جعد بن دِرہَم (پیدائش: 666ء – وفات: 14 اکتوبر 742ء) اُموی خلافت کے اواخر سالوں میں عقیدۂ خلق قرآن کا بانی تھا۔ جعد بن درہم کے بعد اِس عقیدۂ باطلہ کے متعدد پیروکاروں نے اِسے اسلامی حکومت کی سرپرستی ملتے ہی تبلیغ و ترویج کا بیڑا اُٹھایا۔ جعد بن درہم کو کوفہ میں 742ء میں عیدالاضحیٰ کے دن قتل کیا گیا۔

جعد بن درہم
(عربی میں: الجعد بن درهم ویکی ڈیٹا پر (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 666ء  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
خراسان  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 14 اکتوبر 742ء (75–76 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کوفہ  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وجہ وفات سر قلم  ویکی ڈیٹا پر (P509) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
طرز وفات سزائے موت  ویکی ڈیٹا پر (P1196) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت سلطنت امویہ  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
استاذ بیان بن سمعان التمیمی  ویکی ڈیٹا پر (P1066) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تلمیذ خاص جہم بن صفوان،  مروان بن محمد بن مروان  ویکی ڈیٹا پر (P802) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ الٰہیات دان،  فلسفی  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان عربی  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شعبۂ عمل علم کلام  ویکی ڈیٹا پر (P101) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

سوانح ترمیم

ابتدائی حالات ترمیم

جعد بن درہم خراسان میں غالباً 46ھ مطابق 666ء میں پیدا ہوا۔ اُس کی زندگی کے جملہ حالات تاریخ میں نہیں ملتے۔

عقائد ترمیم

مزید پڑھیں: بیان بن سمعان ، خالد بن عبداللہ القسری

تاریخ اسلام میں عقیدۂ خلق قرآن کا بانی جعد بن درہم کو کہا جاتا ہے۔ اِس عقیدہ سے متعلق جعد بن درہم کا فتنہ اموی خلافت کے اواخر سالوں میں شروع ہوا تھا۔ جعد بن درہم کوفہ کا باشندہ تھا جس نے یہ عقیدہ تخلیق کیا۔ 124ھ میں کوفہ کے اُموی گورنر خالد بن عبداللہ القسری نے عیدالاضحیٰ کی نماز کے بعد اِسی جرم کی پاداش میں قتل کر دیا۔ جعد بن درہم خالد بن عبداللہ القسری کے سامنے اِس حالت میں لایا گیا کہ اُس کی مشکیں کسی ہوئی تھیں، نمازِ عید کا وقت آچکا تھا، خالد نے نماز سے فراغت کے بعد ایک خطبہ دیا۔ خطبہ کے آخر میں اُس نے کہا: ’’ لوگو! جاؤ، اپنی اپنی قربانی کے جانور ذبح کرو۔ میں نے اِرادہ کیا ہے کہ جعد بن درہم کو ذبح کروں، اِس لیے کہ یہ کہتا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام نے خدا سے باتیں نہیں کیں (یعنی کلام)، نہ خدا نے ابراہیم علیہ السلام کو اپنا دوست بنایا (ابراہیم علیہ السلام کا لقب خلیل اللہ یعنی اللہ کا دوست ہے)، خدا اِس بات سے بہت بلند ہے جو یہ کمبخت کہتا ہے‘‘۔ پھر خالد منبر سے اُترا اور جعد بن درہم کو قتل کر دیا۔[1]

کتابیات ترمیم

  • ابو زھرہ المصری: حیات امام احمد بن حنبل، مترجم رئیس احمد جعفری، مطبوعہ لاہور، 1956ء۔

حوالہ جات ترمیم

  1. حیات امام احمد بن حنبل، صفحہ 102۔

مزید دیکھیے ترمیم