلیل جبران کا تعلق لبنان ہی سے تھا۔ اس کے علاوہ لبنان کتابوں کی طباعت میں بھی شہرت رکھتا ہے۔ عرب دنیا میں چھپنے والی بیشتر کتابیں لبنانی ناشرین چھاپتے تھے اور اب مصر بھی اس مقام میں لبنان کے ساتھ شامل ہو گیا ہے۔

سیاستترميم

لبنان میں 1932 کے بعد کوئی مردم شماری نہیں ہوئی۔ یہ مردم شماری فرانس نے شناختی کارڈ کی بنیاد پر کروائی تھی۔ بہت سے مسلمانوں اور دروز نے شناختی کارڈ نہیں بنوائے تھے کیونکہ ان کے خیال میں شناختی کارڈ بنوانے کا مطلب فرانس کے قبضے کو تسلیم کرنا تھا۔ اس بنیاد پر فیصلہ ہوا کہ صدر جس کے پاس اصل طاقت ہوتی ہے وہ مارونی مسیحی،نائب وزیر اعظم آرتھوڈوکس مسیحی، وزیر اعظم سنی مسلمان اور سپیکر شیعہ مسلمان ہو گا۔ اب مسلمانوں کی تعداد مسیحیوں کی نسبت بہت زیادہ ہو چکی ہے اس لیے صاحب اقتدار مسیحی مردم شماری نہیں ہونے دیتے۔ پارلیمنٹ کی سیٹیں حتیٰ کہ مختلف جامعات میں داخلے بھی اسی مردم شماری کے تحت ہوتے ہیں۔ لبنان میں شام کا اثر بھی اس میں کوئی تبدیلی نہیں لا سکا۔ شام کی فوج کافی عرصہ تک لبنان میں رہی ہے۔ کچھ عرصہ قبل اسرائیل، امریکا، برطانیہ اور اقوام متحدہ نے شور مچانا شروع کر دیا کہ شام اپنی فوج لبنان سے نکالے۔ جونہی شام نے اپنی فوج لبنان سے نکالی، اسرائیل نے دو فوجی رہا کروانے کا بہانہ کرکے 2006 میں لبنان پر حملہ کر دیا۔ حالانکہ اس سے پہلے بھی اسرائیل اور لبنان کی تنظیم حزب اللہ ایک دوسرے کے فوجی قید کرتے رہے ہیں۔ اسرائیل اور امریکا کا لبنان یا لبنان کے جنوبی حصہ پر قبضہ کرنے کا منصوبہ حزب اللہ نے ناکام بنا دیا۔ لبنان کے شیعہ اور سنی دونوں نے اتحاد قائم رکھا اور مغربی طاقتوں کی سازشوں کا شکار نہیں ہوئے۔ جنوبی لبنان پر قبضہ کرنے یا حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کا ایک مقصد یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ایران پر ممکنہ حملہ کے بعد حزب اللہ ردِ عمل کے طور پر اسرائیل کو کوئی نقصان نہ پہنچائے۔ یاد رہے کہ ایران اور حزب اللہ کے بڑے گہرے تعلقات ہیں اور دوسری بات یہ کہ لبنان کی اپنی فوج نہ ہونے کے برابر ہے۔ 2006 کی لبنان۔اسرائیل جنگ کے بعد فی الحال حزب اللہ کو غیر مسلح نہیں کیا جا سکا۔ اور وہ خطے میں ایک بڑی اور مقبول طاقت کے طور پر مانی جاتی ہے۔

لبنان کی خانہ جنگیترميم

لبنان کا نظامِ حکومت انصاف پر مبنی نہیں ہے اس لیے یہ ایک قدرتی امر ہے کہ خانہ جنگی ہوگی۔ 1975 میں لبنان میں مسیحیوں اور مسلمانوں، جو نسبتاً غریب تھے، کے درمیان خانہ جنگی پھوٹ پڑی۔ یہ خانہ جنگی تقریباً پندرہ سال جاری رہی جس میں تقریباً دو لاکھ افراد موت کے گھاٹ اتر گئے۔ اس دوران اسرائیل نے موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دو دفعہ لبنان پر حملہ کیا اور سن 2000 تک جنوبی لبنان پر قابض رہا۔ 2000 میں حزب اللہ کے گوریلا حملوں کی وجہ سے اسرائیل کو جنوبی لبنان چھوڑنا پڑا مگر وہ تاحال مزارع شبعا (شبعا فارمز) پر قابض ہے۔ لبنان کی اس خانہ جنگی نے لبنان کی ترقی کو بہت متاثر کیا مگر عالمی قوتوں نے خانہ جنگی کا معاملہ ایسے حل کروایا کہ مسلمانوں کا کوئی مطالبہ نہ مانا گیا اور وہ صورت حال ابھی بھی موجود ہے جہ کسی بھی وقت خانہ جنگی کو ہوا دے سکتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ مردم شماری کروائی جائے اور اس بنیاد پر ایک نیا نظامِ حکومت تشکیل دیا جائے جس میں تمام شہریوں کو ان کے جائز حقوق حاصل ہوں۔

لبنان اور اسرائیلترميم

 
لبنانی علاقوں پر اسرائیلی حملے۔جولائی و اگست 2006

اسرائیل اور لبنان کے تعلقات ھمیشہ سے نازک چلے آ رہے ہیں۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ اسرائیل نے ان کے عرب فلسطینی بھائیوں کی سرزمین پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے۔ دوسرے اسرائیل کی مذہبی کتابوں اور مستقبل کے منصوبوں میں لبنان کی سرزمین کو عظیم تر اسرائیل کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔ اسرائیل نے ماضی میں لبنان پر کئی حملے کیے ہیں اور بیس سال تک جنوبی لبنان پر قبضہ بھی رکھا ہے۔ جنگ نہ ہونے کی صورت میں بی اسرائیلی جہاز اکثر لبنان پر غیر قانونی پرواز کرتے رہتے ہیں اور بمباری بھی کرتے ہیں۔ 16 ستمبر 1982 کو اسرائیلی کمانڈوز، جن کی سربراہی ایریل شیرون کر رہا تھا، نے لبنان کے مارونی مسیحی ملیشیا کے ساتھ مل کر بیروت میں واقع صبرا وشاتيلا کے فلسطینی کیمپوں پر حملہ کر کے 5000 کے قریب فلسطینیوں کو شہید کر دیا۔ جس دوران یہ قتلِ عام جاری تھا، اسرائیلی فوج نے صبرا وشاتيلا کو گھیرے میں رکھا تاکہ کوئی بچہ یا عورت بھی بچ نہ سکے۔ کسی ملک میں آزادانہ گھس کر اس کے شہریوں یا مہمانوں کو نشانہ بنانے پر دنیا کی مغربی انسانی تنظیموں نے کوئی واویلا نہیں مچایا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ لبنان کی فوج نہ ہونے کہ برابر ہے۔ جولائی 2006 میں اسرائیل نے اس بہانے لبنان پر حملہ کر دیا کہ حزب اللہ نے اس کے دو فوجی قید کر لیے ہیں۔ حالانکہ اس سے پہلے بھی اسرائیل اور لبنان کی تنظیم حزب اللہ ایک دوسرے کے فوجی قید کرتے رہے ہیں۔ اسرائیل اور امریکا کا لبنان یا لبنان کے جنوبی حصہ پر قبضہ کرنے کا منصوبہ حزب اللہ نے ناکام بنا دیا۔ یہ جنگ اکتوبر 2006 تک جاری رہی۔

فہرست متعلقہ مضامین لبنانترميم

حوالہ جاتترميم

  1.     "صفحہ لبنان في خريطة الشارع المفتوحة"۔ OpenStreetMap۔ اخذ شدہ بتاریخ 15 اگست 2019۔
  2. باب: 11
  3. ناشر: عالمی بنک
  4. ^ ا ب پ ت ٹ ث ج چ ح خ د ڈ ذ ر​ ڑ​ ز ژ س http://data.uis.unesco.org/Index.aspx?DataSetCode=DEMO_DS
  5. http://edition.cnn.com/2017/11/04/middleeast/lebanese-prime-minister-saad-hariri-resigns/index.html
  6. https://www.interpol.int/Member-countries/World — اخذ شدہ بتاریخ: 7 دسمبر 2017 — ناشر: انٹرپول
  7. https://www.opcw.org/about-opcw/member-states/ — اخذ شدہ بتاریخ: 7 دسمبر 2017 — ناشر: تنظیم برائے ممانعت کیمیائی ہتھیار
  8. http://www.unesco.org/eri/cp/ListeMS_Indicators.asp
  9. http://www.upu.int/en/the-upu/member-countries.html — اخذ شدہ بتاریخ: 4 مئی 2019
  10. https://www.itu.int/online/mm/scripts/gensel8 — اخذ شدہ بتاریخ: 4 مئی 2019
  11. https://data.worldbank.org/indicator/NY.GDP.MKTP.CD?locations=LB — اخذ شدہ بتاریخ: 21 اکتوبر 2018 — ناشر: عالمی بنک
  12. https://data.worldbank.org/indicator/NY.GDP.PCAP.PP.CD — اخذ شدہ بتاریخ: 11 جون 2019 — ناشر: عالمی بنک
  13. ^ ا ب پ ت ٹ ث ج چ ح خ د ڈ ذ ر​ ڑ​ ز ژ س ش ص ض ط ظ ع غ ف ق ک گ ل​ https://data.worldbank.org/indicator/NY.GDP.PCAP.CD — اخذ شدہ بتاریخ: 27 مئی 2019 — ناشر: عالمی بنک
  14. ^ ا ب پ ت ٹ ث ج چ ح خ د ڈ ذ ر​ ڑ​ ز ژ س ش ص ض ط ظ ع غ ف ق ک گ ل​ م​ ن و ہ ھ ی ے اا اب ات اث اج اح اخ اد اذ ار از اس اش اص اض اط اظ اع اغ اف اق https://data.worldbank.org/indicator/FI.RES.TOTL.CD — اخذ شدہ بتاریخ: 1 مئی 2019 — ناشر: عالمی بنک
  15. http://hdr.undp.org/en/data — ناشر: United Nations Development Programme
  16. http://data.worldbank.org/indicator/SL.UEM.TOTL.ZS
  17. http://chartsbin.com/view/edr
  18. لبنانی معلوماتی مرکز۔ "History of Lebanon". دسمبر 9, 2006.
  19. انسائکلوپیڈیا بریطانیکا۔ "Lebanon". دسمبر 10, 2006.

بیرونی روابطترميم


نقص حوالہ: "nb" نام کے حوالے کے لیے ٹیگ <ref> ہیں، لیکن مماثل ٹیگ <references group="nb"/> نہیں ملا یا پھر بند- ٹیگ </ref> ناموجود ہے