مرکزی مینیو کھولیں
دی رائٹ اونر ایبل  ویکی ڈیٹا پر سابقہ شرف دہندہ (P511) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
جیفری آرچر
(انگریزی میں: Jeffrey Howard Archer ویکی ڈیٹا پر مقامی زبان میں نام (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تفصیل=

رکن دار الامرا
آغاز منصب
27 جولائی 1992ء
مدت منصب
8 دسمبر 1969ء – 10 اکتوبر 1974ء
Fleche-defaut-droite-gris-32.png سرل اوسبورن
مائیکل بروتھرٹن Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
معلومات شخصیت
پیدائش 15 اپریل 1940 (79 سال)[1][2][3][4][5]  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of the United Kingdom.svg مملکت متحدہ  ویکی ڈیٹا پر شہریت (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
جماعت کنزرویٹو پارٹی[6]  ویکی ڈیٹا پر سیاسی جماعت کی رکنیت (P102) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اولاد 2
عملی زندگی
مادر علمی بریسی نوز کالج  ویکی ڈیٹا پر تعلیم از (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ سیاست دان، ناول نگار[7]، مصنف، ڈراما نگار، سائنس فکشن مصنف، ادیب اطفال  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان انگریزی  ویکی ڈیٹا پر زبانیں (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ویب سائٹ
ویب سائٹ باضابطہ ویب سائٹ  ویکی ڈیٹا پر باضابطہ ویب سائٹ (P856) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
IMDb logo.svg
IMDB پر صفحہ  ویکی ڈیٹا پر آئی ایم ڈی بی - آئی ڈی (P345) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

جیفری ہاورڈ آرچر (پیدائش 15 اپریل 1940ء) ایک انگریز ناول نگار اور سیاست دان ہیں۔

مصنف بننے سے قبل، آرچر رکن پارلیمان (1969ء تا 1974ء) رہے، تاہم مالی بحران کے باعث دیوالیہ ہوجانے کے بعد انھوں دوبارہ انتخاب نہیں لڑا۔[8] خوب فروخت ہونے والے ناول نگار کی حیثیت سے انھوں نے ایک بار پھر اپنی کھوئی ہوئی دولت حاصل کرلی۔ دنیا بھر میں، ان کی کتابوں کے تین کروڑ سے زائد نسخے فروخت ہوچکے ہیں۔[9]

1985ء میں آرچر کنزرویٹو پارٹی کے ڈپٹی چیئرمین منتخب ہوئے، تاہم ایک اخبار کی جانب سے الزام لگائے جانے پر کہ انھوں نے ایک طوائف کو پیسے دیے تھے، انھوں نے استعفا دے دیا۔ 1987ء میں وہ مقدمہ جیت گئے اور اس الزام کے باعث انھیں ہونے والے تمام تر نقصانات کا ازالہ کر دیا گیا۔[10] 1992ء میں وہ دار الامرا کے غیر موروثی رکن بنائے گئے اور بعد ازاں وہ لندن کے پہلے منتخب شدہ ناظم کے عہدے کے لیے کنزرویٹو امیدوار کے طور پر سامنے آئے۔ 1999ء میں انھیں اس امیدواری سے تب دست بردار ہونا پڑا، جب یہ سامنے آیا کہ انھوں نے 1987ء میں اپنی ہتک عزت کے مقدمے میں جھوٹ بولا تھا۔ انھیں جھوٹا بیان دینے اور انصاف کی راہ میں حائل ہونے کے جرم میں قید کی سزا (2001ء تا 2003ء) سنائی گئی، جس کے بعد ان کا سیاسی سفر اپنے اختتام کو پہنچا۔

ابتدائی زندگی اور تعلیمترميم

جیفری ہاورڈ آرچر فنزبری کے سٹی آف لندن میٹرنٹی ہسپتال میں پیدا ہوئے۔ وہ دو ہفتے ہی کی تھے کہ ان کا گھرانا سمرسیٹ منتقل ہو گیا اور بالآخر ویسٹن-سپر-میر کے ساحلی قصبے میں رہائش اختیار کی، جہاں آرچر نے اپنی ابتدائی زندگی کا بیشتر وقت گزارا۔ آرچر کی پیدائش کے وقت ان کے والد، ولیم (متوفی 1956ء) کی عمر 64 برس تھی۔ اپنے کیریئر کی شروعات میں آرچر نے اپنے والد کے مفروضہ ملٹری کیریئر سے متعلق ذرائع ابلاغ کو چند بیانات دیے جن کا نہ صرف حقیقت سے واسطہ نہ تھا بلکہ وہ باہمی متصادم بھی تھے۔ درحقیقت ولیم آرچر ایک دو زوجی، دھوکے باز اور دغاباز شخص تھھے جنھوں نے جنگ میں کئی اعزازات حاصل کرنے والے اپنے ایک ہم نام شخص، ولیم آرچر کا روپ دھارا ہوا تھا جس کا انتقال ہوچکا تھا۔ انھوں نے مختلف وقتوں میں نیو یارک میں چیونگ گم سیلزمین اور لندن میں رہن ایجنٹ (مورگیج بروکر)کی ملازمتیں کیں۔ موخر الذکر کام کے دوران ان پر دھوکے بازی کے کئی الزامات لگے۔ ضمانت ملنے پر، انھوں نے ولیم گرم ووڈ کے نام سے امریکا کا رخ کیا۔

ولنگٹن اسکولترميم

1951ء میں، آرچر نے سمرسیٹ کے ولنگٹن اسکول میں وظیفہ حاصل کیا، اگرچہ ماضی میں وہ برک شائر کے ولنگٹن کالج میں وظیفہ ملنے کا اشارہ دے چکے ہیں، جو درست نہیں۔ اس وقت ان کی ماں، لولا، ویسٹن کے مقامی اخبار، ویسٹن مرکری (Weston Mercury) میں بطور صحافی کام کر رہی تھیں۔ وہ ’’اوور دی ٹی کپس‘‘ (Over the Teacups) کے عنوان سے ہفتہ وار کالم لکھا کرتی تھیں اور اکثر جیفری کا ذکر کرتے ہوئے اسے ’Tuppence‘ (دو پینی کا سکہ) کہا کرتیں۔ اگرچہ اس طرح علاقے میں ملنے والی شہرت سے آرچر نے خوب لطف اٹھایا، لیکن اسی کے باعث انھیں ولنٹگٹن اسکول میں ستایا بھی گیا۔

آرچر نے انگریزی ادب، آرٹ اور تاریخ میں او-لیولز کے ساتھ اسکول کی تعلیم مکمل کی۔ بعد ازاں، انھوں نے چند سال مختلف نوعیت کی ملازمتیں کرتے ہوئے گزارے، جن میں فوج کے ساتھ تربیت حاصل کرنا اور میٹروپولیٹن پولیس کے ساتھ گزارا گیا مختصر وقت بھی شامل تھا۔ اس کے بعد انھوں نے ہیمپشائر کے ویکارز ہل اور پھر کینٹ کے ڈوور کالج میں بطور جسمانی تعلیم (فزیکل ایجوکیشن) کے استاد کے طور پر کام کیا۔

اوکسفرڈترميم

1963ء میں آرچر کو ’ڈپلوما آف ایجوکیشن‘ (تعلیم میں ڈپلومے) کے لیے شعبہ برائے استمرار تعلیم، اوکسفرڈ یونیورسٹی میں جگہ کی پیش کش کی گئی۔ یہ کورس شعبے ہی میں پڑھایا جانا تھا اور آرچر براسینوز کالج کے رکن بن گئے۔ ایسے دعوے کیے جاتے رہے ہیں کہ آرچر نے براسینوز کالج میں داخلے کے لیے اپنی تعلیمی قابلیت کے غلط شواہد پیش کیے تھے۔ یہ بھی الزام لگایا گیا ہے کہ آرچر نے اے-لیول میں تین کامیابیوں اور ایک امریکی یونیورسٹی ڈگری سے متعلق بھی جھوٹا بیان جمع کروایا تھا۔ اگرچہ ڈپلوما کورس کی مدت صرف ایک سال تھی، لیکن آرچر نے اوکسفرڈ میں مجموعی طور پر تین سال گزارے۔

اوکسفرڈ میں گزارے عرصے کے دوران، آرچر ایتھلیٹکس میں کامیاب رہے اور تیز دوڑ اور رکاوٹی دوڑ کے مقابلوں میں حصہ لیا۔ بعد ازاں وہ اوکسفرڈ یونیورسٹی ایتھلیٹکس کلب کے صدر بن گئے۔ 1964ء کی تیز دوڑ کی ٹیلی ویژن کوریج سے ظاہر ہوا کہ انھوں نے دوڑ شروع کرتے ہوئے بے ایمانی کی تھی تاہم انھیں مقابلے سے باہر نہیں کیا گیا۔ ایتھلیٹکس میں نیلا تمغا حاصل کرنے کے بعد انھوں نے انگلستان کی طرف سے دوڑ میں حصہ لیا اور کامیابی حاصل کی۔

حتیٰ کے بطور طالبِ علم بھی، جیفری آرچر کی مالیاتی ہیر پھیر کی افواہیں گرم رہیں - ان کے ساتھی طلبہ حیران تھے کہ اوکسفیم کے جز وقتی چندہ کار کے طور پر کام کرنے کے دوران بھی ان کے پاس اپنے گھر تھے اور ان کی گاڑیوں پر اپنی مرضی کی نمبر پلیٹیں تھیں۔

اوائل کیریئرترميم

اوکسفرڈ چھوڑنے کے بعد، آرچر نے خیراتی چندہ کار کے طور پر کام جاری رکھا اور ابتدا میں نیشنل برتھ ڈے ٹرسٹ کے لیے کام کیا جو محفوظ پیدائش کو فروغ دینے والا ایک طبی خیراتی ادارہ تھا۔ بعد ازاں انھوں نے بطور اعلیٰ چندہ کار، یونائیٹڈ نیشنز ایسوسی ایشن (یو این اے) میں شمولیت اختیار کی۔ یو این اے کے اس وقت کے سربراہ، ہمفری برکلے نے الزام لگایا تھا کہ ان کے ادارے کے ساتھ کام کے عرصے کے دوران آرچر کے اخراجات کے دعووں میں کئی بے قاعدگیاں پائی گئی تھیں۔

اس عرصے میں، آرچر نے سیاست میں اپنے کیریئر کا آغاز کیا اور گریٹ لندن کونسل میں بطور کنزرویٹو کونسلر (1967ء تا 1970ء) خدمات انجام دیں۔

آرچر نے 1969ء میں ایرو انٹرپرائزز کے نام سے اپنی ذاتی فنڈ ریزنگ اور پبلک ریلیشنز کمپنی قائم کی۔ اسی سال انھوں نے مے فیئر میں ’آرچر گیلری‘ کے نام سے ایک آرٹ گیلری بھی کھولی۔ البتہ گیلری بتدریج نقصان میں جاتی رہی اور آرچر نے دو سال بعد اسے بیچ دیا۔

رکن پارلیمانترميم

مالی بحرانترميم

بطور لکھاریترميم

فہرست تخلیقاتترميم

کین اینڈ ایبل سیریزترميم

  • کین اور ایبل (Kane and Able)۔ 1979ء
  • فضول خرچ بیٹی (The Prodigal Daughter)۔ 1982ء
  • کیا ہم صدر کو بتادیں؟ (Shal We Tell the President?)۔ نظر ثانی شدہ اشاعت 1986ء

کلفٹن کرونیکلزترميم

  • وقت ہی بتائے گا (Only Time Will Tell)۔ 2011ء
  • دی سنز آف دی فادر (The Sins of the Father)۔ 2012ء
  • بہترین پوشیدہ راز (Best Kept Secret)۔ 2013ء
  • خواہش کرتے ہوئے احتیاط کرو (Be Careful What You Wish For)۔ 2014ء
  • تلوار سے تیز (Mightier Than the Sword)۔ 2015ء
  • اگلی گھڑی (Cometh The Hour)۔ 2016ء
  • یہ آدمی تھا (This Was a Man)۔ 2016ء

دیگر ناولترميم

  • Not a Penny More, Not a Penny Less۔ 1976ء
  • Shall We Tell the President?۔ 1977ء
  • First Among Equals۔ 1984ء
  • A Matter of Honour۔ 1986ء
  • As the Crow Flies۔ 1991ء
  • Honour Among Thieves۔ 1993ء
  • The Fourth Estate۔ 1996ء
  • The Eleventh Commandment۔ 1998ء
  • Sons of Fortune۔ 2002ء
  • False Impression۔ 2005ء
  • The Gospel According to Judas۔ 2007ء
  • A Prisoner of Birth۔ 2008ء۔
  • Paths of Glory۔ 2009ء
  • Heads You Win۔ 2018ء

حوالہ جاتترميم

  1. آئی ایم ڈی بی - آئی ڈی: https://tools.wmflabs.org/wikidata-externalid-url/?p=345&url_prefix=https://www.imdb.com/&id=nm0033676 — اخذ شدہ بتاریخ: 14 اکتوبر 2015
  2. ISFDB author ID: http://www.isfdb.org/cgi-bin/ea.cgi?116441 — بنام: Jeffrey Archer — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  3. RKDartists ID: https://rkd.nl/explore/artists/441122 — بنام: Jeffrey Archer — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  4. Munzinger person ID: https://www.munzinger.de/search/go/document.jsp?id=00000017709 — بنام: Jeffrey Archer — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  5. بنام: Jeffrey Archer — abART person ID: http://www.isabart.org/person/143105
  6. https://www.theguardian.com/politics/2018/jul/01/jonathan-aitken-warns-of-high-voltage-egos-in-first-sermon-as-deacon — اخذ شدہ بتاریخ: 19 جولا‎ئی 2018
  7. https://timesofindia.indiatimes.com/life-style/books/writeindia/season-2/writeindiaauthor/57084891.cms — اخذ شدہ بتاریخ: 19 جولا‎ئی 2018
  8. کرسٹینا اوڈون (21 مارچ 2013ء)۔ "HOME»CULTURE»BOOKS»AUTHOR INTERVIEWS Jeffrey Archer: 'Mary would run the NHS beautifully'" (انگریزی زبان میں)۔ دی ٹیلیگراف۔ Unknown parameter |trans_title= ignored (معاونت); line feed character in |title= at position 37 (معاونت)
  9. اینتھونی ہوروٹز (7 مئی 2011ء)۔ "Jeffrey Archer interview: the saga continues" (انگریزی زبان میں)۔ دی ٹیلیگراف۔ Unknown parameter |trans_title= ignored (معاونت)
  10. کیرولین ڈیویس (20 جولائی 2001ء)۔ "He lied his way to the top" (انگریزی زبان میں)۔ دی ٹیلیگراف۔ Unknown parameter |trans_title= ignored (معاونت)

بیرونی روابطترميم