حنیف رامے پیدائش: 1930ءوفات:جنوری 2006ء پنجاب کے سابق گورنر، وزیر اعلی، دانشور، خطاط اور مصور۔تھے جوفیصل آباد اور ننکانہ کے قریب گاؤں پنچک بچیکی میں پیدا ہوئے۔آرائیں کاشتکار برادری سے تعلق رکھنے والے حنیف رامے کے والد کا نام چودھری غلام حسین تھا۔ دس سال کی عمر میں وہ لاہور آئے اور اسلامیہ ہائی اسکول بھاٹی گیٹ سے تعلیم حاصل کی۔


حنیف رامے نے انیس سو باون میں گورنمنٹ کالج لاہور سے معاشیات میں ایم اے کیا جہاں وہ کا لج کے رسالہ راوی کے مدیر بھی رہے۔ کچھ عرصہ لارنس کالج گھوڑا گلی میں استاد رہے۔ بعد میں اپنے بڑے بھائی چودھری نذیر کے معروف اشاعتی ادارہ مکتبہ جدید سے بطور مدیر وابستہ ہو گئے۔ انھوں نے سال معروف ادبی رسالہ سویرا کی ادارت بھی کی۔ حنیف رامے نے سویرا سے الگ ہوکر اپنا رسالہ ہفت روزہ نصرت جاری کیا جو بہت علمی رسالہ تھا اور اس نے جدید علمی نظریات اردو دان طبقہ تک پہنچائے۔ انھوں نے اپنا اشاعتی ادارہ بھی البیان کے نام سے بنایا۔

وہ انیس سو پینسٹھ میں سرکاری ادبی ادارہ مرکزی اردو بورڈ سے وابستہ ہوئے اور اس کے ڈائریکٹر رہے۔ کچھ عرصہ صدر فیلڈ مارشل ایوب خان کی کنوینشن لیگ سے وابستہ رہنے کے بعد وہ دسمبر انیس سو سڑسٹھ میں وہ پیپلز پارٹی کی اصولی کمیٹی کے رکن بنے۔ انھوں نے انیس سو ستر میں روزنامہ مساوات جاری کیا جو پیپلز پارٹی کا ترجمان اخبار تھا۔ اسلامی سوشلزم کی اصلاح کو فروغ دینے والوں میں حنیف رامے پیش پیش تھے جو پیپلز پارٹی کے چار بنیادی اصولوں میں سے ایک اصول تھا۔

انیس سو بہتر میں پاکستان پیپلز پارٹی کے عہد میں وہ پہلے پنجاب حکومت میں مشیر خزانہ بنے اور بعد میں مارچ انیس سو چوہتر میں وزیر اعلیٰ پنجاب منتخب ہوئے۔ چار جولائی انیس سو چوہتر کو وہ اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے۔ حنیف رامے چار جولائی انیس سو پچہتر کو سنیٹر منتخب ہوئے لیکن چند ماہ بعد پارٹی کے سربراہ ذوالفقار علی بھٹو سے اختلافات کی بنا پر پارٹی سے الگ ہو گئے اور فورا پاکستان مسلم لیگ میں شامل ہو گئے جہاں انھیں چیف آرگنائزر بنایا گیا۔ اس زمانے میں انھوں نے ذو الفقار علی بھٹو کے خلاف اخباروں میں زوردار مضامین لکھے جن میں ایک پمفلٹ ’بھٹو جی پھٹو جی’ بہت مشہور ہوا۔

وزیر اعظم ذو الفقار علی بھٹو نے اپنے دیگر دیرینہ ساتھیوں کی طرح حنیف رامے پر بھی ڈیفنس آف پاکستان رولز کے تحت مقدمہ قائم کیا جس پر انھیں دلائی کیمپ میں رکھا گیا اور ایک خصوصی عدالت نے انھیں ساڑھے چار سال قید کی سزا سنادی۔ جنرل ضیاالحق کا مارشل لگتے ہی جولائی انیس سو ستتر میں لاہور ہائی کورٹ نے حنیف رامے کو فورا رہا کرنے کا حکم دیا اور وہ امریکا چلے گئے۔ وہاں انھوں نے برکلے یونیورسٹی میں استاد کے طور پر کام کیا۔

حنیف رامے چھ سال امریکا میں گزارنے کے بعد وطن واپس آئے تو انھوں نے مساوات پارٹی کی بنیاد رکھی جس کا نعرہ تھا رب روٹی، لوک راج۔ تاہم یہ پارٹی عوامی مقبولیت حاصل نہیں کرسکی۔ انھوں نے سنہ انیس سو چھیاسی میں اسے غلام مصطفے جتوئی کی قیادت میں بننے والی نئی پارٹی نیشنل پیپلز پارٹی میں ضم کر دیا۔ حنیف رامے بارہ سال بعد ایک بار پھر انیس سو اٹھاسی میں پیپلز پارٹی میں شامل ہو گئے اور انیس سو ترانوے میں رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے اور اسمبلی کے سپیکر منتخب ہو گئے۔ رامے صاحب نے ایک مشہور کتاب پنجاب کا مقدمہآرکائیو شدہ (Date missing) بذریعہ books.urdunama.org (Error: unknown archive URL) بھی لکھی۔ عمر کے آخر حصے میں انھوں نے قومی اخبارات میں انھوں نے چند مضامین لکھے جن میں عالم اسلام کو جدید دنیا میں اسلام کی ترقی پسندانہ تعبیر اور جدید تعلیم پر زور دینے کا راستہ تجویز کیا۔

سنہ 1960ء کی دہائی میں اردو ادب کے مشہور و معروف مصنف ابن صفی کی جاسوسی دنیا ”فریدی حمید سیریز“ اور عمران سیریز کے ایک سہ رنگے ایڈیشن کے سر اوراق بھی حنیف رامے نے بنائے تھے۔حنیف رامے کی پہلی بیوی شاہین رامے سولہ سال پہلے انتقال کرگئیں تھیں اور انھوں نے جائس سکینہ نامی ایک امریکی خاتون سے دوسری شادی کی۔ ان کی بیٹی مریم رامے اپنے دور کی مشہور گلوکارہ رہیں۔

تصانیف

ترمیم
  1. اسلام کی روحانی قدریں
  2. دن کا پھول ، نظمیں
  3. باز آؤ اور زندہ رہو
  4. دب اکبر
  5. پنجاب کا مقدمہ

مزید دیکھیے

ترمیم

حوالہ جات

ترمیم